Sunday, 21 March 2021

یاد تیری سنبھال کر رکھ دی

 یاد تیری سنبھال کر رکھ دی

اور ہر شے اِدھر اُدھر رکھ دی

لوگ مصروف تھے سو میں نے بھی

بات ہونٹوں پہ مختصر رکھ دی

میر نے فرش سے اٹھائی غزل

اور غالب نے عرش پر رکھ دی

تیرا کعبہ تو اور تھا واعظ

تُو نے اپنی جبیں کدھر رکھ دی؟


ضیاء اللہ قریشی

No comments:

Post a Comment