Showing posts with label عبداللہ کمال. Show all posts
Showing posts with label عبداللہ کمال. Show all posts

Monday, 17 January 2022

سلگ رہا ہے کوئی شخص کیوں عبث مجھ میں

 سلگ رہا ہے کوئی شخص کیوں عبث مجھ میں

بجھے گا کیسے ابھی شعلۂ نفس مجھ میں

عجیب درد سا جاگا ہے بائیں پسلی میں

عجب شرار‌ طلب سا ہے پیش و پس مجھ میں

میں شاخ شاخ سے لپٹوں شجر شجر چوموں

پنپ رہی ہے عجب لذت ہوس مجھ میں

Saturday, 15 January 2022

وہ شخص کیا ہے مرے واسطے سنائیں اسے

 وہ شخص کیا ہے مرے واسطے سنائیں اُسے

ہوا میں میرے حوالے سے گنگنائیں اسے

اداس راتوں میں آوارہ گرد بنجارے

ہٹا لیں بانسری ہونٹوں سے اور گائیں اسے

وہ میرا دل ہے، کوئی ریت کا گھروندا نہیں

کہ شوخ موجیں مٹائیں اسے، بنائیں اسے

Monday, 10 January 2022

بڑا مخلص ہوں پابند وفا ہوں

 بڑا مخلص ہوں، پابندِ وفا ہوں

کسی کی سادگی پر رو پڑا ہوں

مِری قیمت زمین و آسماں ہے

بہت انمول ہوں پھر بھی بِکا ہوں

چھلکتا جام ہوں پھر بھی ہوں پیاسا

میں اپنے آپ میں اک کربلا ہوں

Thursday, 22 October 2020

میں شاعری میں محبت کو عام کرتا ہوں

 میں اپنے آپ سے پہلے کلام کرتا ہوں

پھر اس کے بعد کوئی اور کام کرتا ہوں

میں درس دیتا ہوں سب سے بھلائی کرنے کا

میں شاعری میں محبت کو عام کرتا ہوں

امیر شخص سے ملتا ہوں فاصلے سے ذرا

غریب شخص کو پہلے سلام کرتا ہوں

Wednesday, 2 September 2020

پلا وہ بادہ کہ سرخوش زمانہ ہو جائے

پلا وہ بادہ کہ سرخوش زمانہ ہو جائے
کشا کشِ غمِ ہستی فسانہ ہو جائے
بس اب تباہی زنداں پہ منحصر ہے قرار
نفس کو آگ لگے آشیانہ ہو جائے
خدنگِ ناز کی لذت بتاؤں کیا واعظ
خدا کرے کہیں تُو بھی نشانہ ہو جائے

اس کی جام جم آنکھیں شیشہ بدن میرا

اس کی جامِ جم آنکھیں، شیشۂ بدن میرا
اس کی بند مٹھی میں سارا بانکپن میرا
روز اپنی آنکھوں کے خواب خون کرتا ہوں
ہاۓ! کن غنیموں سے پڑا ہے رن میرا
میں نے اپنے چہرے پر سب ہنر سجائے تھے
فاش کر گیا مجھ کو سادہ پیرہن تیرا

Tuesday, 1 September 2020

وہ تو لشکر ہی کی تشکیل سے ڈر جاتے ہیں

وہ تو لشکر ہی کی تشکیل سے ڈر جاتے ہیں
خواب بنتے ہیں، ابابیل سے ڈ ر جاتے ہیں
مختصر بات میں کیا خوب کشش ہوتی ہے
ہم محبت میں بھی تفصیل سے ڈر جاتے ہیں
روز آتے ہیں کچہری میں کسی پیشی پر
اتنا عادی ہیں کہ تعطیل سے ڈر جاتے ہیں

وعدہ وصل ہے لذت انتظار اٹھا

وعدۂ وصل ہے، لذت انتظار اٹھا
اور پھر عمر بھر اک غم اعتبار اٹھا
اس کا غم میرے دل میں ہے اب بانسری کی طرح
نغمۂ درد سے زخمِ اختیار اٹھا
میں اٹھا تو فلک سے بہت چاند تارے گرے
اور صحرائے جاں میں بہت غم غبار اٹھا

