Showing posts with label ضیا کرناٹکی. Show all posts
Showing posts with label ضیا کرناٹکی. Show all posts

Friday, 29 January 2021

آ گیا پھر سے وہی آگ لگانے والا

 آ گیا پھر سے وہی آگ🔥 لگانے والا

مِری بستی کے ہر اک گھر کو جلانے والا

نام لے کر میں اسے کس لیے بدنام کروں

یہیں بیٹھا ہے مِرے دل کو دکھانے والا

آج کی رات چراغوں کو جلائے رکھنا

عمر بھر کی میں کہانی ہوں سنانے والا

Monday, 14 April 2014

زندگی کو سنبھال کے رکھنا

زندگی کو سنبھال کے رکھنا
تلخیوں کو نکال کے رکھنا
یہ تو اچھا نہیں تمہارے لئے
دل میں ہر غم کو پال کے رکھنا
ساری دنیا کے روبرو اپنے
تجربوں کو کھنگال کے رکھنا

حوصلوں کے نہ بال و پر دیکھو

حوصلوں کے نہ بال و پر دیکھو
آ کے اب تم میرا جگر دیکھو
رات بھر جاگتے رہے ہو تم
کیسے ہوتی ہے اب سحر دیکھو
تم کو فرصت کبھی جو مل جائے
اپنے بارے میں سوچ کر دیکھو

ہم نے سکون دل کی ناکام آرزو کی

ہم نے سکونِ دل کی ناکام آرزو کی
اس شہر بیکراں میں کس شے کی جستجو کی
اِک بار چاک ہو تو دامن کو سی بھی لیں گے
سو بار چاک ہو تو تجویز کیا رفو کی
حد سے سوا غموں نے تڑپا دیا تو دِل نے
گھرآ کے زندگی سے مرنے کی آرزو کی

اردو زباں کے حسن پہ قربان جاؤ تم

اردو زباں کے حُسن پہ قربان جاؤ تم

اردو زباں کی گود میں آرام پاؤ گے
آرام کیا ہے دوستو الہام پاؤ گے
خدمت کرو زبان کی انعام پاؤ گے
نسبت سے اس کی تم بھی تو کچھ نام پاؤ گے
اردو تمہاری جان ہے یوں جان جاؤ تم
اے بھائیو! یہ بات میری مان جاؤ تم