سلگ رہا ہے کوئی شخص کیوں عبث مجھ میں
بجھے گا کیسے ابھی شعلۂ نفس مجھ میں
عجیب درد سا جاگا ہے بائیں پسلی میں
عجب شرار طلب سا ہے پیش و پس مجھ میں
میں شاخ شاخ سے لپٹوں شجر شجر چوموں
پنپ رہی ہے عجب لذت ہوس مجھ میں
سلگ رہا ہے کوئی شخص کیوں عبث مجھ میں
بجھے گا کیسے ابھی شعلۂ نفس مجھ میں
عجیب درد سا جاگا ہے بائیں پسلی میں
عجب شرار طلب سا ہے پیش و پس مجھ میں
میں شاخ شاخ سے لپٹوں شجر شجر چوموں
پنپ رہی ہے عجب لذت ہوس مجھ میں
وہ شخص کیا ہے مرے واسطے سنائیں اُسے
ہوا میں میرے حوالے سے گنگنائیں اسے
اداس راتوں میں آوارہ گرد بنجارے
ہٹا لیں بانسری ہونٹوں سے اور گائیں اسے
وہ میرا دل ہے، کوئی ریت کا گھروندا نہیں
کہ شوخ موجیں مٹائیں اسے، بنائیں اسے
بڑا مخلص ہوں، پابندِ وفا ہوں
کسی کی سادگی پر رو پڑا ہوں
مِری قیمت زمین و آسماں ہے
بہت انمول ہوں پھر بھی بِکا ہوں
چھلکتا جام ہوں پھر بھی ہوں پیاسا
میں اپنے آپ میں اک کربلا ہوں
میں اپنے آپ سے پہلے کلام کرتا ہوں
پھر اس کے بعد کوئی اور کام کرتا ہوں
میں درس دیتا ہوں سب سے بھلائی کرنے کا
میں شاعری میں محبت کو عام کرتا ہوں
امیر شخص سے ملتا ہوں فاصلے سے ذرا
غریب شخص کو پہلے سلام کرتا ہوں