اب کے موسم باغ کا منظر سہانہ لے گیا
گل کی خوشبو بلبلوں کا چہچہانا لے گیا
کچھ ہوا برباد میری بے حسی کے نام پر
اور کچھ ورثہ میرا دشمن زمانہ لے گیا
بجلیاں لہراکے چمکی ہیں اسی اک شاخ پر
اب کے میں جس شاخ پر بھی آشیانہ لے گیا
اب کے موسم باغ کا منظر سہانہ لے گیا
گل کی خوشبو بلبلوں کا چہچہانا لے گیا
کچھ ہوا برباد میری بے حسی کے نام پر
اور کچھ ورثہ میرا دشمن زمانہ لے گیا
بجلیاں لہراکے چمکی ہیں اسی اک شاخ پر
اب کے میں جس شاخ پر بھی آشیانہ لے گیا
رات ڈھلنے والی ہے کوئی خواب آنے والا ہے
تھوڑا سا اندھیرا ہے،۔ تھوڑا سا اُجالا ہے
ہوش میں نہیں ہم ہیں ہوش میں نہیں دل ہے
یاد کے سمندر میں کس نے جال ڈالا ہے
کوئلوں کی کو کو، ہے بلبلوں کی آوازیں
شبز شبز پتوں پر موتیوں کی مالا ہے
آئے وہ دن بھی اور شتاب آئے
بدلے حالات،۔ انقلاب آئے
رہبری ہو سکے گی کیا ان سے
آئے بھی وہ تو محوِ خواب آئے
سر اٹھا کر یہاں چلے نہ کوئی
جانے کب اس پہ کیا عتاب آئے
دوست یوں میری وفاؤں کا صلہ دینے لگے
گھر جلا میرا، وہ دامن سے ہوا دینے لگے
جب میں جینا چاہتا تھا لوگ دشمن تھے میرے
موت جب مانگی تو جینے کی دعا دینے لگے
چاہئے ہمت کنارے تک پہنچنے کے لیے
یہ کہاں ممکن کی طوفاں راستہ دینے لگے
گلشنِ ہستی ہمارے دم سے جب آباد ہے
پھر ہمارا ہر نفس کیوں مائلِ فریاد ہے
عندلیبِ باغ پر ہر روز اک افتاد ہے
وہ بھی دن آئے کہ دیکھوں قید میں صیاد ہے
ہے جہنم یہ جہاں حسساس انساں کے لیے
بے ضمیروں کو یہ دنیا جنتیں شداد ہے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
میرے لیے بھی کوئی تحفۂ سفر لانا
پلٹ کے آنا تو پھر ایک نئی سحر لانا
کسی کا غم ہو مگر اپنی آنکھ بھر لانا
کہ جیسے ہنستے ہوئے دشمنوں کو گھر لانا
خدا خدا ہے، خدا بھی مگر نہ چاہے گا
میرے رسولﷺ کے جیسا کوئی بشر لانا
میرا رفیق جو مشہور ہے زمانے میں
اسی نے آگ لگائی تھی آشیانے میں
زرا سی دیر میں سب کچھ بکھر گیا اپنا
تمام عمر لگی تھی جسے بنانے میں
جدھر نگاہ اٹھی، آگ سی بھڑک اٹھی
تیرا جواب نہیں 🗲 بجلیاں گرانے میں