Showing posts with label اقصیٰ فیض. Show all posts
Showing posts with label اقصیٰ فیض. Show all posts

Monday, 15 June 2026

زندگی پہ اب اپنا اعتبار مشکل ہے

 زندگی پہ اب اپنا اعتبار مشکل ہے

خواب میں ہی مل جاؤ انتظار مشکل ہے

عمر مختصر پہ ہے بوجھ کتنے کاموں کا

اس جہان میں دیکھو تم سے پیار مشکل ہے

تھک کے بیٹھنے والے سوچ اس کے دل کا بھی

تجھ سے زیادہ جس پر اب تیری ہار مشکل ہے

Monday, 17 November 2025

ہیں جتنے بھی روپ زندگی کے کسی پہ نہ اعتبار آیا

 ہیں جتنے بھی روپ زندگی کے کسی پہ نہ اعتبار آیا

وہاں سے دامن بچا کے گزرے جہاں پہ کوئی فرار آیا

ہوئی جو تقسیم راحتوں کی عنایتوں کی یا چاہتوں کی

کسی کے حصے میں نارسائی کسی کے بس انتظار آیا

وہ جس سے دل کے ہیں دیپ جلتے بس ایک چہرہ ہے شہر بھر میں

اس ایک چہرے پہ جانے کیسے ہمارا دل بار بار آیا

Thursday, 6 November 2025

اداسی کے جزیرے پر غموں کے سائے گہرے ہیں

 اداسی کے جزیرے پر غموں کے سائے گہرے ہیں 

نگاہوں کے سمندر میں لہو رنگ اشک ٹھہرے ہیں 

کہیں تنہائیوں نے وحشتوں سے دوستی کر لی 

کہیں دل پر گزشتہ موسموں کے اب بھی پہرے ہیں 

کہیں برکھا کی رت نے دل کی دنیا خوں میں نہلا دی 

کہیں ویران راہوں پر قدم صدیوں سے ٹھہرے ہیں 

Wednesday, 5 November 2025

دل سے اتر گئے ہیں وہ نہ ان کا نام لے

 دل سے اتر گئے ہیں وہ نہ ان کا نام لے

کچھ پل تو جی ہمارا سکوں میں قیام لے

یہ دھندلائے چہروں پہ ٹھہرا ہوا سا کرب

کوئی بڑھے اور ان کا ذرا ہاتھ تھام لے

تجھ کو ملی ہے گر کوئی نعمت تو نہ اکڑ

بہتر ہے اس سے دنیا میں اچھا سا کام لے