ساعت غم میں بھی فریاد نہیں کر پایا
ایک مدت سے تجھے یاد نہیں کر پایا
دیکھ کر وار پہ خاموش مِری آنکھوں کو
کرنے آیا تھا جو جلاد نہیں کر پایا
میری غزلوں کو کھنگالا بھی گیا تھا لیکن
فیصلہ کوئی بھی نقاد نہیں کر پایا
میں نے چاہا تھا تِرا کرب لکھوں سینے پر
ایلیا جون کو استاد نہیں کر پایا
بیوفا دیکھ ذبح خانے میں سر میرا یہ
کیا ہوا تو جو یہ سرداد نہیں کر پایا
مدتیں بیت گئیں پھر بھی تِری صورت کو
اپنی آنکھوں سے میں آزاد نہیں کر پایا
کر گیا ہے جو مراد عشق میں سید بچہ
کوہ کن تیشۂ فریاد نہیں کر پایا
سید مراد گیلانی
سید صدام گیلانی مراد
No comments:
Post a Comment