Showing posts with label راج نرائن راز. Show all posts
Showing posts with label راج نرائن راز. Show all posts

Monday, 28 November 2022

کیا بات ہے کہ بات ہی دل کی ادا نہ ہو

 موت


کیا بات ہے کہ بات ہی دل کی ادا نہ ہو

مطلب کا میرے جیسے کوئی قافیا نہ ہو

گلدان میں سجا کے ہیں ہم لوگ کتنے خوش

وہ شاخ ایک پھول بھی جس پر نیا نہ ہو

ہر لمحہ وقت کا ہے بس اک غنچۂ بخیل

مٹھی جو اپنی بند کبھی کھولتا نہ ہو

Sunday, 13 November 2022

سوچیے گرمئ گفتار کہاں سے آئی

 سوچیے گرمئ گفتار کہاں سے آئی

لب بہ لب خواہش اظہار کہاں سے آئی

کس حنا ہاتھ سے آنگن ہے معطر اتنا

وقت خوش ساعت بیدار کہاں سے آئی

ہاں یہ ممکن ہے نیا موڑ ہو پھولوں جیسا

پھر یہ پازیب کی جھنکار کہاں سے آئی

Saturday, 12 November 2022

جانے کس خواب کا سیال نشہ ہوں میں بھی

 جانے کس خواب کا سیال نشہ ہوں میں بھی

اجلے موسم کی طرح ایک فضا ہوں میں بھی

ہاں دھنک ٹوٹ کے بکھری تھی مِرے بستر پر

اے سکوں لمس تِرے ساتھ جیا ہوں میں بھی

راہ پامال تھی چھوڑ آیا ہوں ساتھی سوتے

کوری مٹی کا گنہ گار ہوا ہوں میں بھی

Friday, 11 November 2022

بوندیں پڑی تھیں چھت پہ کہ سب لوگ اٹھ گئے

بوندیں پڑی تھیں چھت پہ کہ سب لوگ اٹھ گئے

قدرت کے آدمی سے عجب سلسلے رہے

وہ شخص کیا ہوا جو مقابل تھا سوچیے

بس اتنا کہہ کے آئنے خاموش ہو گئے

اس آس پر کہ خود سے ملاقات ہو کبھی

اپنے ہی در پہ آپ ہی دستک دیا کئے

Monday, 27 June 2022

کیا بات تھی کہ جو بھی سنا ان سنا ہوا

 کیا بات تھی کہ جو بھی سنا ان سنا ہوا

دل کے نگر میں شور تھا کیسا مچا ہوا

تم چھپ گئے تھے جسم کی دیوار سے پرے

اک شخص پھر رہا تھا تمہیں ڈھونڈتا ہوا

اک سایہ کل ملا تھا تِرے گھر کے آس پاس

حیران کھویا کھویا سا کچھ سوچتا ہوا

Thursday, 15 April 2021

شہر کے باہر ویرانے میں اک پگڈنڈی پر تنہا سا

 کم نگہی


شہر کے باہر، ویرانے میں

اک پگڈنڈی پر تنہا سا

ننھا سا اک پیڑ کھڑا تھا

شاخیں اس کی چھوٹی چھوٹی

پتے کم کم