Showing posts with label اظہر عنایتی. Show all posts
Showing posts with label اظہر عنایتی. Show all posts

Tuesday, 15 March 2022

اجالا دشت جنوں میں بڑھانا پڑتا ہے

 اجالا دشت جنوں میں بڑھانا پڑتا ہے

کبھی کبھی ہمیں خیمہ جلانا پڑتا ہے

یہ مسخروں کو وظیفے یوں ہی نہیں ملتے

رئیس خود نہیں ہنستے ہنسانا پڑتا ہے

بڑی عجیب یہ مجبوریاں سماج کی ہیں

منافقوں سے تعلق نبھانا پڑتا ہے

Monday, 7 June 2021

ہر ایک رات کو مہتاب دیکھنے کے لیے

 ہر ایک رات کو مہتاب دیکھنے کے لیے

میں جاگتا ہوں تِرا خواب دیکھنے کے لیے

نہ جانے شہر میں کس کس سے جھوٹ بولوں گا

میں گھر کے پھولوں کو شاداب دیکھنے کے لیے

اسی لیے میں کسی اور کا نہ ہو جاؤں

مجھے وہ دے گیا اک خواب دیکھنے کے لیے

Sunday, 2 May 2021

ابھی بچھڑا ہے وہ کچھ روز تو یاد آئے گا

 ابھی بچھڑا ہے وہ کچھ روز تو یاد آئے گا

نقش روشن ہے مگر نقش ہے دُھندلائے گا

گھر سے کس طرح میں نکلوں کہ یہ مدھم سا چراغ

میں نہیں ہوں گا تو تنہائی میں بُجھ جائے گا

اب مِرے بعد کوئی سر بھی نہیں ہو گا طلوع

اب کسی سمت سے پتھر بھی نہیں آئے گا

Saturday, 20 March 2021

چلتے چلتے سال کتنے ہو گئے

 چلتے چلتے سال کتنے ہو گئے

پیڑ بھی رَستے کے بوڑھے ہو گئے

چاند کو میں چھُو نہیں پایا، مگر

خواب سب میرے سنہرے ہو گئے

اُنگلیاں مضبوط ہاتھوں سے چھُٹیں

بھیڑ میں بچے اکیلے ہو گئے

Thursday, 24 September 2020

جب تک سفید آندھی کے جھونکے چلے نہ تھے

 جب تک سفید آندھی کے جھونکے چلے نہ تھے

اتنے گھنے درختوں سے پتے گرے نہ تھے

اظہار پر تو پہلے بھی پابندیاں نہ تھیں

لیکن بڑوں کے سامنے ہم بولتے نہ تھے

ان کے بھی اپنے خواب تھے اپنی ضرورتیں

ہمسائے کا مگر وہ گلا کاٹتے نہ تھے

Wednesday, 2 September 2020

موسم گیا گلاب گئے تتلیاں گئیں

کیا کیا نواحِ چشم کی رعنائیاں گئیں
موسم گیا، گلاب گئے، تتلیاں گئیں
جھوٹی سیاہیوں سے ہیں شجرے لکھے ہوئے
اب کے حسب نسب کی بھی سچائیاں گئیں
کس ذہن سے یہ سارے محاذوں پہ جنگ تھی
کیا فتح ہو گیا کہ صف آرائیاں گئیں

کچھ عارضی اجالے بچائے ہوئے ہیں لوگ

کچھ عارضی اجالے بچائے ہوئے ہیں لوگ
مٹھی میں جگنوؤں کو چھپائے ہوئے ہیں لوگ
اس شخص کو تو قتل ہوۓ دیر ہو گئی
اب کس لیے یہ بھیڑ لگائے ہوئے ہیں لوگ
برسوں پرانے درد نہ اٹھکیلیاں کریں
اب تو نئے غموں کے ستائے ہوئے ہیں لوگ

Tuesday, 1 September 2020

وہ تڑپ جائے اشارہ کوئی ایسا دینا

وہ تڑپ جائے اشارہ کوئی ایسا دینا
اس کو خط لکھنا تو میرا بھی حوالہ دینا
اپنی تصویر بناؤ گے تو ہو گا احساس
کتنا دشوار ہے خود کو کوئی چہرہ دینا
اس قیامت کی جب اس شخص کو آنکھیں دی ہیں
اے خدا! خواب بھی دینا تو سنہرا دینا

