Showing posts with label شبانہ عشرت. Show all posts
Showing posts with label شبانہ عشرت. Show all posts

Monday, 20 April 2026

سزائے موت سے اب تک نجات پا نہ سکی

 سزائے موت سے اب تک نجات پا نہ سکی

میں اس کے کوچے سے اٹھ کر کہیں بھی جا نہ سکی

🍁تمام عمر پھری مثلِ برگِ آوارہ🍀

💢مِرا نصیب کہ منزل قریب آ نہ سکی💢

غموں کے وار سے لب پہ لگے تھے یوں تالے

ہزار چاہ کہ بھی میں تو مسکرا نہ سکی

Monday, 22 July 2024

وہ اب خلل بھی بہت اس جہاں میں ڈالے گا

 وہ اب خلل بھی بہت اس جہاں میں ڈالے گا

زمیں کی وحشتیں اب آسماں میں ڈالے گا

سراغِ منزلِ جاناں مٹائے گا یوں ہی

وہ انتشار بہت کارواں میں ڈالے گا

نصیب ہونے نہ دے گا سکوں کی نیند کبھی

وہ تیز دھوپ بھی اب سائباں میں ڈالے گا

Wednesday, 3 July 2024

تری رہ تکنا عادت بن گئی ہے

 تری رہ تکنا عادت بن گئی ہے

محبت تو عبادت بن گئی ہے

تِری یادوں کا اک اک پُھول چُننا

یہی اس دل کی عادت بن گئی ہے

جو پوری ہو نہ پائے زندگی بھر

عجب اس دل کی چاہت بن گئی ہے

Tuesday, 2 July 2024

سمٹنے کا ہنر کیا جانتا ہے

 سمٹنے کا ہُنر کیا جانتا ہے؟

جو اے دل تُو بکھرنا چاہتا ہے

خبر تو ہے وہ ہرجائی بہت ہے

اُسی کافر کو دل یہ مانگتا ہے

گُزر جاتا ہے بن کر اجنبی وہ

نگاہیں پھر پلٹ کر ڈالتا ہے