Saturday, 5 March 2022

انتظار اس کا کر بھی سکتے ہو

 انتظار اس کا کر بھی سکتے ہو

کر کے وعدہ مکر بھی سکتے ہو

تم اگر گھر میں آ نہیں سکتے

میرے گھر سے گزر بھی سکتے ہو

تم نے پتھر سے دل لگایا ہے

آئینہ ہو، بکھر بھی سکتے ہو

مجھے ہر لمحہ کیوں ستاتے ہو

دنیا والو! سدھر بھی سکتے ہو

ملنے جانا ہے تجھ کو کل فیصل

آج کی شام مر بھی سکتے ہو


فیصل امتیاز

No comments:

Post a Comment