بکواس کو جانے دے نہ اتنا بھی بکے جا
ناصح تری بک بک سے تو بس پک گیا بھیجا
اس عارض تاباں کے تپِ رشک سے خورشید
تپنا تری قسمت میں ہے ہر روز تپے جا
اب دیکھیے کیا ہوتا ہے تقدیر کا لکھا
خط لکھ کے تو ہم نے بتِ نو خط کو ہے بھیجا
نباہ بات کا اس حیلہ گر سے کچھ نہ ہوا
ادھر سے کیا نہ ہوا پر ادھر سے کچھ نہ ہوا
جواب صاف تو لاتا اگر نہ لاتا خط
لکھا نصیب کا جو نامہ بر سے کچھ نہ ہوا
ہمیشہ فتنے ہی برپا کیے مِرے سر پر
ہوا یہ اور تو اس فتنہ گر سے کچھ نہ ہوا