Showing posts with label رضی الدین رضی. Show all posts
Showing posts with label رضی الدین رضی. Show all posts

Thursday, 29 December 2022

تیرے بن میرا جیون فسانہ سا ہے

 تیرے بن میرا جیون فسانہ سا ہے 

یہ نیا سال کتنا پرانا سا ہے 

بے زمیں کو زمیں کھا رہی ہے یہاں 

بے نشاں ہی تو اس کا نشانہ سا ہے

غار کے دور میں جی رہے ہیں ابھی

یہ زمانہ تو پہلا زمانہ سا ہے

Monday, 21 March 2022

مجھے یوم محبت پر تمہیں کچھ بھی نہیں دینا

 مجھے یومِ محبت پر تمہیں کچھ بھی نہیں دینا

یہ تاکیدِ محبت ہے

کہ تجدیدِ محبت ہے

مگر جو کچھ بھی ہے جاناں

یہ توحیدِ محبت ہے

سو توحیدِ محبت میں بچھڑنے کا کبھی دھڑکا نہیں ہوتا

Monday, 9 August 2021

زندگی کی مٹھی سے ریت جب نکل جائے

 زندگی کی مُٹھی سے

ریت جب نکل جائے

بھید اپنے جیون کا

تب سمجھ میں اتا ہے

سب سمجھ میں آتا ہے

اب سمجھ میں آتا ہے

Friday, 30 October 2020

سردیوں کی بارش تو آگ جیسی ہوتی ہے

 سردیوں کی بارش تو آگ جیسی ہوتی ہے

آگ جو محبت ہے

ہجر ہے، رفاقت ہے

آگ جو دہکتی ہے

آگ جو بہکتی ہے

آگ جو بھڑکتی ہے

Thursday, 15 October 2020

چل عمر کی گٹھڑی کھولتے ہیں

 چل عمر کی گٹھڑی کھولتے ہیں

چل عمر کی گٹھڑی کھولتے ہیں

اور دیکھتے ہیں

ان سانسوں کی تضحیک میں سے

اس ماہ و سال کی بھیک میں سے

اس ضرب، جمع، تفریق میں سے

Wednesday, 14 December 2016

عشق دریا میں سراسر پیاس ہے

عشق دریا میں سراسر پیاس ہے 
اب مِرے قد کے برابر پیاس ہے 
اس طرف بھی دو سلگتے پھول ہیں 
اور اِدھر بھی تو مقدر پیاس ہے 
کربلا ہو،۔ یا ہماری ذات ہو 
دیکھ تو کتنی ستمگر پیاس ہے 

کس قدر سلیقے سے خود پہ وار کرتے ہیں

کس قدر سلیقے سے خود پہ وار کرتے ہیں
موت اور محبت جو اختیار کرتے ہیں
وہ جو عشق والے تھے ہم بھی انکے جیسے ہیں
انتظار کرتے تھے، انتظار کرتے ہیں
ہجر کی اذیت کو، وصل کی لطافت کو
گر شمار کرنا ہو، بے شمار کرتے ہیں

کبھی چہرے کبھی آنکھوں سے بیاں ہوتا ہے

کبھی چہرے کبھی آنکھوں سے بیاں ہوتا ہے 
عشق کو لاکھ چھپاؤ، یہ عیاں ہوتا ہے
ہے عجب بات کہ اب تیرے کرم کا چرچا 
جہاں ہونا ہی نہیں تھا، یہ وہاں ہوتا ہے
یاد جب اسکی مِرے دل میں کبھی آتی ہے 
درد ہوتا ہے، مگر درد کہاں ہوتا ہے 

Sunday, 7 February 2016

میں اگر راہ محبت میں بھی مارا جاتا

میں اگر راہِ محبت میں بھی مارا جاتا 
ہاں مگر اس کے لبوں سے تو پکارا جاتا
عشق دریا میں سفر اپنا جو جاری رہتا
دور تک ساتھ ہمارے یہ کنارا جاتا
دو گھڑی ہم ہی زمانے سے نہ شکوہ کرتے
اس محبت میں بھرم تو نہ ہمارا جاتا

ایک مہتاب تھا پانی میں نکل آیا ہے

ایک مہتاب تھا پانی میں، نکل آیا ہے
میرا کردار کہانی میں نکل آیا ہے
ایک بے سمت مسافر تھا، روانہ تھا کہیں
بس مِری سمت روانی میں نکل آیا ہے
کون مقتل کی طرف دیکھ رہا ہے ہنس کر
کون اس سمت جوانی میں نکل آیا ہے

وہ جو رستے میں مل گیا تھا مجھے

وہ جو رستے میں مل گیا تھا مجھے
میں یہ سمجھا کہ ڈھونڈتا تھا مجھے
ایسے تکتا تھا اجنبی کی طرح
جیسے مدت سے جانتا تھا مجھے
'اس نے پوچھا 'کسے بھٹکنا ہے
'میں نے فوراً ہی کہہ دیا تھا 'مجھے

زندہ رکھا گیا ہے نہ مارا گیا مجھے

زندہ رکھا گیا ہے نہ مارا گیا مجھے
پھر کس لیے زمیں پہ اتارا گیا مجھے
معلوم تھا کہ خار ہیں، پتھر ہیں ہر طرف
ان راستوں سے پھر بھی گزارا گیا مجھے

Friday, 16 January 2015

چل عمر کی گٹھڑی کھولتے ہیں

چل عمر کی گٹھڑی کھولتے ہیں

چل عمر کی گٹھڑی کھولتے ہیں
اور دیکھتے ہیں
ان سانسوں کی تضحِیک میں سے
اس ماہ و سال کی بِھیک میں سے
اس ضرب، جمع، تفرِیق میں سے
کیا حاصل ہے، کیا لاحاصل

دکھ تو نہیں کہ تنہا مسافت میں مر گیا

دکھ تو نہیں کہ تنہا مسافت میں مر گیا
اچھا ہوا میں تیری رفاقت میں مر گیا
حاکم خود اپنے عہدِ حکومت میں مر گیا
زندہ وہی رہا جو بغاوت میں مر گیا
کچھ نفرتوں کی نذر ہوا میرا یہ وجود
باقی جو بچ گیا تھا محبت میں مر گیا

Friday, 13 September 2013

اب آنکھ سے اشکوں کی ترسیل نہیں ہوتی

اب آنکھ سے اشکوں کی ترسیل نہیں ہوتی
حالت بھی مِرے دل کی تبدیل نہیں ہوتی
ہم شرم کے ماروں کو اب شرم نہیں آتی
ذلت میں پڑے ہیں اور تذلیل نہیں ہوتی
مجھ ٹوٹے ہوئے کو پھر یہاں کون بنائے گا
تجھ سے بھی اگر میری تکمیل نہیں ہوتی