سزائے موت سے اب تک نجات پا نہ سکی
میں اس کے کوچے سے اٹھ کر کہیں بھی جا نہ سکی
🍁تمام عمر پھری مثلِ برگِ آوارہ🍀
💢مِرا نصیب کہ منزل قریب آ نہ سکی💢
غموں کے وار سے لب پہ لگے تھے یوں تالے
ہزار چاہ کہ بھی میں تو مسکرا نہ سکی
سزائے موت سے اب تک نجات پا نہ سکی
میں اس کے کوچے سے اٹھ کر کہیں بھی جا نہ سکی
🍁تمام عمر پھری مثلِ برگِ آوارہ🍀
💢مِرا نصیب کہ منزل قریب آ نہ سکی💢
غموں کے وار سے لب پہ لگے تھے یوں تالے
ہزار چاہ کہ بھی میں تو مسکرا نہ سکی
وہ اب خلل بھی بہت اس جہاں میں ڈالے گا
زمیں کی وحشتیں اب آسماں میں ڈالے گا
سراغِ منزلِ جاناں مٹائے گا یوں ہی
وہ انتشار بہت کارواں میں ڈالے گا
نصیب ہونے نہ دے گا سکوں کی نیند کبھی
وہ تیز دھوپ بھی اب سائباں میں ڈالے گا
تری رہ تکنا عادت بن گئی ہے
محبت تو عبادت بن گئی ہے
تِری یادوں کا اک اک پُھول چُننا
یہی اس دل کی عادت بن گئی ہے
جو پوری ہو نہ پائے زندگی بھر
عجب اس دل کی چاہت بن گئی ہے
سمٹنے کا ہُنر کیا جانتا ہے؟
جو اے دل تُو بکھرنا چاہتا ہے
خبر تو ہے وہ ہرجائی بہت ہے
اُسی کافر کو دل یہ مانگتا ہے
گُزر جاتا ہے بن کر اجنبی وہ
نگاہیں پھر پلٹ کر ڈالتا ہے