Showing posts with label شائق شہاب. Show all posts
Showing posts with label شائق شہاب. Show all posts

Monday, 11 March 2024

دوست سب ہو گئے اوجھل وہ پرانے اپنے

 دوست سب ہو گئے اوجھل وہ پرانے اپنے

جن کے ہوتے ہوئے ہوتے تھے زمانے اپنے

ہم محبت کے علمدار، وفا کے خوگر

اب بھی گاتے ہیں وہی گیت پرانے اپنے

ہو گئے خود وہ زمانے میں فسانوں کی طرح

جو سناتے تھے ہمیں روز فسانے اپنے

Saturday, 2 March 2024

یہ مرا ظرف کہ کم ظرف کو مشہور کیا

 یہ مِرا ظرف کہ کم ظرف کو مشہور کیا

تُو نے اے دل مجھے کس کام پہ مامور کیا

مجھ پہ جب راز کُھلا پارسائی کا اس کی

میں نے پھر اپنی نگاہوں سے اسے دُور کیا

میں نے ہر محفلِ اشعار کو بخشی توصیف

اس نے ہر محفلِ اشعار کو بے نُور کیا

Sunday, 24 December 2023

جب سے دل میں ترے ہم اتارے گئے ہم تو مارے گئے

 جب سے دل میں تِرے ہم اتارے گئے ہم تو مارے گئے

ہم تجھے جیت کر تجھ کو ہارے گئے ہم تو مارے گئے

جب فلک سے زمیں پر اُتارے گئے، ہم تو مارے گئے

خُلد کے رفتہ رفتہ نظارے گئے، ہم تو مارے گئے

توڑ لائیں گے تارے تمہارے لیے عہد و پیمان تھا

پر مقدر کے اپنے ستارے گئے، ہم تو مارے گئے

Thursday, 21 December 2023

ہر چمن آپ کا ہر گلی آپ کی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہر چمن آپﷺ کا ہر گلی آپﷺ کی

سارے عالم میں ہے روشنی آپﷺ کی

سارے نبیوں میں اعلی مقام آپﷺ کا

سارے نبیوں میں ہے رہبری آپﷺ کی

ساری دنیا بنی آپﷺ ہی کے لیے

ہم نے دیکھی مگر سادگی آپﷺ کی

Wednesday, 20 December 2023

تجھ سے اس راہ میں اب بات نہیں ہو سکتی

 تجھ سے اس راہ میں اب بات نہیں ہو سکتی

تُو بھی چاہے تو ملاقات نہیں ہو سکتی

دن تو دن راتیں گُزرتی تھیں تِرے ساتھ کبھی

اب تِرے ساتھ کوئی رات نہیں ہو سکتی

اے ستمگر! کیوں ستم مجھ پہ روا رکھتا ہے

روز مِلتے ہیں، مگر بات نہیں ہو سکتی