عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
قربان آپ پر ہیں دل و جان یا نبیؐ
بس ہے یہ میرا دین یہ ایمان یا نبیؐ
جانِ نجات، صاحبِ قرآن یا نبیؐ
کردیں ہماری آخرت آسان، یا نبیؐ
اس دہرِ بے بساط کی چھوٹے ہر ایک شئے
چھوٹے مگر نہ آپ کا دامان یا نبیؐ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
قربان آپ پر ہیں دل و جان یا نبیؐ
بس ہے یہ میرا دین یہ ایمان یا نبیؐ
جانِ نجات، صاحبِ قرآن یا نبیؐ
کردیں ہماری آخرت آسان، یا نبیؐ
اس دہرِ بے بساط کی چھوٹے ہر ایک شئے
چھوٹے مگر نہ آپ کا دامان یا نبیؐ
جب بھی اُمید کو کھیتوں میں اُگانے نکلے
ہم نے دیکھا اسی مٹی سے خزانے نکلے
شہر کا شہر ہی سڑکوں پہ اُمنڈ آیا تھا
جب بھی پُر سوز عبارت کو سنانے نکلے
اپنی خواہش کا بھی انداز عجب ہے یارو
ہم تو صحراؤں میں اک شہر بسانے نکلے
شہر میں اب سانس لینے کے نہیں قابل ہوا
چل رہی ہے زہر میں ڈوبی ہوئی قاتل ہوا
کر نہیں سکتا جسارت اس قدر تنہا چراغ
پُھونکنے کو گھر مِرا شاید ہوئی شامل ہوا
دیکھ کر سُرخی لہو کی پتے پتے پر یہاں
ڈوب کر حیرت میں اکثر تھم گئی جھلمل ہوا
جب بھی اُمید کو کھیتوں میں اُگانے نکلے
ہم. نے دیکھا اسی مٹی سے خزانے نکلے
شہر کا شہر ہی سڑ کوں پہ اُمنڈ آیا تھا
جب بھی پُر سوز عبارت کو سُنانے نکلے
اپنی خواہش کا بھی انداز عجب ہے یارو
ہم، تو صحراؤں میں اک شہر بسانے نکلے
لٹکی ہے تیرے سر پہ جو. تلوار، مجھے کیا
ہو جائے تُو زُلفوں میں گرفتار ،مجھے کیا
میں نے بسا لیا ہے تصور میں تجھی کو
کرتا رہے وہ چاند کا دیدار، مجھے کیا
چلتی ہے مِرے شہر میں جو سر پھری آندھی
لے جائے تیرے سر سے جو دستار، مجھے کیا
غمِ دوراں میں خوشیوں کا خزانہ خواب لگتا ہے
ہمارے شہر میں اب مُسکرانا خواب لگتا ہے
وراثت پر مِری قابض ہُوا کچھ اس طرح غاصب
کہ اپنی ہی زمیں پر گھر بنانا خواب لگتا ہے
جہاں پر چہچہاہٹ کو پرندے بھی ترستے ہوں
وہاں پر امن کا پرچم اُٹھانا خواب لگتا ہے
ہمارے ذہن میں کوئی نشاں نہ تھا پہلے
تمہاری رہبری کا بھی گُماں نہ تھا پہلے
لڑی ہے حوصلوں کی جنگ ہم نے سورج سے
ہمارے سر پہ کوئی سائباں نہ تھا پہلے
تمام باغ میں دم گُھٹ رہا ہے پُھولوں کا
ہراس و خوف کا ایسا دُھواں نہ تھا پہلے
عمارت گر بھی جائے تو کھنڈر موجود رہتا ہے
کٹے ہاتھوں کا دنیا میں ہُنر موجود رہتا ہے
اگرچہ شہر میں اپنے درندے قید ہیں سارے
ہر اک بیٹی کے دل میں پھر بھی ڈر موجود رہتا ہے
بھٹک کر دشت و صحرا میں تو منزل مل ہی جاتی ہے
مگر پیروں کے چھالوں میں سفر موجود رہتا ہے
کر کے فریاد شب و روز ہیں ہارے آنسو
کس کو فرصت ہے کہ پلکوں سے اتارے آنسو
دشتِ تنہائی میں منزل جو دکھا دیتے ہیں
ان کے رخسار پہ لگتے ہیں ستارے آنسو
پیاس جسموں کی ہمارے نہ بجھی کیوں اب تک
روز آئینے سے پوچھیں یہ کنوارے آنسو
سنو کچھ دیر دریا کے کنارے بیٹھ جاؤ
بجھائیں پیاس یہ قسمت کے مارے بیٹھ جاؤ
سکوں پا جائیں گی لمحوں میں یہ موجیں تڑپتی
جو چُھو لیں پاؤں یہ نازک تمہارے، بیٹھ جاؤ
یہ پنچھی، پھول، بادل، رنگ، موسم حسرتوں سے
تمہیں ہیں دیکھتے کب سے یہ سارے بیٹھ جاؤ
منظر منظر خوف کے سائے، دُور تلک تنہائی ہے
ہونٹوں پر ہیں چُپ کے تالے سوچ بھی آج پرائی ہے
رات کی خاموشی کو چیرے انجانے قدموں کی چاپ
اندھی سی بستی میں نہ جانے کس کی شامت آئی ہے
گرم ہوا کے جھونکوں سے اب بلبل کا دم گُٹھتا ہے
پھولوں کے آنگن میں آخر کس نے آگ بچھائی ہے
چراغِ دل جلانے میں یقیناً وقت لگتا ہے
فصیلِ شب گِرانے میں یقیناً وقت لگتا ہے
کسی کو یاد کرنے میں نہیں ہے وقت کی بندش
کسی کو بُھول جانے میں یقیناً وقت لگتا ہے
یہ میرا کعبۂ دل کوئی ڈھا سکتا نہیں لیکن
ابابیلیں بُلانے میں یقیناً وقت لگتا ہے