اب کے بار پت جھڑ بھی ہے جمال کا موسم
آنسوؤں میں کھویا ہے پھر وصال کا موسم
رنگ تیرے گالوں کا زرد دیکھ کے اترا
دل پذیر بستی میں پھر ملال کا موسم
آہ بھرتی چلتی ہے اور کتنی آزردہ
ہے صبا خراماں پر زرد شال کا موسم
اک نظر ہو گلشن کے نو دمیدہ غنچوں پر
کھلتے ہی مسل ڈالا کیا جلال کا موسم
کیا لکھو گے تم انور کوئی داستاں کیسے
شہر سوگ پہ چھایا اک مثال کا موسم
انور زاہدی
No comments:
Post a Comment