Monday, 20 September 2021

تو آسماں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دے

 تُو آسماں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دے

ہاتھوں میں بھر کے نیلا سمندر اُچھال دے

کلمہ پڑھا ہوا ہوں میں تیرے حبیبﷺ کا

سائل نہیں کہ تُو مجھے چوکھٹ سے ٹال دے

ممکن ہے میرا ساتھ کسی روز چھوڑ دے

لیکن نہیں کہ وہ مجھے دل سے نکال دے

شعر و سخن ہی ایک حوالہ ہو ذات کا

شعر و سخن میں تُو مجھے ایسا کمال دے

ایسی ضرب کہ سینۂ سنگ سے شرر اٹھے

ایسی نظر کہ دھڑکنیں مشکل میں ڈال دے

بس ایک بار وصل سے سرشار کر مجھے

بس ایک بار ہجر کا کانٹا نکال دے


افتخار شاہد

No comments:

Post a Comment