Friday, 9 October 2026

ساعت غم میں بھی فریاد نہیں کر پایا

 ساعت غم میں بھی فریاد نہیں کر پایا

ایک مدت سے تجھے یاد نہیں کر پایا

دیکھ کر وار پہ خاموش مِری آنکھوں کو

کرنے آیا تھا جو جلاد نہیں کر پایا

میری غزلوں کو کھنگالا بھی گیا تھا لیکن

فیصلہ کوئی بھی نقاد نہیں کر پایا

میں نے چاہا تھا تِرا کرب لکھوں سینے پر

ایلیا جون کو استاد نہیں کر پایا

بیوفا دیکھ ذبح خانے میں سر میرا یہ

کیا ہوا تو جو یہ سرداد نہیں کر پایا

مدتیں بیت گئیں پھر بھی تِری صورت کو

اپنی آنکھوں سے میں آزاد نہیں کر پایا

کر گیا ہے جو مراد عشق میں سید بچہ

کوہ کن تیشۂ فریاد نہیں کر پایا


سید مراد گیلانی

سید صدام گیلانی مراد

No comments:

Post a Comment