Showing posts with label خلیل چشتی. Show all posts
Showing posts with label خلیل چشتی. Show all posts

Wednesday, 21 December 2022

کبھی ہنس کر کبھی رو کر تماشا دیکھتے جاؤ

 کبھی ہنس کر کبھی رو کر، تماشا دیکھتے جاؤ

مکمل طور پر کھو کر، تماشا دیکھتے جاؤ

 کبھی تحسیں، کبھی تنقیص و تنقید اداکاراں

 کبھی تم نیوٹرل ہو کر، تماشا دیکھتے جاؤ

 کبھی ہیرو بنا ویلن،۔ کبھی ویلن بنا ہیرو 

 کبھی کردار خود ہو کر تماشا دیکھتے جاؤ

Friday, 6 August 2021

چاہتا ہوں میں جو اچھا تو برا آتا ہے

 چاہتا ہوں میں جو اچھا تو برا آتا ہے

سامنے میرے تو قسمت کا لکھا آتا ہے

درد بڑھ جاتا ہے دنیا پہ نظر ڈالتا ہوں

دیکھتا رہتا ہوں تجھ کو تو مزا آتا ہے

بد دعا میں نہیں کر سکتا یہ مجبوری ہے

شدتِ درد میں بھی حرفِ دعا آتا ہے

Wednesday, 4 August 2021

چپوؤں سے تو کبھی ناؤ سے مر جاتے ہیں

 چپوؤں سے تو کبھی ناؤ سے مر جاتے ہیں

لوگ اولاد کے برتاؤ سے مر جاتے ہیں

کوئی گفتار کی رفتار سے ہوتا ہے ذبیح

ہم تو دریا تِرے ٹہراؤ سے مر جاتے ہیں

قوم، تنظیم، خدا، دوست، محبت، اولاد

دل مفادات کے ٹکراؤ سے مر جاتے ہیں

Tuesday, 3 August 2021

متوجہ تری جانب ہوا اب من میرا

 متوجہ تِری جانب ہوا، اب من میرا

شہر کا شہر ہوا جاتا ہے دشمن میرا

دولت غم ہے، مُصلا ہے، خیال جاناں

اب نہ آون ہے کہیں اور نہ جاون میرا

دوست احباب نے منہ موڑ لیا ہے مجھ سے

پھونک ڈالا ہے مِرے گھر ہی نے خرمن میرا

Monday, 2 August 2021

بند ہونے لگے ہیں رستے کیوں

 بند ہونے لگے ہیں رستے کیوں

کوئی بتلائے، کون، کیسے، کیوں؟

باپ بیٹی کو کیسے بتلائے؟

لوٹ جاتے ہیں آ کے رشتے کیوں؟

اس سے پوچھو کہ جا رہی ہے کہاں؟

پٹریوں پر لٹا کے بچے کیوں؟

Sunday, 2 May 2021

رسم دنیا ہی نبھا دیتا، نبھانے والا

 رسمِ دنیا ہی نبھا دیتا، نبھانے والا

اب کوئی دوست نہیں ہاتھ ملانے والا

کوئی دیتا ہے جو دستک تو گماں ہوتا ہے

ملک الموت نہ ہو آج یہ آنے والا

کیا ڈریں غیر سے، اللہ سے ڈرنے والے

کامراں ہو نہ سکا کوئی ڈرانے والا