Showing posts with label سیما نقوی. Show all posts
Showing posts with label سیما نقوی. Show all posts

Saturday, 18 February 2023

ایک منظر میں کئی بار اسے دیکھ کے دیکھ

 ایک منظر میں کئی بار اسے دیکھ کے دیکھ 

دیکھنا ہے تو لگاتار اسے دیکھ کے دیکھ 

کوئی سورج سے ملا پاتا ہے کب تک آنکھیں 

پھر بھی اک بار لگاتار اسے دیکھ کے دیکھ 

یہ کھلی آنکھ کا منظر ہی نہیں ہے مِری جاں 

بند آنکھوں سے بھی اک بار اسے دیکھ کے دیکھ 

Tuesday, 22 November 2022

اک آب سرخ ہے اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں

 اک آب سرخ ہے اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں

لہو کہ بہتا ہے، کرتا کراتا کچھ بھی نہیں

بس اس قدر ہے کہ شاید خلاصہ کچھ بھی نہیں

ہمارا اپنا تعارف لہٰذا کچھ بھی نہیں

یہ کارگاہِ ہوس ہے یہاں پہ ہجر و وصال

فریبِ عشق ہے اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں

Monday, 14 November 2022

سانحے لاکھ سہی ہم پہ گزرنے والے

 سانحے لاکھ سہی ہم پہ گزرنے والے

راستو! ہم بھی نہیں ڈر کے ٹھہرنے والے

مارنے والے کوئی اور سبب ڈھونڈ کہ ہم

مارے جانے کے تو ڈر سے نہیں مرنے والے

کتنی جلدی میں ہوا ختم ملاقات کا وقت

ورنہ کیا کیا تھے سوالات نہ کرنے والے

Tuesday, 22 March 2022

کتاب ہجر میں اک خواب نارسا کی طرح

 کتاب ہجر میں اک خوابِ نا رسا کی طرح

مجھے بھی لکھے کوئی جون فارہہ کی طرح

بھلے یہ ہاتھ بندھے ہیں مگر یہ کاجل ہے

سو پھیل جاتا ہے اک کاسۂ گدا کی طرح

وہ مجھ سے ملتا تھا ہر بار اپنی شرطوں پر

کبھی خطا کی طرح اور کبھی سزا کی طرح

Wednesday, 24 November 2021

ابر ہی ابر ہے برستا نئیں

 ابر ہی ابر ہے، برستا نئیں

اب کے ساون تمہارے جیسا نئیں

خواب اور سینت کر رکھیں آنکھیں

ان سے آنسو تو اک سنبھلتا نئیں

گھومتی ہے زمین گرد مِرے

پاؤں اٹھتے ہیں رقص ہوتا نئیں

Monday, 7 June 2021

کوئی کہکشاں کہکشاں گھومتا ہے

 کوئی کہکشاں کہکشاں گھومتا ہے

کوئی در بدر رائیگاں گھومتا ہے

یہ کیسا نشہ ہے محبت کا تیری

میں ساکت کھڑی ہوں، جہاں گھومتا ہے

یہ ساحل بہت ہے ہمیں ڈوبنے کو

سمندر یونہی بد گماں گھومتا ہے

Saturday, 5 December 2020

کوئی انہیں آواز نہ دینا اب کی بار کنارے سے

کوئی انہیں آواز نہ دینا اب کی بار کنارے سے

‎دریا واپس لوٹ رہے ہیں اپنے اپنے دھارے سے

‎چاند نے آنکھ مچولی کھیلی پہروں ایک ستارے سے

‎رات شرارت کرنے اتری سورج کے چوبارے سے

‎کبھی کبھی تو زخمی کرنیں ایسے مجھ تک آتی ہیں

‎جیسے کوئی کاٹ رہا ہو روشنیوں کو آرے سے

Wednesday, 7 October 2020

کوئی تارہ فلک پہ ٹوٹ گیا

 کوئی تارہ فلک پہ ٹوٹ گیا

پھر کسی کا نصیب پھوٹ گیا

کانچ سا ہے ترا بھروسہ بھی 

شک کی آہٹ ہوئی کہ ٹوٹ گیا

بھیڑ اتنی ہے میرے چاروں طرف

مجھ سے اپنا بھی ہاتھ چھوٹ گیا

Sunday, 4 October 2020

ہوا کے دوش پہ اڑتے ہوئے غبارے لوگ

 ہوا کے دوش پہ اڑتے ہوئے غبارے لوگ

گھمنڈ کرتے ہیں کس بات پر یہ سارے لوگ

تعلقات میں کچھ احتیاط لازم ہے

ہمارے آپ کے جیسے نہیں ہیں سارے لوگ

یہ فیصلہ بھی مِرے ہی خلاف ہونا تھا

مِرے ہی نام پہ اک ساتھ کیوں پکارے لوگ

Thursday, 10 September 2020

کتاب ہجر میں اک حرف نارسا کی طرح

کتابِ ہجر میں اک حرفِ نارسا کی طرح
مجھے بھی لکھے کوئی جون، فارہہ کی طرح
بھلے یہ ہاتھ بندھے ہیں، مگر یہ کاجل ہے
سو پھیل جاتا ہے اک کاسۂ گدا کی طرح
وہ مجھ سے ملتا تھا ہر بار اپنی شرطوں پر
کبھی خطا کی طرح اور کبھی سزا کی طرح

