Showing posts with label انور زاہدی. Show all posts
Showing posts with label انور زاہدی. Show all posts

Monday, 6 December 2021

اب کے بار پت جھڑ بھی ہے جمال کا موسم

 اب کے بار پت جھڑ بھی ہے جمال کا موسم

آنسوؤں میں کھویا ہے پھر وصال کا موسم

رنگ تیرے گالوں کا زرد دیکھ کے اترا

دل پذیر بستی میں پھر ملال کا موسم

آہ بھرتی چلتی ہے اور کتنی آزردہ

ہے صبا خراماں پر زرد شال کا موسم

Saturday, 7 August 2021

جس سے کبھی ملا وہی دل سے اتر گیا

 جس سے کبھی ملا وہی دل سے اتر گیا

کیسا نصیب تھا مِرا، کیسے بگڑ گیا

پچھلی گلی سے آئی تھی آواز رات کو

جانے وہ کون شخص تھا جانے کدھر گیا

مدت کے بعد جھونکا ہوا کا ہوا نصیب

آیا تھا جس طرح سے وہ ویسے گزر گیا

Sunday, 2 May 2021

عشق ممکن ہی نہیں دل سے بھلایا جا سکے

 عشق ممکن ہی نہیں دل سے بھلایا جا سکے

روگ جو دل کو لگا ہے وہ مٹایا جا سکے

رینگتی ہے شام ڈھلتے سائے دن کے دیکھ کر

رات لے آئی ہے غم کو کیا بتایا جا سکے

پھر مجھے تنہائی ہی ڈستی رہے گی رات بھر

صبح جب ہو گی تو ہو گی کیسے لایا جا سکے

Saturday, 19 December 2020

اس گلی سے جو گیا تھا لوٹ کے آیا نہیں

 اس گلی سے جو گیا تھا لوٹ کے آیا نہیں

اک مہک جھونکا ہوا کا لوٹ کے آیا نہیں

بوندیوں کے راگ میں ڈوبی گلی ہے آج بھی

سحر سے کوئی نہ نکلا لوٹ کے آیا نہیں

طلسم ایسا تھا کہ سب کو کھینچ لیتی تھی گلی

اب وہ جادو نہ رہا، یا لوٹ کے آیا نہیں

Saturday, 28 November 2020

آؤ پھر ذکر فراق یار میں کھو جائیں ہم

 آؤ پھر ذکر فراق یار میں کھو جائیں ہم

تم ذرا سا گنگناؤ اور بس سو جائیں ہم

چاند نکلے آسماں پہ چاندنی بدمست ہو

بن پیۓ ہی مست خمرِ یار سے ہو جائیں ہم

چاندنی میں کھوئے رستے جس طرح الجھے سوال

در، مکاں اور کھڑکیوں کے خواب نہ بو جائیں ہم

Sunday, 1 November 2020

کبھی تتلی کے پر شمع کی لو میں خاکستر دیکھے

 کبھی تتلی کے پر

شمع کی لو میں

خاکستر دیکھے؟

جنون عشق میں

کیا طائرِ شب کو

کبھی دم توڑتے دیکھا؟

Wednesday, 30 November 2016

چلی ہوا تو کوئی یاد آ گیا پھر سے

چلی ہوا تو کوئی یاد آ گیا پھر سے
اڑی جو خاک تو آنسو رلا گیا پھر سے
ہوا کی طرح لہکتا تھا صحن گلشن میں
مہکتے سانس کو جھونکا بنا گیا پھر سے
ہر ایک دل میں تھا روشن چراغِ جاں کی طرح
ہُوا یہ کیا کہ دِئیے سب بجھا گیا پھر سے

محبتیں تھیں عجب دلنشیں فسانے تھے

محبتیں تھیں عجب دل نشیں فسانے تھے
تمہارے شہر کے موسم سبھی سہانے تھے
یہ اور بات کہ میں قیس تھا، نہ رانجھا تھا
ملے جو راہ میں عاشق سبھی دیوانے تھے
جسے بھی دیکھا وہ زلفِ حسین کا تھا اسیر
سنے تھے جتنے بھی قصے سبھی پرانے تھے

صبح خزاں ہوئی تو چلی سرد سی ہوا

صبحِ خزاں ہوئی تو چلی سرد سی ہوا
گہری اداس صبح میں وہ زرد سی ہوا
بادل کا رنگ نیلے فلک پہ اڑان میں
اور ملگجی دوپہر میں وہ درد سی ہوا
چلتی رہی تمام دن آبادیوں میں پھر 
فصل خزاں میں جھومتی اک گرد سی ہوا

