Showing posts with label کبیر اجمل. Show all posts
Showing posts with label کبیر اجمل. Show all posts

Wednesday, 28 June 2023

کچھ تعلق بھی نہیں رسم جہاں سے آگے

 کچھ تعلق بھی نہیں رسم جہاں سے آگے

اس سے رشتہ بھی رہا وہم و گماں سے آگے

لے کے پہنچی ہے کہاں سیم بدن کی خواہش

کچھ علاقہ نہ رہا سود و زیاں سے آگے

خواب زاروں میں وہ چہرہ ہے نمو کی صورت

اور اک فصل اگی رشتۂ جاں سے آگے

Tuesday, 30 May 2023

اپنی انا سے بر سر پیکار میں ہی تھا

 اپنی انا سے بر سر پیکار میں ہی تھا

سچ بولنے کی دھن تھی سر دار میں ہی تھا

سازش رچی گئی تھی کچھ ایسی مِرے خلاف

ہر انجمن میں باعثِ آزار میں ہی تھا

سو کرتبوں سے زخم لگائے گئے مجھے

شاید کہ اپنے عہد کا شہکار میں ہی تھا

Thursday, 25 May 2023

بجائے گل مجھے تحفہ دیا ببولوں کا

 بجائے گل مجھے تحفہ دیا ببولوں کا 

میں منحرف تو نہیں تھا ترے اصولوں کا 

ازالہ کیسے کرے گا وہ اپنی بھولوں کا 

کہ جس کے خون میں نشہ نہیں اصولوں کا 

نفس کا قرض چکانا بھی کوئی کھیل نہیں 

وہ جان جائے گا انجام اپنی بھولوں کا 

Friday, 29 April 2022

وہ خواب طلبگار تماشا بھی نہیں ہے

 وہ خواب طلب گار تماشا بھی نہیں ہے

کہتے ہیں کسی نے اسے دیکھا بھی نہیں ہے

پہلی سی وہ خوشبوئے تمنا بھی نہیں ہے

اس بار کوئی خوف ہوا کا بھی نہیں ہے

اس چاند کی انگڑائی سے روشن ہیں در و بام

جو پردہ شب رنگ پہ ابھرا بھی نہیں ہے

Wednesday, 11 November 2020

ابھی تو فیصلہ باقی ہے شام ہونے دے

 ابھی تو فیصلہ باقی ہے، شام ہونے دے

سحر کی اوٹ میں مہتابِ جاں کو رونے دے

تری نظر کے اشارے نہ روشنی بن جائیں

تو پھر یہ رات کہاں جگنوؤں کو سونے دے

بہت ہُوا تو ہواؤں کے ساتھ رو لوں گا

ابھی تو ضد ہے مجھے کشتیاں ڈبونے دے