Showing posts with label بہادر شاہ ظفر. Show all posts
Showing posts with label بہادر شاہ ظفر. Show all posts

Tuesday, 10 January 2017

بکواس کو جانے دے نہ اتنا بھی بکے جا

بکواس کو جانے دے نہ اتنا بھی بکے جا
ناصح تری بک بک سے تو بس پک گیا بھیجا
اس عارض تاباں کے تپِ رشک سے خورشید
تپنا تری قسمت میں ہے ہر روز تپے جا
اب دیکھیے کیا ہوتا ہے تقدیر کا لکھا
خط لکھ کے تو ہم نے بتِ نو خط کو ہے بھیجا

لوگ کہتے ہیں کہ وہ تم سے قریں رہتے ہیں

لوگ کہتے ہیں کہ وہ تم سے قریں رہتے ہیں
واہ ری بے خبری! ہم بھی یہیں رہتے ہیں
رہتے اک جا نہیں آوارہ تِرے جوں خورشید
صبح رہتے ہیں کہیں، شام کہیں رہتے ہیں
جلوہ دکھلاوے کبھی اپنا اٹھا کر پردہ
تیرے مشتاق ہم اے پردہ نشیں رہتے ہیں

دل اپنا اس پہ جو شیدا ہوا تو ایسا ہوا

دل اپنا اس پہ جو شیدا ہوا تو ایسا ہوا
سنا ہر اک نے یہ چرچا ہوا تو ایسا ہوا
رہا کھٹکتا رقیبوں کی آنکھوں میں عاشق
اگر وہ سوکھ کے کانٹا ہوا تو ایسا ہوا
دیا دم ایسا کہ دم ہی نکل گیا دم میں
وہ میرے حق میں مسیحا ہوا تو ایسا ہوا

درد فرقت ہے نہ ہاں منہ سے نہ ہوں نکلے ہے

دردِ فرقت ہے نہ ہاں منہ سے نہ ہوں نکلے ہے
آہ کے ساتھ جگر سے مِرے خوں نکلے ہے
سر ہتھیلی پہ دھرے پھرتے ہیں اس دم عاشق
لے بکف تیغ جو وہ کھا کے جنوں نکلے ہے
ایک عالم کے کیا اس نے ہے دل کو تسخیر
آہ کیا جادو یہ کیا چڑھ کے فسوں نکلے ہے

Tuesday, 3 January 2017

ہمارا اور عالم ہم کو اس عالم سے کیا مطلب​

ہمارا اور عالم ہم کو اس عالم سے کیا مطلب​
کسی سے کیا غرض ہم کو کسی کو ہم سے کیا مطلب​
تماشے سب جہاں کے ہم نے دیکھے ساغرِ مے میں​
قسم آنکھوں کی ساقی ہم کو جامِ جَم سے کیا مطلب​
جراحت میں مِرے کچھ نون مرچیں پیس کر بھر دو​
کہ ہے یہ زخم عاشق کا اسے مرہم سے کیا مطلب​

اسے یاروں نے میرا رقعہ جا کر دے دیا ہوتا

اسے یاروں نے میرا رقعہ جا کر دے دیا ہوتا
کھُلا گر دے نہ سکتے تھے چھپا کر دے دیا ہوتا
بگڑ جاتا تِرا کیا، سرخرو میں سب میں ہو جاتا
مجھے اک پان تو تُو نے بنا کر دے دیا ہوتا
نہ ہوتے مجھ سے تم سینہ بہ سینہ ہو کے ہمبستر
پر اک بوسہ تو منہ سے منہ بھڑا کر دے دیا ہوتا

بھلا ہے گر ہوس عشق بو الہوس نہ کرے

بھلا ہے گر ہوسِ عشق بو الہوس نہ کرے
کہ جو پتنگ کا ہے کام وہ مگس نہ کرے
نہیں ہے طاقتِ پرواز آہ، اے صیاد
خدا کرے کہ تُو اب وا درِ قفس نہ کرے
دواں ہے قافلۂ اشک سوئے ملکِ عدم
فغاں نہ کیونکہ یہ دل صورتِ جرس نہ کرے

Monday, 2 January 2017

اس جہاں میں آ کے ہم کیا کر چلے

اس جہاں میں آ کے ہم کیا کر چلے
بارِ عصیاں سر پہ اپنے دھر چلے
تُو نہ آیا اے مسیحا دم یہاں
ہم اسی حسرت میں آخر مر چلے
اس گلی میں ہم تو کیا خورشید بھی 
ڈر کے مارے کانپتا تھر تھر چلے

میں ہوں عاصی کہ پر خطا کچھ ہوں

میں ہوں عاصی کہ پُر خطا، کچھ ہوں
تیرا بندہ ہوں اے خدا کچھ ہوں
جزو کل کو نہیں سمجھتا میں
دل میں تھوڑا سا جانتا کچھ ہوں
تجھ سے الفت نباہتا ہوں میں
با وفا ہوں کہ بے وفا کچھ ہوں

یار کی کوئی خبر لاتا نہیں

یار کی کوئی خبر لاتا نہیں
دم لبوں پر ہے نکل جاتا نہیں
جی میں آتا ہے کہ میں سجدہ کروں
بے نمازی ہوں، جھکا جاتا نہیں
یا الہٰی کون سی منزل ہے وہ
جو گیا، واپس ادھر آتا نہیں

