Saturday, 17 October 2026

دست ساقی میں فروزاں تھے سبو رات گئے

 دستِ ساقی میں فروزاں تھے سبُو رات گئے

اور ادھر شیخ تھا مصرُوف وضُو رات گئے

سو گیا تان کے چادر تِرے قدموں میں کوئی

سازشیں کرتے رہے مِل کے عدُو رات گئے

کون اس شہر میں ہمرازِ الم ہے میرا

کون آیا ہے لیے جام و سبُو رات گئے

کس لیے پھر عشرتِ رفتہ کے فسانے چھیڑے

چشمِ تمکیں میں اُتر آیا لہُو رات گئے

ظُلمتِ شب نے چھُپائے ہیں سبھی عیب مِرے

کون دیکھے گا مِرا چاکِ رفُو رات گئے

گڑ گئی زیرِ زمیں چشمِ تمنّا جس دم

تب کہیں چاند چلا کر کے وضُو رات گئے

چشمِ شمشیر تھی خوں بار دمِ صُبحِ نشور

جانے کیا کہتے رہے زخمِ گلُو رات گئے

کون روتا تھا دمِ نزع سرھانے میرے

کون تھا پاس کھڑا مثلِ سبُو رات گئے


نور احمد شیخ

No comments:

Post a Comment