تو کیا ہو گا؟
چلو رستہ بدلتے ہیں
کہیں انجان راہوں پر
کسی انجان منزل کی طرف آؤ نکلتے ہیں
ہمیں ہمراہ چلنا تھا
مگر شاید نہیں ممکن
ہمیں رستہ بدلنا ہے
تو کیا ہو گا؟
چلو رستہ بدلتے ہیں
کہیں انجان راہوں پر
کسی انجان منزل کی طرف آؤ نکلتے ہیں
ہمیں ہمراہ چلنا تھا
مگر شاید نہیں ممکن
ہمیں رستہ بدلنا ہے
اس کی پلکوں پہ کوئی خواب سجا رہنے دے
حبس بڑھ جائے گا اس در کو کُھلا رہنے دے
میرے مالک تو بھلے چھین لے گویائی مِری
میرے ہونٹوں پہ فقط ایک دُعا رہنے دے
میرے خوابوں کو بھٹکنے سے بچانے کے لیے
شب کی دہلیز پہ یادوں کا دِیا رہنے دے
سندیسہ
سجنی موسم بدل رہا ہے
سرما کی پہلی بارش نے
دروازے پر دستک دی ہے
سرد ہوائیں مجھ سے تیرا پوچھ رہی ہیں
سُوپ کے کپ سے اٹھنے والی بھاپ میں
زخم میرے کریدنے والو
خون رِستا ہے درد ہوتا ہے
آہ بھرنے سے داغ جلتے ہیں
ضبط کرنے سے سانس رکتی ہے
لفظ نازک سا اک سہارا ہیں
ہجر کو نظم میں پرونے کا
کبھی جو میں نہیں ہوں گا
تمہیں سب یاد آئے گا
وہ میری بے کراں چاہت
تمہارے نام کی عادت
وہ میرے عشق کی شدت
وصال و ہجر کی لذت
سنو جاناں
جولائی آ گیا ہے
گھٹن اوڑھے ہوئے دن ہیں
کہ جن میں دھوپ نیزے کی انی بن کر
بدن کو چیرے جاتی ہے
ہوا کے لمس سے نا آشنا شامیں
حقیقت آشنا میرے
ہمیں جیون کے رستوں پر کہاں تک ساتھ چلنا ہے
کہاں وہ موڑ ہے جس نے ہمیں تنہائی دینی ہے
کہاں تک تم مجھے تھامو گے جب گرنے لگوں گا میں
کہاں پر اس طرح ہو گا کہ تم مجھ کو نہ تھامو گے
تمہیں آواز دوں گا تم میری جانب نہ دیکھو گے
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
رسم مت نبھایا کر
مجھ سے گر نہیں ملنا
یاد بھی نہ آیا کر
عاطف سعید
سنا ہے سرد موسم میں
پرانے درد پھر سے جاگ جاتے ہیں
تبھی شاید
گئی رت کے کئی ٹوٹے ہوئے سپنے
بہت سے ان کہے مصرعے
بہت سی ان کہی نظمیں
ابھی تک کچھ نہیں بدلا
جہاں پر تم نے چھوڑا تھا
وہیں موجود ہوں شاید بہت محدود ہوں
دیکھو ابھی تک کچھ نہیں بدلا
مِرے بستر پہ وہی رات تکیے سے لپٹ کر رو رہی ہے
جس کا ہم نے ’وصل کی شب‘ نام رکھا تھا
تُو پاس مِرے ہو تو
لمحوں کے گزرنے کا
اور وقت کے ڈھلنے کا
احساس نہیں ہوتا
لمحوں کے گزرنے کا
اور وقت کے ڈھلنے کا
مختصر نظم
کیا عجیب رشتہ ہے
درد اور محبت میں
جس قدر محبت میں، شدتیں مہکتی ہیں
درد بڑھتا جاتا ہے
عاطف سعید
تِرا ہونا بہت ضروری ہے
وہ بهی اک شام فروری کی تهی
جب تِری خواب نما آنکهوں میں
میری چاہت کی دهنک اتری تهی
جب یہ ادراک ہوا تها مجھ کو
میرے جیون میں اجالوں کے لیے
تیرا ہونا بہت ضروری ہے
سنا ہے سرد موسم میں
پرانے درد پھر سے جاگ جاتے ہیں
تبھی شاید
گئی رت کے کئی ٹوٹے ہوئے سپنے
بہت سے ان کہے مصرعے، بہت سی ان کہی نظمیں
تمہاری یاد کی بارش میں بھیگے خشک پتوں سے بھرے رستے
ساتھ جس کے رہیں سدا آنکھیں
اس سے کیسے کروں جدا آنکھیں
سب محبت کے استعارے ہیں
چاند، بادل، دھنک، ہوا ، آنکھیں
لفظ سارے ہی ہو گئے گیلے
میں نے کاغذ پہ جب لکھا آنکھیں
دل چاہتا ہے
اس یخ بستہ سردی میں
سمندر کنارے جا بیٹھوں
اور پاؤں پانی میں لٹکا کر
تیری طرف بڑھتے قدموں کی
خواہش کو منجمد کر دوں
اوڑھ لی ہے خاموشی، گفتگو نہیں کرنی
دل کو مار دینا ہے ، آرزو نہیں کرنی
اب تمہاری راہوں میں دھول بھی نہیں ہونا
اور، تم کو پانے کی جستجو نہیں کرنی
احترام ہے دل میں اس قدر تِرا جاناں
بات بھی بچھڑنے کی بے وضو نہیں کرنی
کیا عجیب رشتہ ہے
خواب اور حقیقت میں
جس قدر بھی اچھے ہوں
خواب ٹوٹ جاتے ہیں
اور یہ حقیقت ہے
عاطف سعید