دوست سب ہو گئے اوجھل وہ پرانے اپنے
جن کے ہوتے ہوئے ہوتے تھے زمانے اپنے
ہم محبت کے علمدار، وفا کے خوگر
اب بھی گاتے ہیں وہی گیت پرانے اپنے
ہو گئے خود وہ زمانے میں فسانوں کی طرح
جو سناتے تھے ہمیں روز فسانے اپنے
دوست سب ہو گئے اوجھل وہ پرانے اپنے
جن کے ہوتے ہوئے ہوتے تھے زمانے اپنے
ہم محبت کے علمدار، وفا کے خوگر
اب بھی گاتے ہیں وہی گیت پرانے اپنے
ہو گئے خود وہ زمانے میں فسانوں کی طرح
جو سناتے تھے ہمیں روز فسانے اپنے
یہ مِرا ظرف کہ کم ظرف کو مشہور کیا
تُو نے اے دل مجھے کس کام پہ مامور کیا
مجھ پہ جب راز کُھلا پارسائی کا اس کی
میں نے پھر اپنی نگاہوں سے اسے دُور کیا
میں نے ہر محفلِ اشعار کو بخشی توصیف
اس نے ہر محفلِ اشعار کو بے نُور کیا
جب سے دل میں تِرے ہم اتارے گئے ہم تو مارے گئے
ہم تجھے جیت کر تجھ کو ہارے گئے ہم تو مارے گئے
جب فلک سے زمیں پر اُتارے گئے، ہم تو مارے گئے
خُلد کے رفتہ رفتہ نظارے گئے، ہم تو مارے گئے
توڑ لائیں گے تارے تمہارے لیے عہد و پیمان تھا
پر مقدر کے اپنے ستارے گئے، ہم تو مارے گئے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہر چمن آپﷺ کا ہر گلی آپﷺ کی
سارے عالم میں ہے روشنی آپﷺ کی
سارے نبیوں میں اعلی مقام آپﷺ کا
سارے نبیوں میں ہے رہبری آپﷺ کی
ساری دنیا بنی آپﷺ ہی کے لیے
ہم نے دیکھی مگر سادگی آپﷺ کی
تجھ سے اس راہ میں اب بات نہیں ہو سکتی
تُو بھی چاہے تو ملاقات نہیں ہو سکتی
دن تو دن راتیں گُزرتی تھیں تِرے ساتھ کبھی
اب تِرے ساتھ کوئی رات نہیں ہو سکتی
اے ستمگر! کیوں ستم مجھ پہ روا رکھتا ہے
روز مِلتے ہیں، مگر بات نہیں ہو سکتی