کچھ تعلق بھی نہیں رسم جہاں سے آگے
اس سے رشتہ بھی رہا وہم و گماں سے آگے
لے کے پہنچی ہے کہاں سیم بدن کی خواہش
کچھ علاقہ نہ رہا سود و زیاں سے آگے
خواب زاروں میں وہ چہرہ ہے نمو کی صورت
اور اک فصل اگی رشتۂ جاں سے آگے
کچھ تعلق بھی نہیں رسم جہاں سے آگے
اس سے رشتہ بھی رہا وہم و گماں سے آگے
لے کے پہنچی ہے کہاں سیم بدن کی خواہش
کچھ علاقہ نہ رہا سود و زیاں سے آگے
خواب زاروں میں وہ چہرہ ہے نمو کی صورت
اور اک فصل اگی رشتۂ جاں سے آگے
اپنی انا سے بر سر پیکار میں ہی تھا
سچ بولنے کی دھن تھی سر دار میں ہی تھا
سازش رچی گئی تھی کچھ ایسی مِرے خلاف
ہر انجمن میں باعثِ آزار میں ہی تھا
سو کرتبوں سے زخم لگائے گئے مجھے
شاید کہ اپنے عہد کا شہکار میں ہی تھا
بجائے گل مجھے تحفہ دیا ببولوں کا
میں منحرف تو نہیں تھا ترے اصولوں کا
ازالہ کیسے کرے گا وہ اپنی بھولوں کا
کہ جس کے خون میں نشہ نہیں اصولوں کا
نفس کا قرض چکانا بھی کوئی کھیل نہیں
وہ جان جائے گا انجام اپنی بھولوں کا
وہ خواب طلب گار تماشا بھی نہیں ہے
کہتے ہیں کسی نے اسے دیکھا بھی نہیں ہے
پہلی سی وہ خوشبوئے تمنا بھی نہیں ہے
اس بار کوئی خوف ہوا کا بھی نہیں ہے
اس چاند کی انگڑائی سے روشن ہیں در و بام
جو پردہ شب رنگ پہ ابھرا بھی نہیں ہے
ابھی تو فیصلہ باقی ہے، شام ہونے دے
سحر کی اوٹ میں مہتابِ جاں کو رونے دے
تری نظر کے اشارے نہ روشنی بن جائیں
تو پھر یہ رات کہاں جگنوؤں کو سونے دے
بہت ہُوا تو ہواؤں کے ساتھ رو لوں گا
ابھی تو ضد ہے مجھے کشتیاں ڈبونے دے