عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جس وقت خُدا کی رحمت سے مِدحت کا شعور آ جاتا ہے
الفاظ چمکنے لگتے ہیں، آواز میں نُور آ جاتا ہے
لاتا ہوں تصوّر میں جس دم، اخلاقِ کریمانہ اس کا
قرآن کے پیکر میں ڈھل کر، وہ جانِ زبور آ جاتا ہے
اک میں ہی نہیں کہتا لوگو، تاریخ گواہی دیتی ہے
اس نام پہ مرنے والوں کو جینے کا سرور آ جاتا ہے