Showing posts with label حسن جاوید. Show all posts
Showing posts with label حسن جاوید. Show all posts

Sunday, 11 January 2026

اس شہر بے کمال میں کچھ تو کمال کر

 اس شہرِ بے کمال میں کچھ تو کمال کر

دم توڑتی حیات کی سانسیں بحال کر

جاتے ہوئے وہ شخص مجھے قید کر گیا

رستے میں رکھ گیا مِری آنکھیں نکال کر

جب پہلی بار وہ مجھے اپنا نہیں لگا

رکھا ہوا ہے میں نے وہ لمحہ سنبھال کر

Tuesday, 8 July 2025

بگڑتی زیست کی کچھ ساعتیں سنوارسکیں

 بگڑتی زیست کی کچھ ساعتیں سنوارسکیں

بس اتنا فاصلہ رکھ پھر تجھ کو پکار سکیں

ہمارے ہاتھ میں خنجر تو دے دیا تُو نے

مگر وہ حوصلہ، ہم جس سے خود کو مار سکیں

کچھ اس لیے بھی لگائی ہے تجھ سے بازئ جاں

کہ ہارنا بھی پڑے تو خوشی سے ہار سکیں

Thursday, 26 December 2024

وہ عکس نارسا بھی مرے آئینوں میں تھا

 وہ عکس نارسا بھی مرے آئینوں میں تھا

منزل نما سراب تھا اور راستوں میں تھا

لہرا رہا ہے اب بھی وہ منظر نگاہ میں

آنچل سا ایک گاؤں کی پگڈنڈیوں میں تھا

آسان تو نہیں تھی سمندر سے دشمنی

یہ حوصلہ تو دوست! فقط ساحلوں میں تھا

Friday, 13 December 2024

ہم نے یہ قرض بھی اتار لیا

 ہم نے یہ قرض بھی اتار لیا

زندگی! جا تجھے گزار لیا

جب غمِ زندگی نے دی مہلت

ہم نے اک شخص کو پکار لیا

آہٹیں دھڑکنوں کی صورت تھیں

دل نے کیا لطفِ انتظار لیا