یہ سوچا ہے کہ مر جائیں تمہارے وار سے پہلے
تمہاری جیت ہو جائے ہماری ہار سے پہلے
کسی لمحے تمہارا وار کاری ہو بھی سکتا ہے
مگر یہ سر ہی جائے گا مِری دستار سے پہلے
بتا کتنا گرا سکتا ہوں خود کو تیری خواہش پر
مِرا معیار بھی تُو ہے تِرے معیار سے پہلے
یہ سوچا ہے کہ مر جائیں تمہارے وار سے پہلے
تمہاری جیت ہو جائے ہماری ہار سے پہلے
کسی لمحے تمہارا وار کاری ہو بھی سکتا ہے
مگر یہ سر ہی جائے گا مِری دستار سے پہلے
بتا کتنا گرا سکتا ہوں خود کو تیری خواہش پر
مِرا معیار بھی تُو ہے تِرے معیار سے پہلے
نگار خانۂ ہستی میں ہے قرار مجھے
تُو آسماں کی بلندی سے اب پکار مجھے
نہیں نہیں میں مکمل ابھی ہوا ہی نہیں
اے کوزہ گر نہ ابھی چاک سے اتار مجھے
خزاں بہار کی آمد کا استعارہ ہے
خزاں کی پیشرو لگتی ہے یہ بہار مجھے
دِیپ جلتا ہوا دامن سے بجھایا ہم نے
رات کو رقص کیا، ہجر منایا ہم نے
گھر بنانے کی تمنا تھی ادھوری ہی رہی
ایک نقشہ تو بہرحال بنایا ہم نے
روٹھنے والا کسی طور بھی مانا ہی نہیں
اس کو اک گیت کا مُکھڑا بھی سنایا ہم نے
لوگ کہتے ہیں کہ بے کار محبت کی ہے
میں نے اک شخص سے دو بار محبت کی ہے
یوں سرِ شام یہ رونے کا تماشا کیسا؟
آپ ہی سوچیۓ سرکار محبت کی ہے
جانبِ دشت کہیں قیس بلاتا ہو گا
چھوڑیۓ آپ یہ گھر بار محبت کی ہے
اتنی حیرت سے دیکھتا کیا ہے
میری صورت پہ کچھ لکھا کیا ہے
آئینہ سوچ میں تو ہے، لیکن
سوچتا ہوں یہ سوچتا کیا ہے
شور کیسا ہے چوک سے آگے
آؤ، دیکھیں معاملہ کیا ہے
تجھ کو پورا نہیں ملا ہوں میں
آدھا مجھ میں ہی رہ گیا ہوں میں
تیری محفل میں ذکر میرا ہے
یعنی اب بھی نہیں گیا ہوں میں
آئینے تلملائے جاتے ہیں
اس قدر خوشنما ہوا ہوں میں
اس بار اس کے ہجر کا شکوہ نہیں کیا
اس بار اس کا وصل ہی اچھا نہیں لگا
اس بار میرے شوق کی بانہیں نہیں کھلیں
اس بار خود ہی وہ مِرے سینے سے آ لگا
اس بار میل جول میں وارفتگی نہ تھی
اک دوسرے کو آج سنبھالا نہ جا سکا
تُو آسماں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دے
ہاتھوں میں بھر کے نیلا سمندر اُچھال دے
کلمہ پڑھا ہوا ہوں میں تیرے حبیبﷺ کا
سائل نہیں کہ تُو مجھے چوکھٹ سے ٹال دے
ممکن ہے میرا ساتھ کسی روز چھوڑ دے
لیکن نہیں کہ وہ مجھے دل سے نکال دے
رائی کا اک پہاڑ بنانے سے پیشتر
کچھ سوچنا تھا شور مچانے سے پیشتر
اک بار بوڑھے باپ کا چہرہ بھی دیکھ لو
دیوار گھر کے بیچ اٹھانے سے پیشتر
ہم نے ہوا کے ساتھ بھی کچھ بات چیت کی
ظلمت کدے میں دیپ جلانے سے پیشتر
جدائی کا فسانہ ہے، محبت کی کہانی ہے
نہ اُس نے بات مانی ہے نہ میں نے ہار مانی ہے
کسی تلوار کی زد پر تو ہم دونوں ہی آئے ہیں
تجھے پہلو بچانا ہے، مجھے پگڑی بچانی ہے
کھڑے ہیں ایک مدت سے جدائی کے کٹہرے میں
اُدھر سے کج ادائی ہے، اِدھر سے بدگمانی ہے
ہوائے شام! ذرا سا قیام ہو گا نا
چراغِ جاں کو جلاؤں، کلام ہو گا نا
بس ایک بات ہی پوچھی بچھڑنے والے نے
کبھی کہیں پہ ملے تو، سلام ہو گا نا
وہاں بہشت میں حور و کشور ہوں گے مگر
قرارِ جاں کا بھی کچھ انتظام ہو گا نا