Showing posts with label عاطف سعید. Show all posts
Showing posts with label عاطف سعید. Show all posts

Friday, 3 November 2023

تم اپنے راستے جاؤ میں اپنی راہ چلتا ہوں

 تو کیا ہو گا؟


چلو رستہ بدلتے ہیں

کہیں انجان راہوں پر

کسی انجان منزل کی طرف آؤ نکلتے ہیں

ہمیں ہمراہ چلنا تھا

مگر شاید نہیں ممکن

ہمیں رستہ بدلنا ہے

Friday, 17 March 2023

اس کی پلکوں پہ کوئی خواب سجا رہنے دے

 اس کی پلکوں پہ کوئی خواب سجا رہنے دے

حبس بڑھ جائے گا اس در کو کُھلا رہنے دے

میرے مالک تو بھلے چھین لے گویائی مِری

میرے ہونٹوں پہ فقط ایک دُعا رہنے دے

میرے خوابوں کو بھٹکنے سے بچانے کے لیے

شب کی دہلیز پہ یادوں کا دِیا رہنے دے

Sunday, 16 October 2022

سجنی موسم بدل رہا ہے

 سندیسہ

سجنی موسم بدل رہا ہے

سرما کی پہلی بارش نے 

دروازے پر دستک دی ہے

سرد ہوائیں مجھ سے تیرا پوچھ رہی ہیں

سُوپ کے کپ سے اٹھنے والی بھاپ میں 

Friday, 14 October 2022

زخم میرے کریدنے والو

 زخم میرے کریدنے والو

خون رِستا ہے درد ہوتا ہے

آہ بھرنے سے داغ جلتے ہیں

ضبط کرنے سے سانس رکتی ہے

لفظ نازک سا اک سہارا ہیں

ہجر کو نظم میں پرونے کا

Thursday, 6 October 2022

تمہیں سب یاد آئے گا کبھی جو میں نہیں ہوں گا

 کبھی جو میں نہیں ہوں گا

تمہیں سب یاد آئے گا

وہ میری بے کراں چاہت

تمہارے نام کی عادت

وہ میرے عشق کی شدت

وصال و ہجر کی لذت

Sunday, 10 July 2022

چلے بھی آؤ اب جاناں تمہیں بارش بلاتی ہے

 سنو جاناں

جولائی آ گیا ہے

گھٹن اوڑھے ہوئے دن ہیں

کہ جن میں دھوپ نیزے کی انی بن کر 

بدن کو چیرے جاتی ہے

ہوا کے لمس سے نا آشنا شامیں

Wednesday, 8 June 2022

حقیقت آشنا میرے ہمیں جیون کے رستوں پر کہاں تک ساتھ چلنا ہے

 حقیقت آشنا میرے

ہمیں جیون کے رستوں پر کہاں تک ساتھ چلنا ہے

کہاں وہ موڑ ہے جس نے ہمیں تنہائی دینی ہے

کہاں تک تم مجھے تھامو گے جب گرنے لگوں گا میں

کہاں پر اس طرح ہو گا کہ تم مجھ کو نہ تھامو گے

تمہیں آواز دوں گا تم میری جانب نہ دیکھو گے

Sunday, 27 March 2022

یاد بھی نہ آیا کر

ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے


رسم مت نبھایا کر 

مجھ سے گر نہیں ملنا

یاد بھی نہ آیا کر


عاطف سعید

Monday, 7 March 2022

پرندے لوٹ کر اپنے گھروں کی سمت آتے ہیں

 سنا ہے سرد موسم میں

پرانے درد پھر سے جاگ جاتے ہیں

تبھی شاید

گئی رت کے کئی ٹوٹے ہوئے سپنے

بہت سے ان کہے مصرعے

بہت سی ان کہی نظمیں

Thursday, 10 February 2022

ابھی تک کچھ نہیں بدلا

 ابھی تک کچھ نہیں بدلا

جہاں پر تم نے چھوڑا تھا