Sunday, 25 December 2016

روز ہے اک غم نیا میرے دل غمناک میں

روز ہے اک غم نیا میرے دل غمناک میں
روز ہے اک درد تازہ سینۂ صد چاک میں
تیرا صید بستہ فتراک کھل کر رہ گیا
رہ گیا لوہو کا دھبہ دامنِ فتراک میں
اشک خوں مژگاں سے ہیں اس طرح سے لپٹے ہوئے
لگ رہی جس طرح ہو آتش خش و خاشاک میں

مژدہ اے دل کہ مرے پاس وہ یار آوے گا​

مژدہ اے دل کہ مِرے پاس وہ یار آوے گا​
خاکِ راہ اس کی بنوں گا وہ سوار آوے گا​
اس لیے صید گہِ عشق میں ہم صید بنے​
کہ کبھی صید فگن بہرِ شکار آوے گا​
دیکھ اے دل تُو نہ پی جامِ محبت کی شراب​
بے مزہ ہووے گا، جس وقت خمار آوے گا​

Thursday, 1 December 2016

نباہ بات کا اس حیلہ گر سے کچھ نہ ہوا

 نباہ بات کا اس حیلہ گر سے کچھ نہ ہوا

ادھر سے کیا نہ ہوا پر ادھر سے کچھ نہ ہوا

جواب صاف تو لاتا اگر نہ لاتا خط

لکھا نصیب کا جو نامہ بر سے کچھ نہ ہوا

ہمیشہ فتنے ہی برپا کیے مِرے سر پر

ہوا یہ اور تو اس فتنہ گر سے کچھ نہ ہوا

Tuesday, 20 September 2016

عجب روش سے انہیں ہم گلے لگا کے ہنسے

عجب روِش سے انہیں ہم گلے لگا کے ہنسے
کہ گُل تمام گلستاں میں کھِلکھِلا کے ہنسے
جنہیں ہے شرم وحیا اس ہنسی پہ روتے ہیں 
وہ بے حیا ہے ہنسی پر جو بے حیا کے ہنسے
غم و الم مِرا ان کی خوشی کا باعث ہے
کہ جب ہنسے وہ مجھے خوب سا رلا کے ہنسے

گلشن میں جب ادا سے وہ رنگیں ادا ہنسے

گلشن میں جب ادا سے وہ رنگیں ادا ہنسے 
غنچے کا منہ ہے کیا کہ جو پھر اے صبا ہنسے
دیوانے کو نہیں تِرے پروا، کہ اے پری
دیوانگی پہ میری کوئی روئے یا ہنسے
روئے غمِ فِراق میں برسوں ہم، اے فلک 
گر وصل کی خوشی میں کبھی اِک ذرا ہنسے

کافر تجھے اللّٰہ نے صورت تو پری دی

کافر تجھے اللّٰہ نے صورت تو پری دی
پر حیف تِرے دل میں محبت نہ ذری دی
دی تُو نے مجھے سلطنتِ بحر و بر اے عشق
ہونٹوں کو جو خشکی مِری آنکھوں کو تَری دی
خالِ لبِ شیریں کا دیا بوسہ کب اس نے
اِک چاٹ لگانے کو مِرے نیشکری دی

Wednesday, 3 August 2016

صبح رو رو کے شام ہوتی ہے

صبح رو رو کے شام ہوتی ہے
شب تڑپ کر تمام ہوتی ہے
سامنے چشمِ مستِ ساقی کے
کس کو پروائے جام ہوتی ہے
کوئی غنچہ کھلا کے بلبل کو
بے کلی زیرِ دام ہوتی ہے

طلب ہیں عشق بتاں میں جو آبرو کرتے

طلب ہیں عشقِ بتاں میں جو آبرو کرتے
ظفر ہیں آگ سے پانی کی آرزو کرتے
اشارا اپنے جو ابرو کا وہ کبھو کرتے
ملک فلک سے پئے سجدہ سر فرو کرتے
نمازِ عشق میں جب ہم ہیں سر فرو کرتے
تو آبِ اشک سے سو بار ہیں وضو کرتے

Wednesday, 6 April 2016

کبھی بن سنور کے جو آ گئے تو بہار حسن دکھا گئے

کبھی بن سنور کے جو آ گئے تو بہارِ حسن دِکھا گئے
میرے دل کو داغ لگا گئے، یہ نیا شگوفہ کھِلا گئے
کوئی کیوں کسی کا لبھائے دل، کوئی کیوں کسی سے لگائے دل
وہ جو بیچتے تھے دوائے دل،۔ وہ دکان اپنی بڑھا گئے 
مِرے پاس آتے تھے دم بدم، وہ جدا نہ ہوتے تھے ایک دم
یہ دکھایا چرخ نے کیا ستم، کہ مجھی سے آنکھیں چرا گئے

مری جانب سے غیروں نے لگایا کچھ نہ کچھ ہو گا

مِری جانب سے غیروں نے لگایا کچھ نہ کچھ ہو گا
نہ آیا وہ تو اس کے دل میں آیا کچھ نہ کچھ ہو گا
تِری تیغِ ستم کے جو مزے سے زخم کھاتے ہیں
مزا ان کو محبت نے چکھایا کچھ نہ کچھ ہو گا 
خبر جب لائی ہو گی اس گلِ خنداں کے آنے کی
تو گلشن میں صبا نے گُل کھلایا کچھ نہ کچھ ہو گا