وہ عہد وفا قربتوں کے خواب کیا ہوئے

وہ عہدِ وفا قربتوں کے خواب کیا ہوئے 
تشکیل جو کئے تھے وہ نصاب کیا ہوئے
ہم مل کے بدل ڈالیں گے یہ دورِ ستمگر 
نہ وہ زماں مکاں رہا، اسباب کیا ہوئے
مر مٹنے کے وعدوں کو ہوا لے گئی کہاں 
سودا ہے تیل نون کا احباب کیا ہوئے

بکھرے ہوئے سامان میں کیا ڈھونڈ رہا ہوں

بکھرے ہوئے سامان میں کیا ڈھونڈ رہا ہوں 
جو تم نے دیا عہدِ وفا ڈھونڈ رہا ہوں
ملتا ہی نہیں باد اڑا لے گئی سب کچھ 
اب بعد میں یہ کس کی ادا ڈھونڈ رہا ہوں
بس ایک مہک تیرے بدن کی رہی باقی 
شاید اسی خوشبو کو سدا ڈھونڈ رہا ہوں

Sunday, 27 November 2016

خوف کی علامت ہے رات کا سوا ہونا

خوف کی علامت ہے رات کا سوا ہونا
اس لئے تو لازم ہے ہاتھ میں دِیا ہونا
تیری یاد سے غافل کس طرح بھلا ممکن
جب تلک ہے تن پہ سر سانس کا روا ہونا
حاجتیں ضروری ہیں زندگی کے دامن میں
زندگی میں لازم ہے زندہ و بقا ہونا

آؤ پھر مل کے خواب ہو جائیں

آؤ پھر مل کے خواب ہو جائیں
دشت میں اک سراب ہو جائیں
جیسے بہتی تھی آگ پانی میں 
ایسے مثلِ حباب ہو جائیں
پھر ہوا ڈھونڈتی پھرے ہم کو 
پا سکے نہ حجاب ہو جائیں

آیا ترا خیال تو لب مثل گل ہلے

آیا تِرا خیال تو لب مثلِ گل ہِلے
آہٹ ہوئی تو ایسے لگا جیسے دل ہلے
سوچا تجهے تو حسن کا بہتا ہوا دریا
دیکها تو وقت جیسے رکا اور پَل ہلے
رستے میں دیکهنے کو مناظر کی انتہا
لیکن تِرے خیال سے ہرگز نہ دل ہلے

یقین آتا نہیں کیسے ہو گئے مٹی

یقین آتا نہیں کیسے ہو گئے مٹی 
ہوا نے درد سمیٹا تو بو گئے مٹی
صبح کا اسمِ حسیں تھے حسین سحر تم 
ڈھلی دوپہر ہوئی شام سو گئے مٹی
سپردِ خاک ہوئے تھے جہاں ادائے شہر 
پڑی جو قلب پہ تم نذر ہو گئے مٹی

شام پھر صحن میں اتر آئی

شام پھر صحن میں اتر آئی
بام و در سے اداسی گھر آئی
کیسے گزرا تھا سوچ کے یہ دن 
کس طرح چھپ کے شب سنور آئی
گم ہوئے کیسے دن میں خد و خال 
رات میں نکھرے جب وہ در آئی

Monday, 7 November 2016

شام کو صبح کا خیال ہوا

شام کو صبح کا خیال ہوا 
یاد کیا آ گیا،۔۔ ملال ہوا
رنگ میں ڈوبے ہوئے دن کیسے
ذہن میں وہ ہی رو جمال ہوا
فصلِ گل میں جمال یار نے بھی
آگ بھڑکائی جب نہال ہوا

ہمیں لکھنے کی مہلت ہی کہاں ہو گی

ہمیں لکھنے کی مہلت ہی کہاں ہو گی
محبت اس لمحے ہو گی، کہاں ہو گی
کتابوں میں رکھے جب پھول مہکیں گے 
تو خوشبو اصل پھولوں کی کہاں ہو گی
نہ جانے وقت وہ دن کون سا ہو گا 
وہ عشق و ہجر بے تابی کہاں ہو گی

Sunday, 9 October 2016

تمہیں دیکھ کے یہ گماں ہوا

تمہیں دیکھ کے یہ گماں ہوا 
دھواں ہوئی
کسی عمر میں
کبھی اس سے پہلے
ملے تھے ہم
کسی شہر میں

بارشوں کے موسم میں یاد پھر تری آئی

بارشوں کے موسم میں 
یاد پھر تِری آئی
جیسے اک اداسی کی 
لہر نے مجھے گھیرا 
اور گھٹا جو برسی تو
آنکھ پھر سے بھر آئی

انور زاہدی