Showing posts with label سوز دہلوی. Show all posts
Showing posts with label سوز دہلوی. Show all posts

Wednesday, 11 November 2020

شہید عشق ہوئے قیس نامور کی طرح

 شہیدِ عشق ہوئے قیس نامور کی طرح

جہاں میں عیب بھی ہم نے کیے ہنر کی طرح

کچھ آج شام سے چہرہ فق ہے سحر کی طرح

ڈھلا ہی جاتا ہوں فرقت میں دوپہر کی طرح

سیاہ بختوں کو یوں باغ سے نکال اے چرخ

کہ چار پھول تو دامن میں ہوں سپر کی طرح

Tuesday, 6 December 2016

پاس رہ کر دیکھنا تیرا بڑا ارمان ہے

پاس رہ کر دیکھنا تیرا بڑا ارمان ہے
مجھ کو سب مشکل ہے پیارے تجھ کو سب آسان ہے
اے مِرے بدمست! مت کر تُو غزالوں کا شکار
لے نا میرے دل کو چکھ، یہ زور ہی بریان ہے
کیا دعا دیتے ہو میاں، جیتے رہو جیتے رہو
زندگانی تو نہیں انگریز کا زِندان ہے

جو ہم سے تو ملا کرے گا

جو ہم سے تُو ملا کرے گا
بندہ تجھ کو دعا کرے گا
بوسہ تو دے کبھو مری جان
مولا تیرا بھلا کرے گا
ہم تم بیٹھیں گے پاس مل کر
وہ دن بھی کبھو خدا کرے گا

Sunday, 12 June 2016

اگر میں جانتا ہے عشق میں دھڑکا جدائی کا

اگر میں جانتا ہے عشق میں دھڑکا جدائی کا
تو جیتے جی نہ لیتا نام ہرگز آشنائی کا
جو عاشق صاف ہیں دل سے انہیں کو قتل کرتے ہیں
بڑا چرچا ہے معشوقوں میں عاشق آزمائی کا
کروں اک پل میں برہم کارخانے کو محبت کے
اگر عالم میں شہرہ دوں تمہاری بے وفائی کا

ملنے کی تیرے دل میں ہیں گی ہوائیں کیا کیا

ملنے کی تیرے دل میں ہیں گی ہوائیں کیا کیا
مانگی ہیں تیرے حق میں حق سے دعائیں کیا کیا
دکھ درد ٹیس جلنا رہ رہ کے پھر لپکنا
پھوڑا ہے دل نہیں ہے تجھ کو سنائیں کیا کیا
خوفِ رقیب و حسرت عجز و نیاز و منت
جیوڑے پہ یہ اذیت آفت اٹھائیں کیا کیا

لخت جگر جو آنکھ سے نکلے اٹک اٹک

لختِ جگر جو آنکھ سے نکلے اٹک اٹک
بے چین کر دیا مِرے دل کو کھٹک کھٹک
میری بھی مشتِ خاک کا ٹک پاس ہے ضرور
اے جامہ زیب! چلیو نہ دامن جھٹک جھٹک
یہ ناز اور کرشمہ کہاں ہے تدرو میں
چلتا ہے جس ادا سے وہ پیارا لٹک لٹک

اہل ایماں سوز کو کہتے ہیں کافر ہو گیا

اہلِ ایماں سوز کو کہتے ہیں کافر ہو گیا
آہ یا رب! رازِ دل ان پر بھی ظاہر ہو گیا
میں نے جانا تھا صحیفہ عشق کا ہے میرے نام
واہ، یہ دیوان بھی نقلِ دفاتر ہو گیا
ناصحا! بے زار دل سوزی سے تیری دور ہو
دل کو کیا روتا ہے لے جی بھی مسافر ہو گیا

Friday, 4 December 2015

دین و کفر آنکھوں نے تری کر دیا اے یار مست

دِین و کفر آنکھوں نے تیری کر دیا اے یار مست
صاحبِ تسبیح مست، صاحبِ زنار مست
چشم و ابرو کو تِرے یوں دیکھ کر کہتی ہے خلق
تل رہے ہیں کھینچ کر آپس میں دو تلوار مست
جامِ گل نے کھو دیا ہے باغباں کا اب کے ہوش
نغمۂ بلبل سے گلشن کے در و دیوار مست

افسوس تم اوروں کو ملو رات کو تنہا

افسوس تم اوروں کو ملو رات کو تنہا
ہم دن کو ترستے ہیں ملاقات کو تنہا
نے دل ہے نہ تُو ہے نہ کوئی مونس و ہمدم
کھوتے ہیں عبث اپنی ہم اوقات کو تنہا
اللہ اکیلا جو ملے مجھ کو تو سمجھو
پایا میں نہیں ناصحِ بدذات کو تنہا

شعلہ حسن سے دل کا مرے کاشانہ جلا

شعلۂ حسن سے دل کا مِرے کاشانہ جلا
آہ کیا آگ تھی جس سے یہ صنم خانہ جلا
نالے کا اس دل دیوانہ کو مت کر سرگرم
دیوے گا بھر کے دم سرد یہ ویرانہ جلا
رحم آیا نہ تجھے یار مِرے جلنے پر
آہ اپنی سے جلی شمع جو پروانہ جلا

میں تو غبار دل کا یکبار دھو کے آیا

میں تو غبار دل کا یک بار دھو کے آیا
کوچے میں خوبرو کے کل خوب رو کے آیا
کیوں طفلِ اشک میں نے آنکھوں میں تجھ کو پالا
اس پر بھی میرے منہ پر یوں گرم ہو کے آیا
مژگاں کی تیری نوکیں آلودہ ہیں لہو میں
ظالم نگاہ کس کے دل میں گڑو کے آیا

جس کا تجھ سا حبیب ہووے گا

جس کا تجھ سا حبیب ہووے گا
کون اس کا رقیب ہووے گا
بے وطن، بے رفیق، بے اسباب
کون ایسا غریب ہووے گا
دردِ دل کی دوا ہو جس کے پاس
کوئی ایسا طبیب ہووے گا