Monday, 31 August 2020

جلتی رہتی ہے جو مجھ میں کسی نروان کی آگ

جلتی رہتی ہے جو مجھ میں کسی نروان کی آگ
ایک دن مجھ کو جلا ڈالے گی پہچان کی آگ
لڑکیاں لال ہوئیں، رقص میں مصروف رہیں
اپنی مٹھی میں چھپائے ہوئے لوبان کی آگ
میں نے جب ہاتھ کھڑے کر دئیے معلوم ہوا
🔥میری دہلیز تحیر پہ تھی وجدان کی آگ

دیکھو تو روشنی کے سوا اور کچھ بھی ہے

دیکھو تو روشنی کے سوا اور کچھ بھی ہے
یہ کار ہست و بود بجا اور کچھ بھی ہے
یہ کائنات اذن ہے اس کے وجود کا
سننے میں آ رہا ہے بتا اور کچھ بھی ہے
اے میرے مہربان، مِرے دوست، بند کر
کتنی ہے تیری رام کتھا اور کچھ بھی ہے

اتنا یقین رکھ کہ گماں باقی رہے

اتنا یقین رکھ کہ گماں باقی رہے
ایک ذرا کار جہاں باقی رہے
باقی رہے یادوں کی اک قوس قزح
یعنی مِری جائے اماں باقی رہے
شورشِ خوں رقصِ جنوں ختم نہ ہو
قہقہۂ ہم نفساں باقی رہے

تمہارے ہجر کا دریا عبور کرتے ہوئے

تمہارے ہجر کا دریا عبور کرتے ہوئے
میں رو پڑا تھا یہ پہلا قصور کرتے ہوئے
کسی کا لمس ضروری تھا سانس کے مانند
میں ہنس رہا تھا جسے خود سے دور کرتے ہوئے
خدا نے حسنِ تناسب بہت زیادہ دِیا
حسین اور دِکھا وہ غرور کرتے ہوئے

Thursday, 22 March 2018

ابھی گناہ کا موسم ہے آ شباب میں آ

ابھی گناہ کا موسم ہے، آ! شباب میں آ
نشہ اترنے سے پہلے مِری شراب میں آ
دھنک سی خواب سی خوشبو سی پھر برس مجھ پر
نئی غزل کی طرح تُو مِری کتاب میں آ
اٹھا نہ دیر تک احسان موسمِ گل کا
میں زندگی ہوں مجھے جی، مِرے عذاب میں آ

وعدہ وصل ہے لذت انتظار اٹھا

وعدۂ وصل ہے لذتِ انتظار اٹھا 
اور پھر عمر بھر اک غمِ اعتبار اٹھا 
اس کا غم میرے دل میں ہے اب بانسری کی طرح 
نغمۂ درد سے زخمۂ اختیار اٹھا 
میں اٹھا تو فلک سے بہت چاند تارے گرے 
اور صحرائے جاں میں بہت غم غبار اٹھا 

کسی کسی کا غزل احترام کرتی ہے

کسی کسی کا غزل احترام کرتی ہے
وگرنہ دور سے سب کو سلام کرتی ہے
زبانِ یار کی عشوہ طرازی دیکھو گے
یہ وہ بلا ہے جو کم کم خرام کرتی ہے
ہم ایسے سہل طلب کیا زباں دراز کریں
زبانِ خاص حقیقت کو عام کرتی ہے

حسین خواب نہ دے اب یقین سادہ دے

حسین خواب نہ دے اب یقین سادہ دے 
مِرے وجود کو یا رب! نیا لبادہ دے 
غمِ حیات کو پھیلا دے آسمانوں تک 
دلِ تباہ کو وسعت بھی کچھ زیادہ دے 
مجھے قرار نہ دے تو پس غبار نفس 
میں شہ سوار ہوں میدان بھی کشادہ دے