مِرے وجود کی جاگیر اس نے مانگی ہے
عجیب خواب سی تعبیر اس نے مانگی ہے
وہ چاہتا ہے نشانی مِری محبت کی
کہ مجھ سے خون کی تحریر اس نے مانگی ہے
اسی کی قید میں رہتا ہوں میں تو پہلے بھی
نجانے کس لیے زنجیر اس بے مانگی ہے
مِرے وجود کی جاگیر اس نے مانگی ہے
عجیب خواب سی تعبیر اس نے مانگی ہے
وہ چاہتا ہے نشانی مِری محبت کی
کہ مجھ سے خون کی تحریر اس نے مانگی ہے
اسی کی قید میں رہتا ہوں میں تو پہلے بھی
نجانے کس لیے زنجیر اس بے مانگی ہے
قدیم درد نیا واسطہ نہ بن جائے
تِرا خیال مِرا دائرہ نہ بن جائے
یہ تم جو دیکھتے ہی جا رہے ہو پتھر کو
خیال رکھنا کہیں آئینہ نہ بن جائے
گلِ مراد جو بنتا چلا گیا صحرا
مِرے ٹھہرتے ہی یہ آبلہ نہ بن جائے
ہم جو ویران گھر میں رہتے ہیں
حادثوں کی نظر میں رہتے ہیں
چاند سورج میں آپ کا چہرہ
آپ شام و سحر میں رہتے ہیں
ہم سے بھی مل کبھی گھڑی بھر کو
ہم بھی تیرے نگر میں رہتے ہیں
کسی طرح مجھے گرداب سے نکلنا ہے
گرفتِ حلقۂ احباب سے نکلنا ہے
مِرے حصول کی ترتیب کیوں لگاتے ہو
مِرا سفر، مِرے اسباب سے نکلنا ہے
ہمارے پاس ہے سورج کے راستے کا نقش
ہمیں نظارۂ مہ تاب سے نکلنا ہے
خواب در خواب مِرے خواب میں شامل ہوئی ہے
خاکِ صحرا مِرے اسباب میں شامل ہوئی ہے
رقص کرتا تھا مِرا عشق، سرِ دشتِ جنوں
تھکن اس واسطے اعصاب میں شامل ہوئی ہے
راکھ ہونے لگے ہیں خواب مِری آنکھوں میں
آگ یوں خطۂ شاداب میں شامل ہوئی ہے
اک آرزوئے سفر دوسرے پہ ختم نہیں
ہمارا بوجھ کسی مرحلے پہ ختم نہیں
چراغ اپنی جگہ معتبر حوالہ سہی
مگر یہ تِیرہ شبی واسطے پہ ختم نہیں
لپکتے روح کی رفتار دیکھتا ہوں میں
مِرا وجود کسی مقبرے پہ ختم نہیں