تیز آندھی نے فقط اک سائباں رہنے دیا
ہم زمیں زادوں کے سر پر آسماں رہنے دیا
لفظ وہ برتے کہ ساری بات مبہم ہو گئی
اک پردہ تھا کہ حائل درمیاں رہنے دیا
آنکھ بستی نے سبھی موسم مسافر کر دئیے
ایک اشکوں کی روانی کا سماں رہنے دیا
تیز آندھی نے فقط اک سائباں رہنے دیا
ہم زمیں زادوں کے سر پر آسماں رہنے دیا
لفظ وہ برتے کہ ساری بات مبہم ہو گئی
اک پردہ تھا کہ حائل درمیاں رہنے دیا
آنکھ بستی نے سبھی موسم مسافر کر دئیے
ایک اشکوں کی روانی کا سماں رہنے دیا
بے نام دیاروں سے ہم لوگ بھی ہو آئے
کچھ درد تھے چن لائے کچھ اشک تھے رو آئے
کچھ پاس نہ تھا اپنے بس آس لیے گھومے
اک عمر کی پُونجی تھی سو اس کو بھی کھو آئے
توہینِ انا بھی کی،۔ تحسینِ رِیا بھی کی
یہ بوجھ بھی ڈھونا تھا یہ بوجھ بھی ڈھو آئے
رکوں تو رکتا ہے چلنے پہ ساتھ چلتا ہے
مگر گرفت میں آتا نہیں کہ؛ سایا ہے
جھلس رہے ہیں بدن دھوپ کی تمازت سے
کہ رات بھر بڑے زوروں کا ابر برسا ہے
ابھی تو کل کی تھکن جسم سے نہیں نکلی
ستم کہ آج کا دن بھی پہاڑ جیسا ہے
ٹک کے بیٹھے کہاں بیزار طبیعت ہم سے
چھین ہی لے نہ کوئی آ کے یہ نعمت ہم سے
بر سر عام یہ کہتے ہیں کہ ہم جھوٹے ہیں
اس بھرے شہر میں زندہ ہے صداقت ہم سے
ہم جو مظلوم ہیں اک طرح سے ظالم ہیں ہم
ہر ستمگار کے بازو میں ہے طاقت ہم سے
اب جا کر احساس ہوا ہے پیار بھی کرنا تھا
پیار جو کرنا تھا اس کا اظہار بھی کرنا تھا
اول اول کشتئ جاں غرقاب بھی ہونا تھی
آخر آخر سانسوں کو پتوار بھی کرنا تھا
سب کچھ پانا بھی تھا ہم کو سب کچھ کھونا بھی
جیت بھی جانا تھا پھر جیت کو ہار بھی کرنا تھا
کسی کے ہاتھ پر تحریر ہونا
مِرا بھی صاحب تقدیر ہونا
فقط اک خواب ہو کر رہ گیا ہے
ادھورے خواب کی تعبیر ہونا
نکلنا روح کی گہرائی سے اور
دعا کا حاملِ تاثیر ہونا
گاؤں رفتہ رفتہ بنتے جاتے ہیں اب شہر
قریہ قریہ پھیل رہا ہے تنہائی کا زہر
مجھ کو ڈستا رہتا ہے بس ہر دم یہی خیال
ایک ہی رخ پر کیوں بہتا ہے دریا آٹھوں پہر
کون سا بھُولا بِسرا غم تھا جو آیا ہے یاد
رہ رہ کر پھر دل میں اُٹھے درد کی میٹھی لہر
بے نام دیاروں کا سفر کیسا لگا ہے؟
اب لوٹ کے آئے ہو تو گھر کیسا لگا ہے
کیسا تھا وہاں گرم دوپہروں کا جھُلسنا
برسات رُتوں کا یہ نگر کیسا لگا ہے؟
دن میں بھی دہل جاتا ہوں آباد گھروں سے
سایہ سا مِرے ساتھ یہ ڈر کیسا لگا ہے؟