ایک منظر میں کئی بار اسے دیکھ کے دیکھ
دیکھنا ہے تو لگاتار اسے دیکھ کے دیکھ
کوئی سورج سے ملا پاتا ہے کب تک آنکھیں
پھر بھی اک بار لگاتار اسے دیکھ کے دیکھ
یہ کھلی آنکھ کا منظر ہی نہیں ہے مِری جاں
بند آنکھوں سے بھی اک بار اسے دیکھ کے دیکھ
ایک منظر میں کئی بار اسے دیکھ کے دیکھ
دیکھنا ہے تو لگاتار اسے دیکھ کے دیکھ
کوئی سورج سے ملا پاتا ہے کب تک آنکھیں
پھر بھی اک بار لگاتار اسے دیکھ کے دیکھ
یہ کھلی آنکھ کا منظر ہی نہیں ہے مِری جاں
بند آنکھوں سے بھی اک بار اسے دیکھ کے دیکھ
اک آب سرخ ہے اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں
لہو کہ بہتا ہے، کرتا کراتا کچھ بھی نہیں
بس اس قدر ہے کہ شاید خلاصہ کچھ بھی نہیں
ہمارا اپنا تعارف لہٰذا کچھ بھی نہیں
یہ کارگاہِ ہوس ہے یہاں پہ ہجر و وصال
فریبِ عشق ہے اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں
سانحے لاکھ سہی ہم پہ گزرنے والے
راستو! ہم بھی نہیں ڈر کے ٹھہرنے والے
مارنے والے کوئی اور سبب ڈھونڈ کہ ہم
مارے جانے کے تو ڈر سے نہیں مرنے والے
کتنی جلدی میں ہوا ختم ملاقات کا وقت
ورنہ کیا کیا تھے سوالات نہ کرنے والے
کتاب ہجر میں اک خوابِ نا رسا کی طرح
مجھے بھی لکھے کوئی جون فارہہ کی طرح
بھلے یہ ہاتھ بندھے ہیں مگر یہ کاجل ہے
سو پھیل جاتا ہے اک کاسۂ گدا کی طرح
وہ مجھ سے ملتا تھا ہر بار اپنی شرطوں پر
کبھی خطا کی طرح اور کبھی سزا کی طرح
ابر ہی ابر ہے، برستا نئیں
اب کے ساون تمہارے جیسا نئیں
خواب اور سینت کر رکھیں آنکھیں
ان سے آنسو تو اک سنبھلتا نئیں
گھومتی ہے زمین گرد مِرے
پاؤں اٹھتے ہیں رقص ہوتا نئیں
کوئی کہکشاں کہکشاں گھومتا ہے
کوئی در بدر رائیگاں گھومتا ہے
یہ کیسا نشہ ہے محبت کا تیری
میں ساکت کھڑی ہوں، جہاں گھومتا ہے
یہ ساحل بہت ہے ہمیں ڈوبنے کو
سمندر یونہی بد گماں گھومتا ہے
کوئی انہیں آواز نہ دینا اب کی بار کنارے سے
دریا واپس لوٹ رہے ہیں اپنے اپنے دھارے سے
چاند نے آنکھ مچولی کھیلی پہروں ایک ستارے سے
رات شرارت کرنے اتری سورج کے چوبارے سے
کبھی کبھی تو زخمی کرنیں ایسے مجھ تک آتی ہیں
جیسے کوئی کاٹ رہا ہو روشنیوں کو آرے سے
کوئی تارہ فلک پہ ٹوٹ گیا
پھر کسی کا نصیب پھوٹ گیا
کانچ سا ہے ترا بھروسہ بھی
شک کی آہٹ ہوئی کہ ٹوٹ گیا
بھیڑ اتنی ہے میرے چاروں طرف
مجھ سے اپنا بھی ہاتھ چھوٹ گیا
ہوا کے دوش پہ اڑتے ہوئے غبارے لوگ
گھمنڈ کرتے ہیں کس بات پر یہ سارے لوگ
تعلقات میں کچھ احتیاط لازم ہے
ہمارے آپ کے جیسے نہیں ہیں سارے لوگ
یہ فیصلہ بھی مِرے ہی خلاف ہونا تھا
مِرے ہی نام پہ اک ساتھ کیوں پکارے لوگ