Showing posts with label شفیق سلیمی. Show all posts
Showing posts with label شفیق سلیمی. Show all posts

Monday, 7 August 2023

تیز آندھی نے فقط اک سائباں رہنے دیا

 تیز آندھی نے فقط اک سائباں رہنے دیا

ہم زمیں زادوں کے سر پر آسماں رہنے دیا

لفظ وہ برتے کہ ساری بات مبہم ہو گئی

اک پردہ تھا کہ حائل درمیاں رہنے دیا

آنکھ بستی نے سبھی موسم مسافر کر دئیے

ایک اشکوں کی روانی کا سماں رہنے دیا

Saturday, 16 April 2022

بے نام دیاروں سے ہم لوگ بھی ہو آئے

بے نام دیاروں سے ہم لوگ بھی ہو آئے

کچھ درد تھے چن لائے کچھ اشک تھے رو آئے

کچھ پاس نہ تھا اپنے بس آس لیے گھومے

اک عمر کی پُونجی تھی سو اس کو بھی کھو آئے

توہینِ انا بھی کی،۔ تحسینِ رِیا بھی کی

یہ بوجھ بھی ڈھونا تھا یہ بوجھ بھی ڈھو آئے

Friday, 9 July 2021

رکوں تو رکتا ہے چلنے پہ ساتھ چلتا ہے

 رکوں تو رکتا ہے چلنے پہ ساتھ چلتا ہے

مگر گرفت میں آتا نہیں کہ؛ سایا ہے

جھلس رہے ہیں بدن دھوپ کی تمازت سے

کہ رات بھر بڑے زوروں کا ابر برسا ہے

ابھی تو کل کی تھکن جسم سے نہیں نکلی

ستم کہ آج کا دن بھی پہاڑ جیسا ہے

Tuesday, 27 April 2021

ٹک کے بیٹھے کہاں بیزار طبیعت ہم سے

 ٹک کے بیٹھے کہاں بیزار طبیعت ہم سے

چھین ہی لے نہ کوئی آ کے یہ نعمت ہم سے

بر سر عام یہ کہتے ہیں کہ ہم جھوٹے ہیں

اس بھرے شہر میں زندہ ہے صداقت ہم سے

ہم جو مظلوم ہیں اک طرح سے ظالم ہیں ہم

ہر ستمگار کے بازو میں ہے طاقت ہم سے

Thursday, 22 April 2021

اب جا کر احساس ہوا ہے پیار بھی کرنا تھا

 اب جا کر احساس ہوا ہے پیار بھی کرنا تھا

پیار جو کرنا تھا اس کا اظہار بھی کرنا تھا

اول اول کشتئ جاں غرقاب بھی ہونا تھی

آخر آخر سانسوں کو پتوار بھی کرنا تھا

سب کچھ پانا بھی تھا ہم کو سب کچھ کھونا بھی

جیت بھی جانا تھا پھر جیت کو ہار بھی کرنا تھا

Wednesday, 21 April 2021

کسی کے ہاتھ پر تحریر ہونا

 کسی کے ہاتھ پر تحریر ہونا

مِرا بھی صاحب تقدیر ہونا

فقط اک خواب ہو کر رہ گیا ہے

ادھورے خواب کی تعبیر ہونا

نکلنا روح کی گہرائی سے اور

دعا کا حاملِ تاثیر ہونا

گاؤں رفتہ رفتہ بنتے جاتے ہیں اب شہر

 گاؤں رفتہ رفتہ بنتے جاتے ہیں اب شہر

قریہ قریہ پھیل رہا ہے تنہائی کا زہر

مجھ کو ڈستا رہتا ہے بس ہر دم یہی خیال

ایک ہی رخ پر کیوں بہتا ہے دریا آٹھوں پہر

کون سا بھُولا بِسرا غم تھا جو آیا ہے یاد

رہ رہ کر پھر دل میں اُٹھے درد کی میٹھی لہر

بے نام دیاروں کا سفر کیسا لگا ہے

 بے نام دیاروں کا سفر کیسا لگا ہے؟

اب لوٹ کے آئے ہو تو گھر کیسا لگا ہے

کیسا تھا وہاں گرم دوپہروں کا جھُلسنا

برسات رُتوں کا یہ نگر کیسا لگا ہے؟

دن میں بھی دہل جاتا ہوں آباد گھروں سے

سایہ سا مِرے ساتھ یہ ڈر کیسا لگا ہے؟