Showing posts with label ضیا قریشی. Show all posts
Showing posts with label ضیا قریشی. Show all posts

Thursday, 25 March 2021

آیتوں کی خوشبو ہے اور گلاب نیزے پر

 آیتوں کی خوشبو ہے اور گلاب نیزے پر

آج کتنا روشن ہے آفتاب نیزے پر

جس میں دِینِ عظمت کے سارے باب لکھے ہیں

آسماں سے اُترا ہے وہ نصاب نیزے پر

دوجہاں میں پھیلی ہیں جس کے نُور کی کرنیں

زندگی نے رکھ دی ہے وہ کتاب نیزے پر

Tuesday, 23 March 2021

تنہا گھر سے باہر جانا ٹھیک نہیں

 تنہا گھر سے باہر جانا ٹھیک نہیں

تم معصوم ہو اور زمانہ ٹھیک نہیں

ایسی چیزیں دور سے اچھی لگتی ہیں

چاند کو اپنے پاس بلانا ٹھیک نہیں

رفتہ رفتہ تعبیریں بہہ جاتی ہیں

نم آنکھوں میں خواب سجانا ٹھیک نہیں

Monday, 22 March 2021

پر امن مرے دیس کی ہر آن فضا ہو

 پُر امن مِرے دیس کی ہر آن فضا ہو

مولا!! یہ نیا سال حقیقت میں نیا ہو

دیکھے نہ مِری آنکھ کوئی درد کا منظر

دہشت کے تصور سے مِرا ذہن جدا ہو

گزرے ہوئے ہر سال سے اچھا ہو نیا سال

مقبول مِری صرف یہی ایک دعا ہو

Sunday, 21 March 2021

انا کی حکمرانی سے دلوں کی سلطنت آزاد کب ہو گی

 انا 


انا کی حکمرانی سے 

دلوں کی سلطنت آزاد کب ہو گی؟

محبت اس نگر میں 

مستقل آباد کب ہو گی؟


ضیاءاللہ قریشی

یاد تیری سنبھال کر رکھ دی

 یاد تیری سنبھال کر رکھ دی

اور ہر شے اِدھر اُدھر رکھ دی

لوگ مصروف تھے سو میں نے بھی

بات ہونٹوں پہ مختصر رکھ دی

میر نے فرش سے اٹھائی غزل

اور غالب نے عرش پر رکھ دی

Monday, 30 November 2020

اچھے لوگوں سے کنارہ نہیں اچھا ہوتا

 اچھے لوگوں سے کنارا نہیں اچھا ہوتا

اچھا ہوتا نہیں یارا، نہیں اچھا ہوتا

یار جینا ہے تو پھر شان سے جینا سیکھو

زیست میں صرف گزارا نہیں اچھا ہوتا

یہ حقیقت ہے محبت کے خسارے کے سوا

اور کوئی بھی خسارا نہیں اچھا ہوتا