وہیں موجود ہوں شاید بہت محدود ہوں

دیکھو ابھی تک کچھ نہیں بدلا

مِرے بستر پہ وہی رات تکیے سے لپٹ کر رو رہی ہے

جس کا ہم نے ’وصل کی شب‘ نام رکھا تھا

Thursday, 25 February 2021

تو پاس مرے ہو تو

 تُو پاس مِرے ہو تو 

لمحوں کے گزرنے کا 

اور وقت کے ڈھلنے کا 

احساس نہیں ہوتا 

لمحوں کے گزرنے کا 

اور وقت کے ڈھلنے کا

Wednesday, 24 February 2021

کیا عجیب رشتہ ہے درد اور محبت میں

 مختصر نظم


کیا عجیب رشتہ ہے

درد اور محبت میں 

جس قدر محبت میں، شدتیں مہکتی ہیں 

درد بڑھتا جاتا ہے


عاطف سعید

Monday, 1 February 2021

وہ بهی اک شام فروری کی تهی

 تِرا ہونا بہت ضروری ہے


وہ بهی اک شام فروری کی تهی

جب تِری خواب نما آنکهوں میں

میری چاہت کی دهنک اتری تهی

جب یہ ادراک ہوا تها مجھ کو

میرے جیون میں اجالوں کے لیے

تیرا ہونا بہت ضروری ہے

Thursday, 7 January 2021

سنا ہے سرد موسم میں

 سنا ہے سرد موسم میں

پرانے درد پھر سے جاگ جاتے ہیں

تبھی شاید

گئی رت کے کئی ٹوٹے ہوئے سپنے

بہت سے ان کہے مصرعے، بہت سی ان کہی نظمیں

تمہاری یاد کی بارش میں بھیگے خشک پتوں سے بھرے رستے

Wednesday, 6 January 2021

ساتھ جس کے رہیں سدا آنکھیں

 ساتھ جس کے رہیں سدا آنکھیں

اس سے کیسے کروں جدا آنکھیں

سب محبت کے استعارے ہیں

چاند، بادل، دھنک، ہوا ، آنکھیں

لفظ سارے ہی ہو گئے گیلے

میں نے کاغذ پہ جب لکھا آنکھیں

Sunday, 3 January 2021

دل چاہتا ہے خواہش کو منجمد کر دوں

 دل چاہتا ہے

اس یخ بستہ سردی میں

سمندر کنارے جا بیٹھوں

اور پاؤں پانی میں لٹکا کر

تیری طرف بڑھتے قدموں کی

خواہش کو منجمد کر دوں

Saturday, 2 January 2021

اوڑھ لی ہے خاموشی گفتگو نہیں کرنی

 اوڑھ لی ہے خاموشی، گفتگو نہیں کرنی

دل کو مار دینا ہے ، آرزو نہیں کرنی

اب تمہاری راہوں میں دھول بھی نہیں ہونا

اور، تم کو پانے کی جستجو نہیں کرنی

احترام ہے دل میں اس قدر تِرا جاناں

بات بھی بچھڑنے کی بے وضو نہیں کرنی

Saturday, 26 December 2020

کیا عجیب رشتہ ہے خواب اور حقیقت میں

 کیا عجیب رشتہ ہے

خواب اور حقیقت میں

جس قدر بھی اچھے ہوں

خواب ٹوٹ جاتے ہیں

اور یہ حقیقت ہے


عاطف سعید

Monday, 3 August 2020

گزر رہی ہے بنا تمہارے

گزر گئی ہے
گزر رہی ہے
بنا تمہارے
یہ عید ہمدم
کہ جیسے میری
یہ زندگی بھی
بنا تمہارے گزر رہی ہے

عاطف سعید

Thursday, 22 September 2016

یہ جو غم کا حصار رہتا ہے

یہ جو غم کا حصار رہتا ہے 
کون آنکھوں کے پار رہتا ہے
عشق جب اوڑھ لے جدائی تو
انتظار، ۔۔۔ انتظار رہتا ہے
روز کرتے ہو اک نیا وعدہ 
یوں بھلا اعتبار رہتا ہے ؟