Showing posts with label امین اوڈیرائی. Show all posts
Showing posts with label امین اوڈیرائی. Show all posts

Thursday, 20 June 2024

جنوں کیا شوق کیا اظہار کیا ہے

 جنوں کیا شوق کیا اظہار کیا ہے؟

ہوئے منصور تو پھر دار کیا ہے؟

سرہانے بیٹھ کر تم وقتِ آخر

نہ پوچھو خواہشِ بیمار کیا ہے؟

مسلسل آہٹیں سی ہو رہی ہیں

ذرا دیکھو پسِ دیوار کیا ہے؟

Saturday, 3 February 2024

حرف اترے جو ثنا خوانی کے عنوان ہوئے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


حرف اُترے جو ثنا خوانی کے عُنوان ہوئے

عاقبت اپنی سنورنے کے بھی سامان ہوئے

تھا نہیں حرف سجانے کا سلیقہ مجھ کو

اک گُنہ گار پہ اللہ کے احسان ہوئے

میری اس نوکِ قلم پر ہیں ستارے رقصاں

لوگ جو محوِ تماشا تھا وہ حیران ہوئے

Friday, 6 January 2023

طائر اشک جو آنکھوں میں اتارا جاتا

 طائرِ اشک جو آنکھوں میں اتارا جاتا

دشت کا دشت تمناؤں پہ وارا جاتا

خواہشِ وصل، شبِ تار گلے ملتے ہی

دل کی بستی سے تِرا ہجر گزارا جاتا

اپنا جو کچھ تھا درِ یار پہ چھوڑ آیا ہوں

جاں بچا لیتا مگر یار کا یارا جاتا

Monday, 14 November 2022

گام دو گام سے بھی آگے تھا

 گام دو گام سے بھی آگے تھا

نشہ تو جام سے بھی آگے تھا

تھے مقیّد مکیں مکانوں میں

گھر در و بام سے بھی آگے تھا

ہجر میں لمحۂ وصال کا دکھ

فکرِ ایام سے بھی آگے تھا

Sunday, 30 October 2022

تنہائیوں کے روگ کو پالا نہیں گیا

تنہائیوں کے روگ کو پالا نہیں گیا

ہم سے تمہارا ہجر سنبھالا نہیں گیا

قبضہ وہ کر کے بیٹھ گیا ایسا دوستو

اک دکھ کو شہرِ جاں سے نکالا نہیں گیا

حیلے ہزار ہم نے کیے روز و شب مگر

غم کو خوشی کے روپ میں ڈھالا نہیں گیا

Thursday, 14 April 2022

بات نکلی نظر سے آگے تک

 بات نکلی نظر سے آگے تک

چوٹ پہنچی جگر سے آگے تک

اور بھی اک جہان ہے دیکھو

گھر کے دیوار و در سے آگے تک

عشق گر ہے تو دیکھ سکتی ہے

آنکھ شمس و قمر سے آگے تک

Thursday, 10 February 2022

آنکھوں کو اپنی بھینٹ چڑھانے کے باوجود

 آنکھوں کو اپنی بھینٹ چڑھانے کے باوجود

کیوں تیرگی ہے دِیپ جلانے کے باوجود

پیروں کے اضطراب کا قصہ نہ پوچھٸے

کچھ لوگ در بدر ہیں ٹھکانے کے باوجود

رشتہ مِرا فرات سے کچھ ایسا جڑ گیا

بجھتی نہیں ہے پیاس بجھانے کے باوجود

Thursday, 27 January 2022

طائرِ اشک جو آنکھوں میں اُتارا جاتا

 طائرِ اشک جو آنکھوں میں اُتارا جاتا

دشت کا دشت تمناؤں پہ وارا جاتا

خواہشِ وصل، شبِ تار گلے ملتے ہی

دل کی بستی سے تِرا ہجر گزارا جاتا

اپنا جو کچھ تھا درِ یار پہ چھوڑ آیا ہوں

جاں بچا لیتا، مگر یار کا یارا جاتا

Tuesday, 20 April 2021

وحشتیں خوف گھٹن اوڑھ کے سو جاتا ہوں

وحشتیں، خوف، گھٹن، اوڑھ کے سو جاتا ہوں

اور کچھ دل کی لگن اوڑھ کے سو جاتا ہوں

جب بھی یادوں کے دریچوں سے دھواں اٹھتا ہے

اپنی آہوں کی جلن اوڑھ کے سوجاتا ہوں

چھوڑ جاتے ہیں جو احباب میرے آنگن میں

تلخ لفظوں کی چبھن اوڑھ کے سو جاتا ہوں

Friday, 15 January 2021

اشک پینے نہ درد کھانے سے

 اشک پینے نہ درد کھانے سے

عشق پلتا ہے خوں پلانے سے

کیسے کہدوں تمہاری یاد سے میں

جا نکل جا میرے فسانے سے

اپنے در پر میں ایک آہٹ کا

منتظر ہوں بڑے زمانے سے

Tuesday, 12 January 2021

بے بسی رات بھر اٹھائے ہوئے

 بے بسی رات بھر اٹھائے ہوئے

اشک نکلے سحر اٹھائے ہوئے

اوڑھ کر بھوک اپنے بچوں کی

گھرسے نکلا ہوں گھراٹھائے ہوئے

دیکھتے کیا ہو آسماں کو تم؟

اک پرندے کا پر اٹھائے ہوئے

Monday, 11 January 2021

آس ملن کی مر گئی جب زندانوں میں

 آس ملن کی مر گئی جب زندانوں میں

پتھر ہو گئی آنکھیں روشن دانوں میں

جانے کیوں اک خوف سا ہے لٹ جانے کا

ایسا کیا ہے گھر آئے مہمانوں میں

دن بھر پیٹ کی آگ نہ بجھنے پائی تو

شب بھر بھوک جلائی آتشدانوں میں

Wednesday, 6 January 2021

عارضی کیا ہے دائمی کیا ہے

 عارضی کیا ہے، دائمی کیا ہے

اس میں جھگڑے کی بات ہی کیا ہے

میری آنکھوں میں آ گئے تھے اشک

اس نے پوچھا تھا جب خوشی کیا ہے

سال پچپن گزارنے کے بعد

سوچتا ہوں کہ زندگی کیا ہے

Tuesday, 5 January 2021

یاد نے اس قدر ستایا تھا

 یاد نے اس قدر ستایا تھا

درد اپنا تھا، دل پرایا تھا

تُو زمانے سے جیت جائے گا

ایک جوگی نے یہ بتایا تھا

جس کے آنسو خریدنے تھے مجھے

وہ تو آنکھیں ہی بیچ آیا تھا

Monday, 4 January 2021

پائی جب بھی یار تھوڑی سی خوشی

 پائی جب بھی یار تھوڑی سی خوشی

بانٹ دی ہر بار تھوڑی سی خوشی

دستِ قدرت کی عجب تقسیم ہے

درد کے انبار، تھوڑی سی خوشی

لوگ کہتے ہیں کہ رہتی ہے کہیں

آنسوؤں کے پار تھوڑی سی خوشی

Thursday, 19 November 2020

رکھ دیا میں نے در حسن پہ ہارا ہوا عشق

 رکھ دیا میں نے در حسن پہ ہارا ہوا عشق

آج کے بعد مری جان تمہارا ہوا عشق

چوٹ گہری تھی مگر پاؤں نہیں رک پائے

ہم پلٹ آئے وہیں ہم کو دوبارا ہوا عشق

جھلملاتا ہے مری آنکھ میں آنسو بن کر

آ گیا راس مجھے دل میں اتارا ہوا عشق