کہاں لے آئے مجھ کو میں کہاں تھا
کسی مفلس کا شاید آشیاں تھا
نہیں پہچان پایا اہلِ دل کو
مبصر کی نظر میں کچھ دھواں تھا
نشاں الفت کا واحد تاج ہی ہے
گزشتہ دور میں اک شہ جہاں تھا
کہاں لے آئے مجھ کو میں کہاں تھا
کسی مفلس کا شاید آشیاں تھا
نہیں پہچان پایا اہلِ دل کو
مبصر کی نظر میں کچھ دھواں تھا
نشاں الفت کا واحد تاج ہی ہے
گزشتہ دور میں اک شہ جہاں تھا
انتظار اس کا کر بھی سکتے ہو
کر کے وعدہ مکر بھی سکتے ہو
تم اگر گھر میں آ نہیں سکتے
میرے گھر سے گزر بھی سکتے ہو
تم نے پتھر سے دل لگایا ہے
آئینہ ہو، بکھر بھی سکتے ہو
اک دیا🪔 دل میں جلاتا ہے چلا جاتا ہے
وہ مجھے دیکھ کے رکتا ہے چلا جاتا ہے
اس کے جیسا کوئی بے درد نہیں ہو سکتا
دل میں جذبات جگاتا ہے، چلا جاتا ہے
تین ہی کام محبت میں تجھے آتے ہیں
لوٹ آتا ہے، رُلاتا ہے، چلا جاتا ہے
پہلی نگاہ میں ہی وہ دل میں اتر گیا
پھر اس کے بعد دل میں جو کچھ تھا بکھر گیا
معلوم تو کرو وہ پری زاد کون ہے؟
آئینہ جس کو دیکھ کے اتنا نکھر گیا
وہ شخص جس پہ میں نے لٹا دی ہے زندگی
مہمان گھڑی بھر کا تھا، جانے کدھر گیا
اول اول خواب دکھایا جائے گا
بعد میں امیدوں کو توڑا جائے گا
یوں تو ہے امید روا سب سے لیکن
وقت حاجت سب کو پرکھا جائے گا
پیار میں خود کو اچھے سے برباد کرو
حالت بگڑے گی تو سوچا جائے گا
پردہ تمہارے رخ سے ہٹانا پڑا مجھے
یوں اپنی حسرتوں کو جگانا پڑا مجھے
میں نے تو کھیل کھیل میں توڑا تھا اس کا دل
پھر ساری عمر اس کو منانا پڑا مجھے
جب عشق اک غریب سے مجھ کو ہوا تو پھر
دل کا جو مول تھا وہ گھٹانا پڑا مجھے