درد و دارو کے تخیل کا جھمیلا شاعر
فکر کے دشت میں پلتا ہے بگھیلا شاعر
نسل معدوم تھی آشفتہ سروں کی جب ہی
عرش سے رب نے سرِ خاک دھکیلا شاعر
درد زادوں کے سکوتوں کی وضاحت کر کے
سو خرابوں کو رِجھاتا ہے اکیلا شاعر
درد و دارو کے تخیل کا جھمیلا شاعر
فکر کے دشت میں پلتا ہے بگھیلا شاعر
نسل معدوم تھی آشفتہ سروں کی جب ہی
عرش سے رب نے سرِ خاک دھکیلا شاعر
درد زادوں کے سکوتوں کی وضاحت کر کے
سو خرابوں کو رِجھاتا ہے اکیلا شاعر
محبت کی کتھا میں سب وفا کے باب جھوٹے تھے
مِرے حلقے میں جتنے لوگ تھے نایاب جھوٹے تھے
یہ تاریکی حقیقت ہے، بصارت کچھ نہیں ہوتی
سبھی سورج، سبھی تارے، سبھی مہتاب جھوٹے تھے
مقلد کو سرِ محشر اگر دوزخ ملی تو کیا
چلو ثابت ہوا سب صاحبِ محراب جھوٹے تھے
جیب خالی جو گھر گیا ہو گا
ہچکچا کر ٹھہر گیا ہو گا
دل سے نکلا جو چار دن پہلے
سوچتا ہوں کدھر گیا ہو گا
یہ جو جنگل ہے پہلے صحرا تھا
وہ یہاں سے گزر گیا ہو گا
شمس یک رُت بھلا تا حشر چلے گا، نئیں نا
ایک ہی راز کئی بار کھلے گا، نئیں نا
فصل کی کوکھ میں بالک سا محبت کا جسد
دِید کے دودھ کے بِن خود سے پلے گا، نئیں نا
روزِ محشر پہ محبت کا نتیجہ رکھوں
وعدہ کرتا ہے ازالے میں ملے گا، نئیں نا
دکھ ختم نہیں ہوتے
درد کی پناہوں سے
زندگی کی راہوں سے
سانس ختم ہوتی ہے
درد کم نہیں ہوتے
دکھ ختم نہیں ہوتے
علی پیر عالی
مِرے تو سب دوست یار دُکھ ہیں، ہزار دُکھ ہیں
تِرے تو بس تین چار دکھ ہیں، ہزار دکھ ہیں
جوان بیٹے کے بم سے مرنے کا دکھ عجب ہے
کہ جس پہ خود سوگوار دکھ ہیں، ہزار دکھ ہیں
جو پھل کے ٹھیلے کے پاس کمسن کھڑا ہے اس کے
یہ آم🥭، کیلے🍌، انار، دکھ ہیں، ہزار دکھ ہیں
پنکھ گرنے کی بھی آواز سے ڈرنے والی
اس کے ہنسنے سے لگے برف ہے پڑنے والی
سرد راتوں میں کسی نرم سے لہجے میں کہی
وہ کوئی بات ہے اور بات بھی سننے والی
سرخ پوشاک ہے ہمراز فقط ایک اس کی
نظم گلزار ہے سب پر نہیں کھلنے والی