Showing posts with label رئیس جہانگیرآبادی. Show all posts
Showing posts with label رئیس جہانگیرآبادی. Show all posts

Monday, 7 February 2022

اب کے موسم باغ کا منظر سہانہ لے گیا

 اب کے موسم باغ کا منظر سہانہ لے گیا

گل کی خوشبو بلبلوں کا چہچہانا لے گیا

کچھ ہوا برباد میری بے حسی کے نام پر

اور کچھ ورثہ میرا دشمن زمانہ لے گیا

بجلیاں لہراکے چمکی ہیں اسی اک شاخ پر

اب کے میں جس شاخ پر بھی آشیانہ لے گیا

Saturday, 18 December 2021

رات ڈھلنے والی ہے کوئی خواب آنے والا ہے

 رات ڈھلنے والی ہے کوئی خواب آنے والا ہے

تھوڑا سا اندھیرا ہے،۔ تھوڑا سا اُجالا ہے

ہوش میں نہیں ہم ہیں ہوش میں نہیں دل ہے

یاد کے سمندر میں کس نے جال ڈالا ہے

کوئلوں کی کو کو، ہے بلبلوں کی آوازیں

شبز شبز پتوں پر موتیوں کی مالا ہے

Friday, 3 December 2021

آئے وہ دن بھی اور شتاب آئے

 آئے وہ دن بھی اور شتاب آئے

بدلے حالات،۔ انقلاب آئے

رہبری ہو سکے گی کیا ان سے

آئے بھی وہ تو محوِ خواب آئے

سر اٹھا کر یہاں چلے نہ کوئی

جانے کب اس پہ کیا عتاب آئے

Wednesday, 1 December 2021

دوست یوں میری وفاؤں کا صلہ دینے لگے

 دوست یوں میری وفاؤں کا صلہ دینے لگے

گھر جلا میرا، وہ دامن سے ہوا دینے لگے

جب میں جینا چاہتا تھا لوگ دشمن تھے میرے

موت جب مانگی تو جینے کی دعا دینے لگے

چاہئے ہمت کنارے تک پہنچنے کے لیے

یہ کہاں ممکن کی طوفاں راستہ دینے لگے

Tuesday, 30 November 2021

گلشن ہستی ہمارے دم سے جب آباد ہے

 گلشنِ ہستی ہمارے دم سے جب آباد ہے

پھر ہمارا ہر نفس کیوں مائلِ فریاد ہے

عندلیبِ باغ پر ہر روز اک افتاد ہے

وہ بھی دن آئے کہ دیکھوں قید میں صیاد ہے

ہے جہنم یہ جہاں حسساس انساں کے لیے

بے ضمیروں کو یہ دنیا جنتیں شداد ہے

میرے لیے بھی کوئی تحفۂ سفر لانا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


میرے لیے بھی کوئی تحفۂ سفر لانا

پلٹ کے آنا تو پھر ایک نئی سحر لانا

کسی کا غم ہو مگر اپنی آنکھ بھر لانا

کہ جیسے ہنستے ہوئے دشمنوں کو گھر لانا

خدا خدا ہے، خدا بھی مگر نہ چاہے گا

میرے رسولﷺ کے جیسا کوئی بشر لانا

Monday, 29 November 2021

میرا رفیق جو مشہور ہے زمانے میں

 میرا رفیق جو مشہور ہے زمانے میں

اسی نے آگ لگائی تھی آشیانے میں

زرا سی دیر میں سب کچھ بکھر گیا اپنا

تمام عمر لگی تھی جسے بنانے میں

جدھر نگاہ اٹھی، آگ سی بھڑک اٹھی

تیرا جواب نہیں 🗲 بجلیاں گرانے میں