Showing posts with label سدرہ غلام رسول. Show all posts
Showing posts with label سدرہ غلام رسول. Show all posts

Tuesday, 12 April 2022

حل ہوئی نہ جو ایسی پہیلی ہوں میں

 حل ہوئی نہ جو، ایسی پہیلی ہوں میں

اک مصیبت زدہ سی حویلی ہوں میں

ڈس رہی ہیں جسے وقت کی ناگنیں

ایسی مظلوم صورت ہتھیلی ہوں میں

پھٹ پڑی ہیں مرے جسم سے ظلمتیں

دیکھ لے، تیرگی کی سہیلی ہوں میں

Wednesday, 26 January 2022

شب چراغوں کی قبا سے نکلتی روشنی

 شب چراغوں کی قبا سے نکلتی روشنی

صبح کے پہلو میں کیا جی سکے گی روشنی

میں تِری آنکھوں سے بہتا ہوا تازہ لہو

تُو مِری دھڑکن میں ہر پل سسکتی روشنی

میں نے ہر سُکھ میں تجھے لاڈ سے رکھا تھا یار

کاش! میرے دُکھ میں تُو ساتھ رہتی روشنی

Monday, 24 January 2022

کسی کی آہ کسی کی ہوئی انا وارث

 کسی کی آہ، کسی کی ہوئی انا وارث

ہم ایسے لوگ ہیں جن کا فقط خدا وارث

جلا کے طاق میں رکھا تھا روشنی کے لیے

مِرے چراغ کی پھر ہو گئی ہوا وارث

تمہارے نام سے جوڑی تھی زندگی میں نے

تمہارے بعد ہُوا کون؟ پھر مِرا وارث

Sunday, 26 December 2021

زیست چھوڑ دی میں نے

 تروینی


اک طرف تھی شاہی تو دوسری طرف تھے تم

میں یتیم شہزادی، تخت چھوڑتی یا تم؟

فیصلہ کٹھن تھا، سو زیست چھوڑ دی میں نے


سدرہ غلام رسول

Friday, 24 December 2021

بانسری تھام وے رانجھنا

 تروینی


بانسری تھام وے رانجھنا

چھیڑ اپنی محبت کے راگ

دیکھ! ملنے کو آئی ہے ہِیر


سدرہ غلام رسول

Wednesday, 22 December 2021

دشت وحشت میں نہ دیوار اٹھائیں جائیں

 دشتِ وحشت میں نہ دیوار اٹھائیں، جائیں

ہم اسیروں کے نہ آزار بڑھائیں، جائیں

زندگی قید ہے وقتوں کی، کئی گھڑیوں میں  

آپ جب چاہیں سمے روک کے آئیں، جائیں

ہم کو زنجیر میں جکڑا ہے اداسی نے میاں

ٹوٹنے والے ہیں، ہم کو نہ ستائیں، جائیں

Tuesday, 21 December 2021

چوتھا گواہ وہ بے خبر تھا

 چوتھا گواہ


وہ بے خبر تھا

اسے ہمیشہ یہ لگتا تھا کہ 

مِری محبت کی داستاں کے

 یہ تین ہی تو گواہ ہیں بس

میں ہوں، وہ ہے اور تیسرا رب

Monday, 20 December 2021

جوگیا تیری بات بھی جوگی

جوگی تیری جوگن


 جوگیا! تیری بات بھی جوگی

جوگ جوگن کا، ساتھ بھی جوگی

سُن کے تیری پرِیت کی سرگم

ہو گئی کائنات بھی جوگی

دیکھ مرزا کی موت نے کر دی

صاحبہ کی حیات بھی جوگی

Sunday, 19 December 2021

تری خاطر ہوئے پامال کو اب کون دیکھے گا

 کون دیکھے گا (پارٹ 2)


تِری خاطر ہوئے پامال کو اب کون دیکھے گا؟

دُکھوں سے زرد پڑتے گال کو اب کون دیکھے گا

تمہی تو دیکھتے تھے سب، تمہی مٹی میں جا سوئے

مِرے اُجڑے ہوئے اس حال کو اب کون دیکھے گا

مِرے ہمدم، مِرے ساتھی، مِرے دلبر، تمہارے بعد

مِری قسمت میں آئے کال کو اب کون دیکھے گا

Saturday, 18 December 2021

سلگتی دھوپ میں اگتے شرارے کون دیکھے گا

 کون دیکھے گا (پارٹ 1)


سُلگتی دھوپ میں اُگتے شرارے کون دیکھے گا 

مِری پلکوں سے گرتے چاند تارے کون دیکھے گا

چُھڑا لو ہاتھ بے شک تم، مگر اتنا بتا جاؤ

تمہارے بعد جو ہوں گے خسارے، کون دیکھے گا

تم ایسے رُوٹھ جاؤ گے، تو منظر رُوٹھ جائیں گے

مِری آنکھوں سے پھر دلکش نظارے، کون دیکھے گا