جنوں کیا شوق کیا اظہار کیا ہے؟
ہوئے منصور تو پھر دار کیا ہے؟
سرہانے بیٹھ کر تم وقتِ آخر
نہ پوچھو خواہشِ بیمار کیا ہے؟
مسلسل آہٹیں سی ہو رہی ہیں
ذرا دیکھو پسِ دیوار کیا ہے؟
جنوں کیا شوق کیا اظہار کیا ہے؟
ہوئے منصور تو پھر دار کیا ہے؟
سرہانے بیٹھ کر تم وقتِ آخر
نہ پوچھو خواہشِ بیمار کیا ہے؟
مسلسل آہٹیں سی ہو رہی ہیں
ذرا دیکھو پسِ دیوار کیا ہے؟
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
حرف اُترے جو ثنا خوانی کے عُنوان ہوئے
عاقبت اپنی سنورنے کے بھی سامان ہوئے
تھا نہیں حرف سجانے کا سلیقہ مجھ کو
اک گُنہ گار پہ اللہ کے احسان ہوئے
میری اس نوکِ قلم پر ہیں ستارے رقصاں
لوگ جو محوِ تماشا تھا وہ حیران ہوئے
طائرِ اشک جو آنکھوں میں اتارا جاتا
دشت کا دشت تمناؤں پہ وارا جاتا
خواہشِ وصل، شبِ تار گلے ملتے ہی
دل کی بستی سے تِرا ہجر گزارا جاتا
اپنا جو کچھ تھا درِ یار پہ چھوڑ آیا ہوں
جاں بچا لیتا مگر یار کا یارا جاتا
گام دو گام سے بھی آگے تھا
نشہ تو جام سے بھی آگے تھا
تھے مقیّد مکیں مکانوں میں
گھر در و بام سے بھی آگے تھا
ہجر میں لمحۂ وصال کا دکھ
فکرِ ایام سے بھی آگے تھا
تنہائیوں کے روگ کو پالا نہیں گیا
ہم سے تمہارا ہجر سنبھالا نہیں گیا
قبضہ وہ کر کے بیٹھ گیا ایسا دوستو
اک دکھ کو شہرِ جاں سے نکالا نہیں گیا
حیلے ہزار ہم نے کیے روز و شب مگر
غم کو خوشی کے روپ میں ڈھالا نہیں گیا
بات نکلی نظر سے آگے تک
چوٹ پہنچی جگر سے آگے تک
اور بھی اک جہان ہے دیکھو
گھر کے دیوار و در سے آگے تک
عشق گر ہے تو دیکھ سکتی ہے
آنکھ شمس و قمر سے آگے تک
آنکھوں کو اپنی بھینٹ چڑھانے کے باوجود
کیوں تیرگی ہے دِیپ جلانے کے باوجود
پیروں کے اضطراب کا قصہ نہ پوچھٸے
کچھ لوگ در بدر ہیں ٹھکانے کے باوجود
رشتہ مِرا فرات سے کچھ ایسا جڑ گیا
بجھتی نہیں ہے پیاس بجھانے کے باوجود
طائرِ اشک جو آنکھوں میں اُتارا جاتا
دشت کا دشت تمناؤں پہ وارا جاتا
خواہشِ وصل، شبِ تار گلے ملتے ہی
دل کی بستی سے تِرا ہجر گزارا جاتا
اپنا جو کچھ تھا درِ یار پہ چھوڑ آیا ہوں
جاں بچا لیتا، مگر یار کا یارا جاتا
وحشتیں، خوف، گھٹن، اوڑھ کے سو جاتا ہوں
اور کچھ دل کی لگن اوڑھ کے سو جاتا ہوں
جب بھی یادوں کے دریچوں سے دھواں اٹھتا ہے
اپنی آہوں کی جلن اوڑھ کے سوجاتا ہوں
چھوڑ جاتے ہیں جو احباب میرے آنگن میں
تلخ لفظوں کی چبھن اوڑھ کے سو جاتا ہوں
اشک پینے نہ درد کھانے سے
عشق پلتا ہے خوں پلانے سے
کیسے کہدوں تمہاری یاد سے میں
جا نکل جا میرے فسانے سے
اپنے در پر میں ایک آہٹ کا
منتظر ہوں بڑے زمانے سے
بے بسی رات بھر اٹھائے ہوئے
اشک نکلے سحر اٹھائے ہوئے
اوڑھ کر بھوک اپنے بچوں کی
گھرسے نکلا ہوں گھراٹھائے ہوئے
دیکھتے کیا ہو آسماں کو تم؟
اک پرندے کا پر اٹھائے ہوئے
آس ملن کی مر گئی جب زندانوں میں
پتھر ہو گئی آنکھیں روشن دانوں میں
جانے کیوں اک خوف سا ہے لٹ جانے کا
ایسا کیا ہے گھر آئے مہمانوں میں
دن بھر پیٹ کی آگ نہ بجھنے پائی تو
شب بھر بھوک جلائی آتشدانوں میں
عارضی کیا ہے، دائمی کیا ہے
اس میں جھگڑے کی بات ہی کیا ہے
میری آنکھوں میں آ گئے تھے اشک
اس نے پوچھا تھا جب خوشی کیا ہے
سال پچپن گزارنے کے بعد
سوچتا ہوں کہ زندگی کیا ہے
یاد نے اس قدر ستایا تھا
درد اپنا تھا، دل پرایا تھا
تُو زمانے سے جیت جائے گا
ایک جوگی نے یہ بتایا تھا
جس کے آنسو خریدنے تھے مجھے
وہ تو آنکھیں ہی بیچ آیا تھا
پائی جب بھی یار تھوڑی سی خوشی
بانٹ دی ہر بار تھوڑی سی خوشی
دستِ قدرت کی عجب تقسیم ہے
درد کے انبار، تھوڑی سی خوشی
لوگ کہتے ہیں کہ رہتی ہے کہیں
آنسوؤں کے پار تھوڑی سی خوشی
رکھ دیا میں نے در حسن پہ ہارا ہوا عشق
آج کے بعد مری جان تمہارا ہوا عشق
چوٹ گہری تھی مگر پاؤں نہیں رک پائے
ہم پلٹ آئے وہیں ہم کو دوبارا ہوا عشق
جھلملاتا ہے مری آنکھ میں آنسو بن کر
آ گیا راس مجھے دل میں اتارا ہوا عشق