Showing posts with label سید انصر. Show all posts
Showing posts with label سید انصر. Show all posts

Thursday, 18 January 2024

جس وقت خدا کی رحمت سے مدحت کا شعور آ جاتا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جس وقت خُدا کی رحمت سے مِدحت کا شعور آ جاتا ہے

الفاظ چمکنے لگتے ہیں، آواز میں نُور آ جاتا ہے

لاتا ہوں تصوّر میں جس دم، اخلاقِ کریمانہ اس کا

قرآن کے پیکر میں ڈھل کر، وہ جانِ زبور آ جاتا ہے

اک میں ہی نہیں کہتا لوگو، تاریخ گواہی دیتی ہے

اس نام پہ مرنے والوں کو جینے کا سرور آ جاتا ہے

Thursday, 30 March 2023

مت سمجھیے کہ پذیرائی بہت ملتی ہے

مت سمجھیے کہ پذیرائی بہت ملتی ہے

سچ کہا جائے تو رُسوائی بہت ملتی ہے

بزمِ احباب میں جانے کا سبب یہ بھی ہے

ایسی تقریب میں تنہائی بہت ملتی ہے

تجھ کو مرہم کی توقع ہے؟ جہاں خلقتِ شہر

رِستے زخموں کی تماشائی بہت ملتی ہے

Wednesday, 15 March 2023

ہونے کو تو اس شہر میں کیا کیا نہیں ہوتا

 ہونے کو تو اس شہر میں کیا کیا نہیں ہوتا 

حیرت ہے کہ اک شخص ہمارا نہیں ہوتا

دل صورتِ دریا ہے تو دریا کے کنارے

وہ بھی چلا آتا ہے جو پیاسا نہیں ہوتا

ہر شکل شریفانہ تو ہو سکتی ہے لیکن

ہر شخص حقیقت میں فرشتہ نہیں ہوتا

Monday, 30 August 2021

کبھی کبھار ملاقات کا بہانہ بنے

 کبھی کبھار ملاقات کا بہانہ بنے

پھر اس کے بعد بلا سے کوئی فسانہ بنے

عجب نہیں ہے کہ اس بار دو اناؤں کی جنگ

جہان بھر کی تباہی کا شاخسانہ بنے

وہ سب جہان کا ہے سب جہان اس کا ہے

بس ایک میرے لیے اس کے دل میں جا نہ بنے

Monday, 3 May 2021

یہیں سے لوٹ چلو واسطہ خدا کا ہے

 یہیں سے لوٹ چلو واسطہ خدا کا ہے

کہ اب انا کا نہیں مسئلہ بقا کا ہے

تِرے چراغ کا بُجھنا انوکھی بات نہیں

بہت دنوں سے یہی مشغلہ ہوا کا ہے

یہ اور بات کہ چُپ ہیں مروتاً، ورنہ

گِلہ ہمیں بھی سخن ہائے ناسزا کا ہے

Saturday, 13 April 2019

خونرنگ خموشی کی گرہ کھولنے والے

خوں رنگ خموشی کی گِرہ کھولنے والے
یاں کاٹ دئیے جاتے ہیں سر بولنے والے
ہر پنجرہ کسی دوسرے پنجرے میں پڑا ہے
اڑ کر بھی کہاں جائیں گے پر تولنے والے
ممکن ہے کسی روز قلم کر دیئے جائیں
یہ ہاتھ کتابوں کے ورق پھولنے والے

Monday, 25 March 2019

رکھنا تھا لڑائی میں اصولوں کا بھرم بھی

رکھنا تھا لڑائی میں اصولوں کا بھرم بھی
گرنے نہ دیا خاک پہ دشمن کا علم بھی
تنہا بھی نظر آؤں تو تنہا نہ سمجھنا
ہوتے ہیں مِرے ساتھ کئی اہلِ عدم بھی
جانا ہے جدھر جس کو چلا جائے خوشی سے
اب سامنے موجود خدا بھی ہے صنم بھی

Thursday, 11 January 2018

شام تنہائی قیامت سے کڑی ہے اور میں

شامِ تنہائی قیامت سے کڑی ہے اور میں
ایک برچھی سی کلیجے میں گڑی ہے اور میں
میرے بکھرے ہوئے ٹکڑے تو سمیٹے جائیں
آپ کو جشن منانے کی پڑی ہے اور میں
باعثِ شرم ہے یارو! مِرا دریا ہونا
سامنے خلقِ خدا پیاسی کھڑی ہے اور میں

نظر انداز ہو کر بھی اسی محفل کا حصہ ہوں

نظر انداز ہو کر بھی اسی محفل کا حصہ ہوں
کسی کی آنکھ کا تارا کسی کے دل کا حصہ ہوں
مِری پیوستگی کا امتحاں لیتا ہوا دریا
کسی دن جان جائے گا کہ میں ساحل کا حصہ ہوں
فرشتوں جیسی سیرت کی توقع مجھ سے مت رکھنا
بشر زادہ ہوں اور دنیائے آب و گل کاحصہ ہوں

Monday, 11 December 2017

ملال یہ ہے مسائل کا حل بناتے ہوئے

ملال یہ ہے مسائل کا حل بناتے ہوئے
گنوا کے بیٹھ گئے آج، کل بناتے ہوئے
گھسے پٹے ہوئے لہجوں میں کچھ نہیں رکھا
نیا ہی رنگ نکالو غزل بناتے ہوئے
بظاہر ایک ہی پل میں بدل گیا سب کچھ
کئی زمانے لگے ایک پل بناتے ہوئے