خط اس کے اپنے ہاتھ کا آتا نہیں کوئی

خط اس کے اپنے ہاتھ کا آتا نہیں کوئی
کیا حادثہ ہوا ہے؟ بتاتا نہیں کوئی
گڑیا جوان کیا ہوئی میرے پڑوس کی
آنچل میں جگنوؤں کو چھپاتا نہیں کوئی
جب سے بتا دیا ہے نجومی نے میرا نام
اپنی ہتھیلیوں کو دِکھاتا نہیں کوئی

Monday, 31 August 2020

اب جو بادل ہیں دھواں تھے پہلے

اس بلندی پہ کہاں تھے پہلے
اب جو بادل ہیں دھواں تھے پہلے
نقش مٹتے ہیں تو آتا ہے خیال
ریت پر ہم بھی کہاں تھے پہلے
اب ہر اک شخص ہے اعجاز طلب
شہر میں چند مکاں تھے پہلے

گھر تو ہمارا شعلوں کے نرغے میں آ گیا

گھر تو ہمارا شعلوں کے نرغے میں آ گیا
لیکن تمام شہر اجالے میں آ گیا
یہ بھی رہا ہے کوچۂ جاناں میں اپنا رنگ
آہٹ ہوئی تو چاند دریچے میں آ گیا
اب تو محبتوں کا محبت سے دے جواب
میں خود سے ہار کر تِرے خیمے میں آ گیا

Sunday, 30 August 2020

اسے بھی اے خدا مشہور کر دے

اذیت اس کی ذہنی دور کر دے
اسے بھی اے خدا مشہور کر دے
اسی میں فتح کا تیری ہے امکاں
مجھے گھر میں مِرے محصور کر دے
یہ چہرے، یہ فریب آلود چہرے
انہیں کوئی نظر سے دور کر دے

جانے آیا تھا کیوں مکان سے میں

جانے آیا تھا کیوں مکان سے میں
کیا خریدوں گا اس دکان سے میں
ہو گیا اپنی ہی انا سے ہلاک
دب گیا اپنی ہی چٹان سے میں
ایک رنگین سی بغاوت پر
کٹ گیا سارے خاندان سے میں

اب یہ معیار شہریاری ہے

اب یہ معیار شہریاری ہے
کون کتنا بڑا مداری ہے
ہم نے روشن چراغ کر تو دیا
اب ہواؤں کی ذمہ داری ہے
صرف باہر نہیں محاذ کھلا
میرے اندر بھی جنگ جاری ہے

Tuesday, 4 August 2020

اس حادثے کو دیکھ کے آنکھوں میں درد ہے

اس حادثے کو دیکھ کے آنکھوں میں درد ہے
اپنی جبیں پہ اپنے ہی قدموں کی گرد ہے
آ، تھوڑی دیر بیٹھ کے باتیں کریں یہاں
تیرے تو یار! "لہجے" میں اپنا سا درد ہے
کیا ہو گئیں نہ جانے تِری گرم جوشیاں؟
موسم سے آج ہاتھ "سوا" تیرا سرد ہے

اداس اداس طبیعت جو تھی بہلنے لگی

اداس اداس طبیعت جو تھی، بہلنے لگی
ابھی میں رو ہی رہا تھا کہ رُت بدلنے لگی
ذرا تھمے تھے کہ پھر ہو گئے رواں آنسو
جو رک گئی تھی وہ غم کی برات چلنے لگی
ٹھہر گئی ہے کہاں آ کے ڈھلتے ڈھلتے رات
مِری نظر بھی چراغوں کے ساتھ جلنے لگی

میں سمندر تھا مجھے چین سے رہنے نہ دیا

میں سمندر تھا مجھے چین سے رہنے نہ دیا
خامشی سے کبھی دریاؤں نے بہنے نہ دیا
اپنے بچپن میں جسے سن کے میں سو جاتا تھا
میرے بچوں نے وہ قصہ مجھے کہنے نہ دیا
کچھ طبیعت میں تھی آوارہ مزاجی شامل
کچھ بزرگوں نے بھی گھر میں مجھے رہنے نہ دیا