Showing posts with label عابد عمر. Show all posts
Showing posts with label عابد عمر. Show all posts

Monday, 7 August 2023

یہ کیا پڑی ہے تجھے دل جلوں میں بیٹھنے کی

 یہ کیا پڑی ہے تجھے دل جلوں میں بیٹھنے کی

یہ عمر تو ہے میاں! دوستوں میں بیٹھنے کی

چھپائی جاتی نہیں زردیاں سو دور ہوں میں

وگرنہ ہوتی ہے خواہش گلوں میں بیٹھنے کی

شمار میرا بھی کرتے ہیں لوگ ان میں مگر

مِری مجال کہاں شاعروں میں بیٹھنے کی

Friday, 23 September 2022

جھیل سکتے نہیں اب ہوا معذرت

 جھیل سکتے نہیں اب ہوا معذرت

سب چراغوں نے مل کر کہا معذرت

درد کی انتہا تک مجھے لے گیا

اور ہولے سے پھر کہہ گیا؛ معذرت

کہہ رہا ہے؛ دعا کر محبت ملے

تجھ کو دوں گا نہیں بد دعا معذرت

Tuesday, 13 September 2022

تو کر کے عشق ابھی زندہ و سلامت ہے

 تُو کر کے عشق ابھی زندہ و سلامت ہے

یقین مان، یہ تیری بڑی کرامت ہے

میں خود کو یاد ہوں اب تک تو شکر بنتا ہے

مِرے حساب سے یہ ہوش کی علامت ہے

بہت تضاد ہے اس میں ہر ایک پہلو سے

وہ سرد جھیل ہے، جلوہ مگر قیامت ہے

Monday, 12 September 2022

پتھروں میں دل کے جیسی فیل ہو ممکن نہیں

 پتھروں میں دل کے جیسی فِیل ہو، ممکن نہیں

ہر جگہ پر پیار کی ترسِیل ہو، ممکن نہیں

اس کے دل میں پیار ہو اور میرے دل میں نفرتیں

خشک صحراؤں میں کوئی جھیل ہو، ممکن نہیں

غربت و افلاس کا رونا میں روؤں کس لیے

رونے سے قسمت مِری تبدیل ہو، ممکن نہیں

Sunday, 11 September 2022

خود ہے جس خواب میں وہ خواب دکھاتا ہے ہمیں

 خود ہے جس خواب میں وہ خواب دکھاتا ہے ہمیں

ہم ہیں خود دار بہت،۔ یاد دلاتا ہے ہمیں

ہم ہی تبدیلی کی خواہش کو جگا بیٹھے ہیں

ورنہ، حاکم تو فقط خواب دکھاتا ہے ہمیں

بھوک مِٹتی ہے، نہ انصاف کہیں ملتا ہے

یہ مدینہ کی ریاست ہے، بتاتا ہے ہمیں

Saturday, 22 May 2021

بعد مرنے کے کوئی بوسۂ رخصت دے گا

 بعد مرنے کے کوئی بوسۂ رخصت دے گا

کیا خدا مجھ کو بھی ایسی بھلی قسمت دے گا

زندگی ہے یہ میاں رنج و الم تو ہوں گے

جو گزارے گا وہ لازم ہے کہ قیمت دے گا

فرضی دنیا سے نکل اور حقیقت لکھ دے

شعر پرواز کرے گا تجھے عزت دے گا