منظر میں کوئی اور تصور میں کوئی اور

منظر میں کوئی اور تصور میں کوئی اور
ہے تال میں دھن اور کوئی سُر میں کوئی اور
چہرے پہ تو کچھ اور ہی تحریر تھا لیکن
تصویر جھلکتی تھی دلِ حر میں کوئی اور
میں حیرتی حسن ازل کیا ہوں مگر سن
مجھ سا بھی نہیں اہلِ تحیر میں کوئی اور

اس تکلم کی ادا پر کوئی کیا بات کرے

اس تکلم کی ادا پر کوئی کیا بات کرے
ہونٹ چپ ہوں تو تِرا رنگِ حنا بات کرے
دیکھ ہم خاک نشینوں سے زمانے کا سلوک
جیسے سوکھے ہوئے پتوں سے ہوا بات کرے
مجھ کو ہر فیصلہ منظور, مگر آخری بار
وہ مِرے سامنے آ کر تو ذرا بات کرے

Friday, 1 December 2017

جو میں سوئے طیبہ چلوں کبھی تو سفر میں ایسا کمال ہو

نعت سرور عالمﷺ 

جو میں سوئے طیبہ چلوں کبھی تو سفر میں ایسا کمال ہو
نہ ستائیں راہ کے پیچ و خم، نہ بدن تھکن سے نڈھال ہو
مِری خاک خشت میں ڈھال کر اسے چن دو روضۂ پاک میں
نہ ہی فاصلوں کا گلہ رہے، نہ جدائیوں کا ملال ہو
تِرا عشق میرا خزانہ ہے، تِرا ذکر مِری کمائی ہے
میں وہ دن نہ دیکھوں خدا کرے کہ مِری طلب زر و مال ہو

اے خدا شکر ہے دنیا کے نکل جانے سے

اے خدا شکر ہے دنیا کے نکل جانے سے
ایک بت کم تو ہوا دل کے صنم خانے سے
میں بہت دیر کہانی میں نہیں رہنے کا
یہ حقیقت بھی نکل جائے گی افسانے سے
کتنے ٹکڑوں میں بٹا شیشۂ جاں دیکھو نا
اک ذرا جسم کی دیوار کو لرزانے سے

انہیں بتاؤ جو کہتے ہیں کیا بچا مرے پاس

انہیں بتاؤ جو کہتے ہیں کیا بچا مِرے پاس
ہر ایک چیز لٹا کر خدا بچا مرے پاس
اٹھانے والے اٹھا لے گئے خزینۂ زر
میں خوش نصیب ہوں رختِ دعا بچا مرے پاس
کئی سماعتیں خائف ہیں اس لیے مجھ سے
سکوتِ شہر میں سنگِ صدا بچا مرے پاس

Saturday, 24 December 2016

میں بے صدا نہ جہاں میں کسی طور بھی ہوا

میں بے صدا نہ جہاں میں کسی طور بھی ہوا
کبھی زباں، کبھی زنجیرِ پا کا شور ہوا
نگوں تو خیر کہاں ہو سکا حریفوں سے
ہر اک محاذ پہ میں سر بلند اور ہوا
ہوا خموش تو حسنِ سخن کی داد ملی
میں جل بجھا تو مِری روشنی پہ غور ہوا

ابد کنار اجالوں سے ہیں بھرے ہوئے ہم

ابد کنار اجالوں سے ہیں بھرے ہوئے ہم
ہوا کے رحم و کرم پر نہیں دھرے ہوئے ہم
سناں پہ سج کے بھی سچائی کی گواہی دی
ہزار زندوں پہ بھاری رہے مَرے ہوئے ہم
ہجومِ رنگ پہ شعلہ زنی کا شائبہ تھا
گلاب چھو نہ سکے آگ سے ڈرے ہوئے ہم

خواہ بے ساز و رخت ہیں ہم لوگ

خواہ بے سازورخت ہیں ہم لوگ
والئ تاج و تخت ہیں ہم لوگ
چھاؤں دیتے ہیں، پھل لٹاتے ہیں
چلتے پھرتے درخت ہیں ہم لوگ
چھو گئے تھے کسی کلی سے کہیں
آج تک لخت لخت ہیں ہم لوگ

Wednesday, 14 December 2016

یہ بد قماش جو اہل عطا بنے ہوئے ہیں

یہ بد قماش جو اہلِ عطا بنے ہوئے ہیں
بشر تو بن نہیں سکتے، خدا بنے ہوئے ہیں
میں جانتا ہوں کچھ ایسے عظیم لوگوں کو
جو ظلم سہہ کے سراپا دعا بنے ہوئے ہیں
وہ مجھ سے ہاتھ چھڑا لے تو کچھ عجب بھی نہیں
اسے خبر ہے کہ حالات کیا بنے ہوئے ہیں

کہاں وہ پیکر نوری کہاں یہ ذرہ خاک

ہدیۂ نعت بحضور سرور کائناتﷺ

کہاں وہ پیکر نوری کہاں یہ ذرۂ خاک
زہے نصیب، کہ ہاتھ آ گیا ہے دامنِ پاک
مقام آپﷺ کا مخلوق پر کھلا ہی نہیں
احاطہ کیسے کرے جن و انس کا ادراک
جبینِ عرش تِرے نقشِ پا کی ہے ممنون
تِرے وجود کا احسان مند عالمِ خاک