سراپا حسن یا کوئی
مجسم چاندنی ہو ساتھ
میرے ویرانۂ دل میں
ہمیشہ رات رہتی ہے
کوئی بھی فصل ہو چاہے
بہاروں کی خزاؤں کی
سراپا حسن یا کوئی
مجسم چاندنی ہو ساتھ
میرے ویرانۂ دل میں
ہمیشہ رات رہتی ہے
کوئی بھی فصل ہو چاہے
بہاروں کی خزاؤں کی
تمہاری آنکھوں پہ گیت لکھنا
تم اتنی دلکش حسین ہو کہ
شہر کے کتنے عظیم شاعر
تمہاری آنکھوں، تمہارے ہونٹوں
تمہارے گیسو، تمہارے عارض
تمہارے آنچل، تمہارے لہجے
کسی کی پَل کی بیداری بڑا مفہوم رکھتی ہے
کسی کا جاگنا شب بھر کوئی معنی نہیں رکھتا
جہاں پر رات آئے گی وہاں کچھ دیر رک لیں گے
چلو خانہ بدوشو! گھر کوئی معنی نہیں رکھتا
میں دنیا کے لغت میں ہوں مگر اس المیے کے ساتھ
مکمل لفظ بھی ہو کر کوئی معنی نہیں رکھتا
تم گزرنے والی ہو
خوشگوار موسم ہو
صبح کی ہواؤں میں
شہر کی فضاؤں میں
اجنبی سی خوشبو ہو
ڈال ڈال پر بیٹھے
تم مجھے ضروری ہو
جس طرح عبادت میں
تخلیہ ضروری ہے
دل گداز منظر اور
سُرمگین کاجل کو
کھیل کو تماشے کو
مکالماتی کلام
اُس نے کہا کہ آپ سے وابستگی نہیں
میں نے کہا کہ پھر تو میری زندگی نہیں
اُس نے کہا کہ مجھ کو مکمل کی ہے تلاش
میں نے کہا کہ ایسا کوئی آدمی نہیں
اُس نے کہا کہ عشق و محبت فضول ہے
میں نے کہا کہ متفق اس سے کوئی نہیں