Showing posts with label رفیق لودھی. Show all posts
Showing posts with label رفیق لودھی. Show all posts

Wednesday, 22 September 2021

مرے وجود کی جاگیر اس نے مانگی ہے

 مِرے وجود کی جاگیر اس نے مانگی ہے

عجیب خواب سی تعبیر اس نے مانگی ہے

وہ چاہتا ہے نشانی مِری محبت کی

کہ مجھ سے خون کی تحریر اس نے مانگی ہے

اسی کی قید میں رہتا ہوں میں تو پہلے بھی

نجانے کس لیے زنجیر اس بے مانگی ہے

Tuesday, 21 September 2021

قدیم درد نیا واسطہ نہ بن جائے

 قدیم درد نیا واسطہ نہ بن جائے

تِرا خیال مِرا دائرہ نہ بن جائے

یہ تم جو دیکھتے ہی جا رہے ہو پتھر کو

خیال رکھنا کہیں آئینہ نہ بن جائے

گلِ مراد جو بنتا چلا گیا صحرا

مِرے ٹھہرتے ہی یہ آبلہ نہ بن جائے

Monday, 20 September 2021

ہم جو ویران گھر میں رہتے ہیں

 ہم جو ویران گھر میں رہتے ہیں

حادثوں کی نظر میں رہتے ہیں

چاند سورج میں آپ کا چہرہ

آپ شام و سحر میں رہتے ہیں

ہم سے بھی مل کبھی گھڑی بھر کو

ہم بھی تیرے نگر میں رہتے ہیں

کسی طرح مجھے گرداب سے نکلنا ہے

 کسی طرح مجھے گرداب سے نکلنا ہے

گرفتِ حلقۂ احباب سے نکلنا ہے

مِرے حصول کی ترتیب کیوں لگاتے ہو

مِرا سفر، مِرے اسباب سے نکلنا ہے

ہمارے پاس ہے سورج کے راستے کا نقش

ہمیں نظارۂ مہ تاب سے نکلنا ہے

Sunday, 19 September 2021

خواب در خواب مرے خواب میں شامل ہوئی ہے

 خواب در خواب مِرے خواب میں شامل ہوئی ہے

خاکِ صحرا مِرے اسباب میں شامل ہوئی ہے

رقص کرتا تھا مِرا عشق، سرِ دشتِ جنوں

تھکن اس واسطے اعصاب میں شامل ہوئی ہے

راکھ ہونے لگے ہیں خواب مِری آنکھوں میں

آگ یوں خطۂ شاداب میں شامل ہوئی ہے

Saturday, 3 April 2021

اک آرزوئے سفر دوسرے پہ ختم نہیں

 اک آرزوئے سفر دوسرے پہ ختم نہیں

ہمارا بوجھ کسی مرحلے پہ ختم نہیں

چراغ اپنی جگہ معتبر حوالہ سہی

مگر یہ تِیرہ شبی واسطے پہ ختم نہیں

لپکتے روح کی رفتار دیکھتا ہوں میں

مِرا وجود کسی مقبرے پہ ختم نہیں