Tuesday, 20 October 2026

لگ گیا عشق کا آزار بڑی مشکل ہے

 لگ گیا عشق کا آزار بڑی مُشکل ہے

ہوں گے رُسوا سرِ بازار بڑی مشکل ہے

بات سچ کہنا کسی دور میں آسان نہیں

اور پھر وہ بھی سرِ دار بڑی مشکل ہے

یہ تو معلوم ہے کرتے ہیں محبت مجھ سے

وہ زباں سے کریں اقرار بڑی مشکل ہے

عُمر درکار ہے لہجے کے سمجھنے کے لیے

آپ کی شوخئ گُفتار بڑی مشکل ہے

راہِ اُلفت کا سفر، اور سفر بھی تنہا

کوئی اپنا نہیں غمخوار بڑی مشکل ہے


برجیس طلعت نظامی

No comments:

Post a Comment