یہ کیا پڑی ہے تجھے دل جلوں میں بیٹھنے کی
یہ عمر تو ہے میاں! دوستوں میں بیٹھنے کی
چھپائی جاتی نہیں زردیاں سو دور ہوں میں
وگرنہ ہوتی ہے خواہش گلوں میں بیٹھنے کی
شمار میرا بھی کرتے ہیں لوگ ان میں مگر
مِری مجال کہاں شاعروں میں بیٹھنے کی
یہ کیا پڑی ہے تجھے دل جلوں میں بیٹھنے کی
یہ عمر تو ہے میاں! دوستوں میں بیٹھنے کی
چھپائی جاتی نہیں زردیاں سو دور ہوں میں
وگرنہ ہوتی ہے خواہش گلوں میں بیٹھنے کی
شمار میرا بھی کرتے ہیں لوگ ان میں مگر
مِری مجال کہاں شاعروں میں بیٹھنے کی
جھیل سکتے نہیں اب ہوا معذرت
سب چراغوں نے مل کر کہا معذرت
درد کی انتہا تک مجھے لے گیا
اور ہولے سے پھر کہہ گیا؛ معذرت
کہہ رہا ہے؛ دعا کر محبت ملے
تجھ کو دوں گا نہیں بد دعا معذرت
تُو کر کے عشق ابھی زندہ و سلامت ہے
یقین مان، یہ تیری بڑی کرامت ہے
میں خود کو یاد ہوں اب تک تو شکر بنتا ہے
مِرے حساب سے یہ ہوش کی علامت ہے
بہت تضاد ہے اس میں ہر ایک پہلو سے
وہ سرد جھیل ہے، جلوہ مگر قیامت ہے
پتھروں میں دل کے جیسی فِیل ہو، ممکن نہیں
ہر جگہ پر پیار کی ترسِیل ہو، ممکن نہیں
اس کے دل میں پیار ہو اور میرے دل میں نفرتیں
خشک صحراؤں میں کوئی جھیل ہو، ممکن نہیں
غربت و افلاس کا رونا میں روؤں کس لیے
رونے سے قسمت مِری تبدیل ہو، ممکن نہیں
خود ہے جس خواب میں وہ خواب دکھاتا ہے ہمیں
ہم ہیں خود دار بہت،۔ یاد دلاتا ہے ہمیں
ہم ہی تبدیلی کی خواہش کو جگا بیٹھے ہیں
ورنہ، حاکم تو فقط خواب دکھاتا ہے ہمیں
بھوک مِٹتی ہے، نہ انصاف کہیں ملتا ہے
یہ مدینہ کی ریاست ہے، بتاتا ہے ہمیں
بعد مرنے کے کوئی بوسۂ رخصت دے گا
کیا خدا مجھ کو بھی ایسی بھلی قسمت دے گا
زندگی ہے یہ میاں رنج و الم تو ہوں گے
جو گزارے گا وہ لازم ہے کہ قیمت دے گا
فرضی دنیا سے نکل اور حقیقت لکھ دے
شعر پرواز کرے گا تجھے عزت دے گا