کبھی ہنس کر کبھی رو کر، تماشا دیکھتے جاؤ
مکمل طور پر کھو کر، تماشا دیکھتے جاؤ
کبھی تحسیں، کبھی تنقیص و تنقید اداکاراں
کبھی تم نیوٹرل ہو کر، تماشا دیکھتے جاؤ
کبھی ہیرو بنا ویلن،۔ کبھی ویلن بنا ہیرو
کبھی کردار خود ہو کر تماشا دیکھتے جاؤ
کبھی ہنس کر کبھی رو کر، تماشا دیکھتے جاؤ
مکمل طور پر کھو کر، تماشا دیکھتے جاؤ
کبھی تحسیں، کبھی تنقیص و تنقید اداکاراں
کبھی تم نیوٹرل ہو کر، تماشا دیکھتے جاؤ
کبھی ہیرو بنا ویلن،۔ کبھی ویلن بنا ہیرو
کبھی کردار خود ہو کر تماشا دیکھتے جاؤ
چاہتا ہوں میں جو اچھا تو برا آتا ہے
سامنے میرے تو قسمت کا لکھا آتا ہے
درد بڑھ جاتا ہے دنیا پہ نظر ڈالتا ہوں
دیکھتا رہتا ہوں تجھ کو تو مزا آتا ہے
بد دعا میں نہیں کر سکتا یہ مجبوری ہے
شدتِ درد میں بھی حرفِ دعا آتا ہے
چپوؤں سے تو کبھی ناؤ سے مر جاتے ہیں
لوگ اولاد کے برتاؤ سے مر جاتے ہیں
کوئی گفتار کی رفتار سے ہوتا ہے ذبیح
ہم تو دریا تِرے ٹہراؤ سے مر جاتے ہیں
قوم، تنظیم، خدا، دوست، محبت، اولاد
دل مفادات کے ٹکراؤ سے مر جاتے ہیں
متوجہ تِری جانب ہوا، اب من میرا
شہر کا شہر ہوا جاتا ہے دشمن میرا
دولت غم ہے، مُصلا ہے، خیال جاناں
اب نہ آون ہے کہیں اور نہ جاون میرا
دوست احباب نے منہ موڑ لیا ہے مجھ سے
پھونک ڈالا ہے مِرے گھر ہی نے خرمن میرا
بند ہونے لگے ہیں رستے کیوں
کوئی بتلائے، کون، کیسے، کیوں؟
باپ بیٹی کو کیسے بتلائے؟
لوٹ جاتے ہیں آ کے رشتے کیوں؟
اس سے پوچھو کہ جا رہی ہے کہاں؟
پٹریوں پر لٹا کے بچے کیوں؟
رسمِ دنیا ہی نبھا دیتا، نبھانے والا
اب کوئی دوست نہیں ہاتھ ملانے والا
کوئی دیتا ہے جو دستک تو گماں ہوتا ہے
ملک الموت نہ ہو آج یہ آنے والا
کیا ڈریں غیر سے، اللہ سے ڈرنے والے
کامراں ہو نہ سکا کوئی ڈرانے والا