Monday, 20 February 2017

آنسو سارے زخم پرانے دھو سکتا ہے

آنسو سارے زخم پرانے دھو سکتا ہے
پانی ہی پانی کے جیسا ہو سکتا ہے
اِن آنکھوں کی گہرائ سے ڈر جاتی ہوں
کاجل بھی آنکھوں میں جا کر کھو سکتا ہے
رات کو دیکھا خواب کئی تھے خواب کے اندر
خواب میں کوئی کتنے خواب سمو سکتا ہے

کوئی شکوہ مجھے تقدیر سے بیجا نہیں تھا

کوئی شکوہ مجھے تقدیر سے بیجا نہیں تھا
وہ میرا ہو بھی سکتا تھا مگر میرا نہیں تھا
مِرا ثابت قدم رہنا ضروری ہو گیا تھا 
مِرے چاروں طرف کوئی مِرے جیسا نہیں تھا
اسی اک سمت جاتے تھے سبھی رستے ہمارے
اسی اک سمت جانے کو مگر رستہ نہیں تھا

نہ کبھی تھی نہ پھر کبھی ٹھہری

نہ کبھی تھی نہ پھر کبھی ٹھہری
بات جو تھی مگر وہی ٹھہری
مجھ کو سمجھا رہے تھے فرزانے
اور میں ایک سر پھِری ٹھہری
جیسے جھرنا ہو گیت گاتا ہوا
میرا بچپن وہی ہنسی ٹھہری

Sunday, 4 December 2016

ضد نہ ہٹ دھرمیوں کی قائل ہوں

ضد نہ ہٹ دھرمیوں کی قائل ہوں
اپنے ہی درمیان حائل ہوں
اک پرندہ ہوں میں خزاں رُت کا
اس لیے واپسی پہ مائل ہوں
بس یونہی درد سے ملا لی آنکھ
کون کہتا ہے غم سے گھائل ہوں

ایک پرچھائیں کا سہارا تھا

ایک پرچھائیں کا سہارا تھا
اور پندار پر گزارا تھا
اب بہت مطمئن ہے میرا دل
کوئی مجھ میں مجھی سے ہارا تھا
لوگ زندہ تھے داستانوں میں
اور مجھے ان کہی نے مارا تھا

Tuesday, 8 November 2016

جھاڑی جو خاک یاد میں لپٹے کھنڈر ملے

جھاڑی جو خاک یاد میں لپٹے کھنڈر مِلے
اور چند خستہ حال کتابوں میں پر ملے
جب بھی کیا سوال تو لوٹی ہوں نامراد
کہنے کو جو بھی لوگ ملے با اثر ملے
وحشت کدہ کا راستہ سنسان ہے بہت
پتھر اٹھا کے بیٹھی ہوں کب سے کہ سر ملے

صبح ازل سے شام ابد تک آنا جانا ہوتا ہے

صبحِ ازل سے شامِ ابد تک آنا جانا ہوتا ہے
منزل تک جانے کا رستہ کس نے پانا ہوتا ہے
میں اک عورت ہوں، گھر بھر کی ذمہ داری ہے میری
مردوں کو تو کام بڑے ہیں، چاند پہ جانا ہوتا ہے
میری باری میں ہی قسمت کیوں کرتی ہے من مانی
ہونے کو تو جو ہوتا ہے ایک بہانہ ہوتا ہے

کسی کے بعد کسی اور کی کمی نہ رہے

کسی کے بعد کسی اور کی کمی نہ رہے
شرابِ ہجر پئیں، اور تشنگی نہ رہے
وه چاند چھت پہ اتر آئے وقت سے پہلے 
یہ زرد شام بھی دیوار پر ٹکی نہ رہے
زمین زادوں کے بس دل رہیں ٹھکانوں پر
قیامت آئے تو امکانِ ابتری نہ رہے

Thursday, 6 October 2016

دل آشفتگاں سے کھیلتے ہیں

دلِ آشفتگاں سے کھیلتے ہیں 
مکیں ہیں اور مکاں سے کھیلتے ہیں 
مکاں اور لا مکاں کے درمیان کو 
ہٹا کر درمیاں سے کھیلتے ہیں 
چلو مٹی بھی ہو جائیں گے اک دن 
ابھی تو آسماں سے کھیلتے ہیں 

وحشت کدے کی سمت بلانے لگے مجھے

وحشت کدے کی سمت بلانے لگے مجھے
کچھ روگ اپنے آپ ہی کھانے لگے مجھے
بس اک ذرا جلایا تھا ادراک کا دِیا
سارے چراغ مِل کے بجھانے لگے مجھے
میں نے تو بس جبِین ہی رکھی تھی فرش پہ
سب کیوں سمجھ کے خاک اڑانے لگے مجھے