حل ہوئی نہ جو، ایسی پہیلی ہوں میں
اک مصیبت زدہ سی حویلی ہوں میں
ڈس رہی ہیں جسے وقت کی ناگنیں
ایسی مظلوم صورت ہتھیلی ہوں میں
پھٹ پڑی ہیں مرے جسم سے ظلمتیں
دیکھ لے، تیرگی کی سہیلی ہوں میں
حل ہوئی نہ جو، ایسی پہیلی ہوں میں
اک مصیبت زدہ سی حویلی ہوں میں
ڈس رہی ہیں جسے وقت کی ناگنیں
ایسی مظلوم صورت ہتھیلی ہوں میں
پھٹ پڑی ہیں مرے جسم سے ظلمتیں
دیکھ لے، تیرگی کی سہیلی ہوں میں
شب چراغوں کی قبا سے نکلتی روشنی
صبح کے پہلو میں کیا جی سکے گی روشنی
میں تِری آنکھوں سے بہتا ہوا تازہ لہو
تُو مِری دھڑکن میں ہر پل سسکتی روشنی
میں نے ہر سُکھ میں تجھے لاڈ سے رکھا تھا یار
کاش! میرے دُکھ میں تُو ساتھ رہتی روشنی
کسی کی آہ، کسی کی ہوئی انا وارث
ہم ایسے لوگ ہیں جن کا فقط خدا وارث
جلا کے طاق میں رکھا تھا روشنی کے لیے
مِرے چراغ کی پھر ہو گئی ہوا وارث
تمہارے نام سے جوڑی تھی زندگی میں نے
تمہارے بعد ہُوا کون؟ پھر مِرا وارث
تروینی
اک طرف تھی شاہی تو دوسری طرف تھے تم
میں یتیم شہزادی، تخت چھوڑتی یا تم؟
فیصلہ کٹھن تھا، سو زیست چھوڑ دی میں نے
سدرہ غلام رسول
تروینی
بانسری تھام وے رانجھنا
چھیڑ اپنی محبت کے راگ
دیکھ! ملنے کو آئی ہے ہِیر
سدرہ غلام رسول
دشتِ وحشت میں نہ دیوار اٹھائیں، جائیں
ہم اسیروں کے نہ آزار بڑھائیں، جائیں
زندگی قید ہے وقتوں کی، کئی گھڑیوں میں
آپ جب چاہیں سمے روک کے آئیں، جائیں
ہم کو زنجیر میں جکڑا ہے اداسی نے میاں
ٹوٹنے والے ہیں، ہم کو نہ ستائیں، جائیں
چوتھا گواہ
وہ بے خبر تھا
اسے ہمیشہ یہ لگتا تھا کہ
مِری محبت کی داستاں کے
یہ تین ہی تو گواہ ہیں بس
میں ہوں، وہ ہے اور تیسرا رب
جوگی تیری جوگن
جوگیا! تیری بات بھی جوگی
جوگ جوگن کا، ساتھ بھی جوگی
سُن کے تیری پرِیت کی سرگم
ہو گئی کائنات بھی جوگی
دیکھ مرزا کی موت نے کر دی
صاحبہ کی حیات بھی جوگی
کون دیکھے گا (پارٹ 2)
تِری خاطر ہوئے پامال کو اب کون دیکھے گا؟
دُکھوں سے زرد پڑتے گال کو اب کون دیکھے گا
تمہی تو دیکھتے تھے سب، تمہی مٹی میں جا سوئے
مِرے اُجڑے ہوئے اس حال کو اب کون دیکھے گا
مِرے ہمدم، مِرے ساتھی، مِرے دلبر، تمہارے بعد
مِری قسمت میں آئے کال کو اب کون دیکھے گا
کون دیکھے گا (پارٹ 1)
سُلگتی دھوپ میں اُگتے شرارے کون دیکھے گا
مِری پلکوں سے گرتے چاند تارے کون دیکھے گا
چُھڑا لو ہاتھ بے شک تم، مگر اتنا بتا جاؤ
تمہارے بعد جو ہوں گے خسارے، کون دیکھے گا
تم ایسے رُوٹھ جاؤ گے، تو منظر رُوٹھ جائیں گے
مِری آنکھوں سے پھر دلکش نظارے، کون دیکھے گا