Monday, 6 December 2021

اب کے بار پت جھڑ بھی ہے جمال کا موسم

 اب کے بار پت جھڑ بھی ہے جمال کا موسم

آنسوؤں میں کھویا ہے پھر وصال کا موسم

رنگ تیرے گالوں کا زرد دیکھ کے اترا

دل پذیر بستی میں پھر ملال کا موسم

آہ بھرتی چلتی ہے اور کتنی آزردہ

ہے صبا خراماں پر زرد شال کا موسم

اک نظر ہو گلشن کے نو دمیدہ غنچوں پر

کھلتے ہی مسل ڈالا کیا جلال کا موسم

کیا لکھو گے تم انور کوئی داستاں کیسے

شہر سوگ پہ چھایا اک مثال کا موسم


انور زاہدی

No comments:

Post a Comment