آیتوں کی خوشبو ہے اور گلاب نیزے پر
آج کتنا روشن ہے آفتاب نیزے پر
جس میں دِینِ عظمت کے سارے باب لکھے ہیں
آسماں سے اُترا ہے وہ نصاب نیزے پر
دوجہاں میں پھیلی ہیں جس کے نُور کی کرنیں
زندگی نے رکھ دی ہے وہ کتاب نیزے پر
آیتوں کی خوشبو ہے اور گلاب نیزے پر
آج کتنا روشن ہے آفتاب نیزے پر
جس میں دِینِ عظمت کے سارے باب لکھے ہیں
آسماں سے اُترا ہے وہ نصاب نیزے پر
دوجہاں میں پھیلی ہیں جس کے نُور کی کرنیں
زندگی نے رکھ دی ہے وہ کتاب نیزے پر
تنہا گھر سے باہر جانا ٹھیک نہیں
تم معصوم ہو اور زمانہ ٹھیک نہیں
ایسی چیزیں دور سے اچھی لگتی ہیں
چاند کو اپنے پاس بلانا ٹھیک نہیں
رفتہ رفتہ تعبیریں بہہ جاتی ہیں
نم آنکھوں میں خواب سجانا ٹھیک نہیں
پُر امن مِرے دیس کی ہر آن فضا ہو
مولا!! یہ نیا سال حقیقت میں نیا ہو
دیکھے نہ مِری آنکھ کوئی درد کا منظر
دہشت کے تصور سے مِرا ذہن جدا ہو
گزرے ہوئے ہر سال سے اچھا ہو نیا سال
مقبول مِری صرف یہی ایک دعا ہو
انا
انا کی حکمرانی سے
دلوں کی سلطنت آزاد کب ہو گی؟
محبت اس نگر میں
مستقل آباد کب ہو گی؟
ضیاءاللہ قریشی
یاد تیری سنبھال کر رکھ دی
اور ہر شے اِدھر اُدھر رکھ دی
لوگ مصروف تھے سو میں نے بھی
بات ہونٹوں پہ مختصر رکھ دی
میر نے فرش سے اٹھائی غزل
اور غالب نے عرش پر رکھ دی
اچھے لوگوں سے کنارا نہیں اچھا ہوتا
اچھا ہوتا نہیں یارا، نہیں اچھا ہوتا
یار جینا ہے تو پھر شان سے جینا سیکھو
زیست میں صرف گزارا نہیں اچھا ہوتا
یہ حقیقت ہے محبت کے خسارے کے سوا
اور کوئی بھی خسارا نہیں اچھا ہوتا