زندگی پہ اب اپنا اعتبار مشکل ہے
خواب میں ہی مل جاؤ انتظار مشکل ہے
عمر مختصر پہ ہے بوجھ کتنے کاموں کا
اس جہان میں دیکھو تم سے پیار مشکل ہے
تھک کے بیٹھنے والے سوچ اس کے دل کا بھی
تجھ سے زیادہ جس پر اب تیری ہار مشکل ہے
زندگی پہ اب اپنا اعتبار مشکل ہے
خواب میں ہی مل جاؤ انتظار مشکل ہے
عمر مختصر پہ ہے بوجھ کتنے کاموں کا
اس جہان میں دیکھو تم سے پیار مشکل ہے
تھک کے بیٹھنے والے سوچ اس کے دل کا بھی
تجھ سے زیادہ جس پر اب تیری ہار مشکل ہے
ہیں جتنے بھی روپ زندگی کے کسی پہ نہ اعتبار آیا
وہاں سے دامن بچا کے گزرے جہاں پہ کوئی فرار آیا
ہوئی جو تقسیم راحتوں کی عنایتوں کی یا چاہتوں کی
کسی کے حصے میں نارسائی کسی کے بس انتظار آیا
وہ جس سے دل کے ہیں دیپ جلتے بس ایک چہرہ ہے شہر بھر میں
اس ایک چہرے پہ جانے کیسے ہمارا دل بار بار آیا
اداسی کے جزیرے پر غموں کے سائے گہرے ہیں
نگاہوں کے سمندر میں لہو رنگ اشک ٹھہرے ہیں
کہیں تنہائیوں نے وحشتوں سے دوستی کر لی
کہیں دل پر گزشتہ موسموں کے اب بھی پہرے ہیں
کہیں برکھا کی رت نے دل کی دنیا خوں میں نہلا دی
کہیں ویران راہوں پر قدم صدیوں سے ٹھہرے ہیں
دل سے اتر گئے ہیں وہ نہ ان کا نام لے
کچھ پل تو جی ہمارا سکوں میں قیام لے
یہ دھندلائے چہروں پہ ٹھہرا ہوا سا کرب
کوئی بڑھے اور ان کا ذرا ہاتھ تھام لے
تجھ کو ملی ہے گر کوئی نعمت تو نہ اکڑ
بہتر ہے اس سے دنیا میں اچھا سا کام لے