Showing posts with label منیر فراز. Show all posts
Showing posts with label منیر فراز. Show all posts

Friday, 18 March 2022

سراپا حسن یا کوئی مجسم چاندنی ہو ساتھ

 سراپا حسن یا کوئی 

مجسم چاندنی ہو ساتھ

میرے ویرانۂ دل میں 

ہمیشہ رات رہتی ہے 

کوئی بھی فصل ہو چاہے 

بہاروں کی خزاؤں کی 

Sunday, 9 January 2022

تمہاری آنکھوں پہ گیت لکھنا

 تمہاری آنکھوں پہ گیت لکھنا


تم اتنی دلکش حسین ہو کہ

شہر کے کتنے عظیم شاعر

تمہاری آنکھوں، تمہارے ہونٹوں

تمہارے گیسو، تمہارے عارض

تمہارے آنچل، تمہارے لہجے

Friday, 7 January 2022

فقط کاندھوں پہ رکھا سر کوئی معنی نہیں رکھتا

 کسی کی پَل کی بیداری بڑا مفہوم رکھتی ہے

کسی کا جاگنا شب بھر کوئی معنی نہیں رکھتا

جہاں پر رات آئے گی وہاں کچھ دیر رک لیں گے

چلو خانہ بدوشو! گھر کوئی معنی نہیں رکھتا

میں دنیا کے لغت میں ہوں مگر اس المیے کے ساتھ

مکمل لفظ بھی ہو کر کوئی معنی نہیں رکھتا

Tuesday, 14 December 2021

تم گزرنے والی ہو

 تم گزرنے والی ہو


خوشگوار موسم ہو

صبح کی ہواؤں میں

شہر کی فضاؤں میں

اجنبی سی خوشبو ہو

ڈال ڈال پر بیٹھے

Monday, 13 December 2021

تم مجھے ضروری ہو

 تم مجھے ضروری ہو


جس طرح عبادت میں 

تخلیہ ضروری ہے

دل گداز منظر اور 

سُرمگین کاجل کو

کھیل کو تماشے کو

Sunday, 12 December 2021

اس نے کہا کہ آپ سے وابستگی نہیں

 مکالماتی کلام


اُس نے کہا کہ آپ سے وابستگی نہیں

میں نے کہا کہ پھر تو میری زندگی نہیں

اُس نے کہا کہ مجھ کو مکمل کی ہے تلاش

میں نے کہا کہ ایسا کوئی آدمی نہیں

اُس نے کہا کہ عشق و محبت فضول ہے

میں نے کہا کہ متفق اس سے کوئی نہیں