Tuesday, 6 October 2026

گئے ہیں دیس کو ہم اپنے چھوڑ کر بھی نہیں

 گئے ہیں دیس کو ہم اپنے چھوڑ کر بھی نہیں

مہاجرت کے لیے شرط اب سفر بھی نہیں

اسی جہان میں رہتے ہیں خوبرو ایسے

یقین مجھ کو ہوا اس کو دیکھ کر بھی نہیں

مرے وجود میں گھل مل کے کر گیا تنہا

وہ ایک شخص جو آیا کبھی نظر بھی نہیں

وہ اک کتاب گئی تھی دلوں سے طاقوں پر

اب ایسی دور ہوئی ہے کہ طاق پر بھی نہیں

غم اور خوشی نہیں موقوف رونے ہنسنے پر

اور ان حوالوں سے اظہار معتبر بھی نہیں


محمد اعظم

No comments:

Post a Comment