Showing posts with label افتخار شاہد. Show all posts
Showing posts with label افتخار شاہد. Show all posts

Sunday, 22 June 2025

مگر یہ سر ہی جائے گا مری دستار سے پہلے

 یہ سوچا ہے کہ مر جائیں تمہارے وار سے پہلے

تمہاری جیت ہو جائے ہماری ہار سے پہلے

کسی لمحے تمہارا وار کاری ہو بھی سکتا ہے

مگر یہ سر ہی جائے گا مِری دستار سے پہلے

بتا کتنا گرا سکتا ہوں خود کو تیری خواہش پر

مِرا معیار بھی تُو ہے تِرے معیار سے پہلے

Sunday, 26 February 2023

نگار خانۂ ہستی میں ہے قرار مجھے

 نگار خانۂ ہستی میں ہے قرار مجھے

تُو آسماں کی بلندی سے اب پکار مجھے

نہیں نہیں میں مکمل ابھی ہوا ہی نہیں 

اے کوزہ گر نہ ابھی چاک سے اتار مجھے 

خزاں بہار کی آمد کا استعارہ ہے 

خزاں کی پیشرو لگتی ہے یہ بہار مجھے

Monday, 9 January 2023

دیپ جلتا ہوا دامن سے بجھایا ہم نے

 دِیپ جلتا ہوا دامن سے بجھایا ہم نے 

رات کو رقص کیا، ہجر منایا ہم نے 

گھر بنانے کی تمنا تھی ادھوری ہی رہی 

ایک نقشہ تو بہرحال بنایا ہم نے 

روٹھنے والا کسی طور بھی مانا ہی نہیں 

اس کو اک گیت کا مُکھڑا بھی سنایا ہم نے 

Saturday, 25 September 2021

لوگ کہتے ہیں کہ بے کار محبت کی ہے

 لوگ کہتے ہیں کہ بے کار محبت کی ہے

میں نے اک شخص سے دو بار محبت کی ہے

یوں سرِ شام یہ رونے کا تماشا کیسا؟

آپ ہی سوچیۓ سرکار محبت کی ہے

جانبِ دشت کہیں قیس بلاتا ہو گا

چھوڑیۓ آپ یہ گھر بار محبت کی ہے

Thursday, 23 September 2021

اتنی حیرت سے دیکھتا کیا ہے

 اتنی حیرت سے دیکھتا کیا ہے

میری صورت پہ کچھ لکھا کیا ہے

آئینہ سوچ میں تو ہے، لیکن

سوچتا ہوں یہ سوچتا کیا ہے

شور کیسا ہے چوک سے آگے

آؤ، دیکھیں معاملہ کیا ہے

Wednesday, 22 September 2021

تجھ کو پورا نہیں ملا ہوں میں

 تجھ کو پورا نہیں ملا ہوں میں

آدھا مجھ میں ہی رہ گیا ہوں میں

تیری محفل میں ذکر میرا ہے

یعنی اب بھی نہیں گیا ہوں میں

آئینے تلملائے جاتے ہیں

اس قدر خوشنما ہوا ہوں میں

Monday, 20 September 2021

اس بار اس کے ہجر کا شکوہ نہیں کیا

 اس بار اس کے ہجر کا شکوہ نہیں کیا

اس بار اس کا وصل ہی اچھا نہیں لگا

اس بار میرے شوق کی بانہیں نہیں کھلیں

اس بار خود ہی وہ مِرے سینے سے آ لگا

اس بار میل جول میں وارفتگی نہ تھی

اک دوسرے کو آج سنبھالا نہ جا سکا

تو آسماں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دے

 تُو آسماں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دے

ہاتھوں میں بھر کے نیلا سمندر اُچھال دے

کلمہ پڑھا ہوا ہوں میں تیرے حبیبﷺ کا

سائل نہیں کہ تُو مجھے چوکھٹ سے ٹال دے

ممکن ہے میرا ساتھ کسی روز چھوڑ دے

لیکن نہیں کہ وہ مجھے دل سے نکال دے

Sunday, 19 September 2021

رائی کا اک پہاڑ بنانے سے پیشتر

 رائی کا اک پہاڑ بنانے سے پیشتر

کچھ سوچنا تھا شور مچانے سے پیشتر

اک بار بوڑھے باپ کا چہرہ بھی دیکھ لو

دیوار گھر کے بیچ اٹھانے سے پیشتر

ہم نے ہوا کے ساتھ بھی کچھ بات چیت کی

ظلمت کدے میں دیپ جلانے سے پیشتر

Saturday, 18 September 2021

جدائی کا فسانہ ہے محبت کی کہانی ہے

 جدائی کا فسانہ ہے، محبت کی کہانی ہے

نہ اُس نے بات مانی ہے نہ میں نے ہار مانی ہے

کسی تلوار کی زد پر تو ہم دونوں ہی آئے ہیں

تجھے پہلو بچانا ہے، مجھے پگڑی بچانی ہے

کھڑے ہیں ایک مدت سے جدائی کے کٹہرے میں

اُدھر سے کج ادائی ہے، اِدھر سے بدگمانی ہے

Tuesday, 30 March 2021

ہوائے شام ذرا سا قیام ہو گا نا

 ہوائے شام! ذرا سا قیام ہو گا نا

چراغِ جاں کو جلاؤں، کلام ہو گا نا

بس ایک بات ہی پوچھی بچھڑنے والے نے

کبھی کہیں پہ ملے تو، سلام ہو گا نا

وہاں بہشت میں حور و کشور ہوں گے مگر

قرارِ جاں کا بھی کچھ انتظام ہو گا نا