اب کے بار پت جھڑ بھی ہے جمال کا موسم
آنسوؤں میں کھویا ہے پھر وصال کا موسم
رنگ تیرے گالوں کا زرد دیکھ کے اترا
دل پذیر بستی میں پھر ملال کا موسم
آہ بھرتی چلتی ہے اور کتنی آزردہ
ہے صبا خراماں پر زرد شال کا موسم
اب کے بار پت جھڑ بھی ہے جمال کا موسم
آنسوؤں میں کھویا ہے پھر وصال کا موسم
رنگ تیرے گالوں کا زرد دیکھ کے اترا
دل پذیر بستی میں پھر ملال کا موسم
آہ بھرتی چلتی ہے اور کتنی آزردہ
ہے صبا خراماں پر زرد شال کا موسم
جس سے کبھی ملا وہی دل سے اتر گیا
کیسا نصیب تھا مِرا، کیسے بگڑ گیا
پچھلی گلی سے آئی تھی آواز رات کو
جانے وہ کون شخص تھا جانے کدھر گیا
مدت کے بعد جھونکا ہوا کا ہوا نصیب
آیا تھا جس طرح سے وہ ویسے گزر گیا
عشق ممکن ہی نہیں دل سے بھلایا جا سکے
روگ جو دل کو لگا ہے وہ مٹایا جا سکے
رینگتی ہے شام ڈھلتے سائے دن کے دیکھ کر
رات لے آئی ہے غم کو کیا بتایا جا سکے
پھر مجھے تنہائی ہی ڈستی رہے گی رات بھر
صبح جب ہو گی تو ہو گی کیسے لایا جا سکے
اس گلی سے جو گیا تھا لوٹ کے آیا نہیں
اک مہک جھونکا ہوا کا لوٹ کے آیا نہیں
بوندیوں کے راگ میں ڈوبی گلی ہے آج بھی
سحر سے کوئی نہ نکلا لوٹ کے آیا نہیں
طلسم ایسا تھا کہ سب کو کھینچ لیتی تھی گلی
اب وہ جادو نہ رہا، یا لوٹ کے آیا نہیں
آؤ پھر ذکر فراق یار میں کھو جائیں ہم
تم ذرا سا گنگناؤ اور بس سو جائیں ہم
چاند نکلے آسماں پہ چاندنی بدمست ہو
بن پیۓ ہی مست خمرِ یار سے ہو جائیں ہم
چاندنی میں کھوئے رستے جس طرح الجھے سوال
در، مکاں اور کھڑکیوں کے خواب نہ بو جائیں ہم
کبھی تتلی کے پر
شمع کی لو میں
خاکستر دیکھے؟
جنون عشق میں
کیا طائرِ شب کو
کبھی دم توڑتے دیکھا؟