اس شہرِ بے کمال میں کچھ تو کمال کر
دم توڑتی حیات کی سانسیں بحال کر
جاتے ہوئے وہ شخص مجھے قید کر گیا
رستے میں رکھ گیا مِری آنکھیں نکال کر
جب پہلی بار وہ مجھے اپنا نہیں لگا
رکھا ہوا ہے میں نے وہ لمحہ سنبھال کر
اس شہرِ بے کمال میں کچھ تو کمال کر
دم توڑتی حیات کی سانسیں بحال کر
جاتے ہوئے وہ شخص مجھے قید کر گیا
رستے میں رکھ گیا مِری آنکھیں نکال کر
جب پہلی بار وہ مجھے اپنا نہیں لگا
رکھا ہوا ہے میں نے وہ لمحہ سنبھال کر
بگڑتی زیست کی کچھ ساعتیں سنوارسکیں
بس اتنا فاصلہ رکھ پھر تجھ کو پکار سکیں
ہمارے ہاتھ میں خنجر تو دے دیا تُو نے
مگر وہ حوصلہ، ہم جس سے خود کو مار سکیں
کچھ اس لیے بھی لگائی ہے تجھ سے بازئ جاں
کہ ہارنا بھی پڑے تو خوشی سے ہار سکیں
وہ عکس نارسا بھی مرے آئینوں میں تھا
منزل نما سراب تھا اور راستوں میں تھا
لہرا رہا ہے اب بھی وہ منظر نگاہ میں
آنچل سا ایک گاؤں کی پگڈنڈیوں میں تھا
آسان تو نہیں تھی سمندر سے دشمنی
یہ حوصلہ تو دوست! فقط ساحلوں میں تھا
ہم نے یہ قرض بھی اتار لیا
زندگی! جا تجھے گزار لیا
جب غمِ زندگی نے دی مہلت
ہم نے اک شخص کو پکار لیا
آہٹیں دھڑکنوں کی صورت تھیں
دل نے کیا لطفِ انتظار لیا