Showing posts with label فیصل امتیاز. Show all posts
Showing posts with label فیصل امتیاز. Show all posts

Monday, 4 April 2022

کہاں لے آئے مجھ کو میں کہاں تھا

 کہاں لے آئے مجھ کو میں کہاں تھا

کسی مفلس کا شاید آشیاں تھا

نہیں پہچان پایا اہلِ دل کو

مبصر کی نظر میں کچھ دھواں تھا

نشاں الفت کا واحد تاج ہی ہے

گزشتہ دور میں اک شہ جہاں تھا

Saturday, 5 March 2022

انتظار اس کا کر بھی سکتے ہو

 انتظار اس کا کر بھی سکتے ہو

کر کے وعدہ مکر بھی سکتے ہو

تم اگر گھر میں آ نہیں سکتے

میرے گھر سے گزر بھی سکتے ہو

تم نے پتھر سے دل لگایا ہے

آئینہ ہو، بکھر بھی سکتے ہو

Monday, 24 January 2022

اک دیا دل میں جلاتا ہے چلا جاتا ہے

 اک دیا🪔 دل میں جلاتا ہے چلا جاتا ہے

وہ مجھے دیکھ کے رکتا ہے چلا جاتا ہے

اس کے جیسا کوئی بے درد نہیں ہو سکتا

دل میں جذبات جگاتا ہے، چلا جاتا ہے

تین ہی کام محبت میں تجھے آتے ہیں

لوٹ آتا ہے، رُلاتا ہے، چلا جاتا ہے

Wednesday, 12 January 2022

پہلی نگاہ میں ہی وہ دل میں اتر گیا

 پہلی نگاہ میں ہی وہ دل میں اتر گیا

پھر اس کے بعد دل میں جو کچھ تھا بکھر گیا

معلوم تو کرو وہ پری زاد کون ہے؟

آئینہ جس کو دیکھ کے اتنا نکھر گیا

وہ شخص جس پہ میں نے لٹا دی ہے زندگی

مہمان گھڑی بھر کا تھا، جانے کدھر گیا

Tuesday, 11 January 2022

اول اول خواب دکھایا جائے گا

 اول اول خواب دکھایا جائے گا

بعد میں امیدوں کو توڑا جائے گا

یوں تو ہے امید روا سب سے لیکن

وقت حاجت سب کو پرکھا جائے گا

پیار میں خود کو اچھے سے برباد کرو

حالت بگڑے گی تو سوچا جائے گا

Monday, 10 January 2022

پردہ تمہارے رخ سے ہٹانا پڑا مجھے

 پردہ تمہارے رخ سے ہٹانا پڑا مجھے

یوں اپنی حسرتوں کو جگانا پڑا مجھے

میں نے تو کھیل کھیل میں توڑا تھا اس کا دل

پھر ساری عمر اس کو منانا پڑا مجھے

جب عشق اک غریب سے مجھ کو ہوا تو پھر

دل کا جو مول تھا وہ گھٹانا پڑا مجھے