اجالا دشت جنوں میں بڑھانا پڑتا ہے
کبھی کبھی ہمیں خیمہ جلانا پڑتا ہے
یہ مسخروں کو وظیفے یوں ہی نہیں ملتے
رئیس خود نہیں ہنستے ہنسانا پڑتا ہے
بڑی عجیب یہ مجبوریاں سماج کی ہیں
منافقوں سے تعلق نبھانا پڑتا ہے
اجالا دشت جنوں میں بڑھانا پڑتا ہے
کبھی کبھی ہمیں خیمہ جلانا پڑتا ہے
یہ مسخروں کو وظیفے یوں ہی نہیں ملتے
رئیس خود نہیں ہنستے ہنسانا پڑتا ہے
بڑی عجیب یہ مجبوریاں سماج کی ہیں
منافقوں سے تعلق نبھانا پڑتا ہے
ہر ایک رات کو مہتاب دیکھنے کے لیے
میں جاگتا ہوں تِرا خواب دیکھنے کے لیے
نہ جانے شہر میں کس کس سے جھوٹ بولوں گا
میں گھر کے پھولوں کو شاداب دیکھنے کے لیے
اسی لیے میں کسی اور کا نہ ہو جاؤں
مجھے وہ دے گیا اک خواب دیکھنے کے لیے
ابھی بچھڑا ہے وہ کچھ روز تو یاد آئے گا
نقش روشن ہے مگر نقش ہے دُھندلائے گا
گھر سے کس طرح میں نکلوں کہ یہ مدھم سا چراغ
میں نہیں ہوں گا تو تنہائی میں بُجھ جائے گا
اب مِرے بعد کوئی سر بھی نہیں ہو گا طلوع
اب کسی سمت سے پتھر بھی نہیں آئے گا
چلتے چلتے سال کتنے ہو گئے
پیڑ بھی رَستے کے بوڑھے ہو گئے
چاند کو میں چھُو نہیں پایا، مگر
خواب سب میرے سنہرے ہو گئے
اُنگلیاں مضبوط ہاتھوں سے چھُٹیں
بھیڑ میں بچے اکیلے ہو گئے
جب تک سفید آندھی کے جھونکے چلے نہ تھے
اتنے گھنے درختوں سے پتے گرے نہ تھے
اظہار پر تو پہلے بھی پابندیاں نہ تھیں
لیکن بڑوں کے سامنے ہم بولتے نہ تھے
ان کے بھی اپنے خواب تھے اپنی ضرورتیں
ہمسائے کا مگر وہ گلا کاٹتے نہ تھے