موت
کیا بات ہے کہ بات ہی دل کی ادا نہ ہو
مطلب کا میرے جیسے کوئی قافیا نہ ہو
گلدان میں سجا کے ہیں ہم لوگ کتنے خوش
وہ شاخ ایک پھول بھی جس پر نیا نہ ہو
ہر لمحہ وقت کا ہے بس اک غنچۂ بخیل
مٹھی جو اپنی بند کبھی کھولتا نہ ہو
موت
کیا بات ہے کہ بات ہی دل کی ادا نہ ہو
مطلب کا میرے جیسے کوئی قافیا نہ ہو
گلدان میں سجا کے ہیں ہم لوگ کتنے خوش
وہ شاخ ایک پھول بھی جس پر نیا نہ ہو
ہر لمحہ وقت کا ہے بس اک غنچۂ بخیل
مٹھی جو اپنی بند کبھی کھولتا نہ ہو
سوچیے گرمئ گفتار کہاں سے آئی
لب بہ لب خواہش اظہار کہاں سے آئی
کس حنا ہاتھ سے آنگن ہے معطر اتنا
وقت خوش ساعت بیدار کہاں سے آئی
ہاں یہ ممکن ہے نیا موڑ ہو پھولوں جیسا
پھر یہ پازیب کی جھنکار کہاں سے آئی
جانے کس خواب کا سیال نشہ ہوں میں بھی
اجلے موسم کی طرح ایک فضا ہوں میں بھی
ہاں دھنک ٹوٹ کے بکھری تھی مِرے بستر پر
اے سکوں لمس تِرے ساتھ جیا ہوں میں بھی
راہ پامال تھی چھوڑ آیا ہوں ساتھی سوتے
کوری مٹی کا گنہ گار ہوا ہوں میں بھی
بوندیں پڑی تھیں چھت پہ کہ سب لوگ اٹھ گئے
قدرت کے آدمی سے عجب سلسلے رہے
وہ شخص کیا ہوا جو مقابل تھا سوچیے
بس اتنا کہہ کے آئنے خاموش ہو گئے
اس آس پر کہ خود سے ملاقات ہو کبھی
اپنے ہی در پہ آپ ہی دستک دیا کئے
کیا بات تھی کہ جو بھی سنا ان سنا ہوا
دل کے نگر میں شور تھا کیسا مچا ہوا
تم چھپ گئے تھے جسم کی دیوار سے پرے
اک شخص پھر رہا تھا تمہیں ڈھونڈتا ہوا
اک سایہ کل ملا تھا تِرے گھر کے آس پاس
حیران کھویا کھویا سا کچھ سوچتا ہوا
کم نگہی
شہر کے باہر، ویرانے میں
اک پگڈنڈی پر تنہا سا
ننھا سا اک پیڑ کھڑا تھا
شاخیں اس کی چھوٹی چھوٹی
پتے کم کم