Showing posts with label علی پیر عالی. Show all posts
Showing posts with label علی پیر عالی. Show all posts

Wednesday, 24 November 2021

درد و دارو کے تخیل کا جھمیلا شاعر

 درد و دارو کے تخیل کا جھمیلا شاعر

فکر کے دشت میں پلتا ہے بگھیلا شاعر

نسل معدوم تھی آشفتہ سروں کی جب ہی

عرش سے رب نے سرِ خاک دھکیلا شاعر

درد زادوں کے سکوتوں کی وضاحت کر کے

سو خرابوں کو رِجھاتا ہے اکیلا شاعر

Sunday, 31 October 2021

محبت کی کتھا میں سب وفا کے باب جھوٹے تھے

 محبت کی کتھا میں سب وفا کے باب جھوٹے تھے

مِرے حلقے میں جتنے لوگ تھے نایاب جھوٹے تھے

یہ تاریکی حقیقت ہے، بصارت کچھ نہیں ہوتی

سبھی سورج، سبھی تارے، سبھی مہتاب جھوٹے تھے

مقلد کو سرِ محشر اگر دوزخ ملی تو کیا

چلو ثابت ہوا سب صاحبِ محراب جھوٹے تھے

Friday, 15 October 2021

جیب خالی جو گھر گیا ہو گا

 جیب خالی جو گھر گیا ہو گا

ہچکچا کر ٹھہر گیا ہو گا

دل سے نکلا جو چار دن پہلے

سوچتا ہوں کدھر گیا ہو گا

یہ جو جنگل ہے پہلے صحرا تھا

وہ یہاں سے گزر گیا ہو گا

Tuesday, 12 October 2021

شمس یک رت بھلا تا حشر چلے گا، نئیں نا

 شمس یک رُت بھلا تا حشر چلے گا، نئیں نا

ایک ہی راز کئی بار کھلے گا، نئیں نا

فصل کی کوکھ میں بالک سا محبت کا جسد

دِید کے دودھ کے بِن خود سے پلے گا، نئیں نا

روزِ محشر پہ محبت کا نتیجہ رکھوں

وعدہ کرتا ہے ازالے میں ملے گا، نئیں نا

درد کم نہیں ہوتے

 دکھ ختم نہیں ہوتے


درد کی پناہوں سے

زندگی کی راہوں سے

سانس ختم ہوتی ہے

درد کم نہیں ہوتے

دکھ ختم نہیں ہوتے


علی پیر عالی

Monday, 11 October 2021

مرے تو سب دوست یار دکھ ہیں ہزار دکھ ہیں

 مِرے تو سب دوست یار دُکھ ہیں، ہزار دُکھ ہیں

تِرے تو بس تین چار دکھ ہیں، ہزار دکھ ہیں

جوان بیٹے کے بم سے مرنے کا دکھ عجب ہے

کہ جس پہ خود سوگوار دکھ ہیں، ہزار دکھ ہیں

جو پھل کے ٹھیلے کے پاس کمسن کھڑا ہے اس کے

یہ آم🥭، کیلے🍌، انار، دکھ ہیں، ہزار دکھ ہیں

Friday, 8 January 2021

پنکھ گرنے کی بھی آواز سے ڈرنے والی

 پنکھ گرنے کی بھی آواز سے ڈرنے والی

اس کے ہنسنے سے لگے برف ہے پڑنے والی

سرد راتوں میں کسی نرم سے لہجے میں کہی

وہ کوئی بات ہے اور بات بھی سننے والی

سرخ پوشاک ہے ہمراز فقط ایک اس کی

نظم گلزار ہے سب پر نہیں کھلنے والی