تیرے بن میرا جیون فسانہ سا ہے
یہ نیا سال کتنا پرانا سا ہے
بے زمیں کو زمیں کھا رہی ہے یہاں
بے نشاں ہی تو اس کا نشانہ سا ہے
غار کے دور میں جی رہے ہیں ابھی
یہ زمانہ تو پہلا زمانہ سا ہے
تیرے بن میرا جیون فسانہ سا ہے
یہ نیا سال کتنا پرانا سا ہے
بے زمیں کو زمیں کھا رہی ہے یہاں
بے نشاں ہی تو اس کا نشانہ سا ہے
غار کے دور میں جی رہے ہیں ابھی
یہ زمانہ تو پہلا زمانہ سا ہے
مجھے یومِ محبت پر تمہیں کچھ بھی نہیں دینا
یہ تاکیدِ محبت ہے
کہ تجدیدِ محبت ہے
مگر جو کچھ بھی ہے جاناں
یہ توحیدِ محبت ہے
سو توحیدِ محبت میں بچھڑنے کا کبھی دھڑکا نہیں ہوتا
زندگی کی مُٹھی سے
ریت جب نکل جائے
بھید اپنے جیون کا
تب سمجھ میں اتا ہے
سب سمجھ میں آتا ہے
اب سمجھ میں آتا ہے
سردیوں کی بارش تو آگ جیسی ہوتی ہے
آگ جو محبت ہے
ہجر ہے، رفاقت ہے
آگ جو دہکتی ہے
آگ جو بہکتی ہے
آگ جو بھڑکتی ہے
چل عمر کی گٹھڑی کھولتے ہیں
چل عمر کی گٹھڑی کھولتے ہیں
اور دیکھتے ہیں
ان سانسوں کی تضحیک میں سے
اس ماہ و سال کی بھیک میں سے
اس ضرب، جمع، تفریق میں سے