Showing posts with label سلیم کاوش. Show all posts
Showing posts with label سلیم کاوش. Show all posts

Thursday, 13 June 2024

ذکر خدا نہ ہو ادا ذکر رسول کے بغیر

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ذکرِ خُدا نہ ہو ادا ذکرِ رسولﷺ کے بغیر

میری نماز نا تمام آلِؑ رسولﷺ کے بغیر

کتنا ہی غمزدہ رہوں تیرے لیے میں یا حُسینؑ

میری حیات بے ثمر تیرے اصول کے بغیر

راہ میں کربلا بنی کرب و بلا تِرے لیے

جیسے تو عازمِ سفر بلدِ وصول کے بغیر

Tuesday, 29 March 2022

بدلتے سال کا اک لمحہ نحیف تریں

 نیا سال


بدلتے سال کا اِک لمحۂ نحیف تریں

تمہارے ہِجر کے ایامِ رفتگاں لے کر

تمہارے وصل کی امیدِ جانفزا بن کر

م<رے نصیب کے تارے کو ڈھونڈنے نکلا

تمہاری یاد کے سب رتجگے تمہاری قسم

Wednesday, 2 March 2022

میری ضد میں آ کے وہ کہہ گیا

 ضد


مجھے چھوڑ کر وہ چلا تو میں کہا کہ سن

وہ نشانیاں میرے پیار کی

مِری روح کی وہ امانتیں مجھے دے کے جا

مِرے ساتھ بیتے ہوئے وہ دن

وہ جو خواب تیرے ہی نام تھے، مجھے دے کے جا

Tuesday, 1 February 2022

بنتے بنتے رک جاتے ہیں کام کئی

 بنتے بنتے رک جاتے ہیں کام کئی

ٹل جاتے ہیں خطرے اور انجام کئی

کرداروں میں جب جب باتیں ہوتی ہیں

یاد آتے ہیں بهولے بسرے نام کئی

اُمیدوں کا سونا پیتل بنتا ہے

ہم نے دیکھے ایسے صبح و شام کئی

Friday, 7 January 2022

تو پھر ایسا کبھی نہ کرنا

 تو پھر ایسا کبھی نہ کرنا


شاید کوئی تمہیں بلائے

یا تم لوٹ کے آنا چاہو

تو پھر ایسا کبھی نہ کرنا

جانا اگر ضروری بھی ہو

جاتے جاتے دروازے کو

Thursday, 25 February 2021

دنیا کی ہر چیز اچانک رک جاتی ہے

 دنیا کی ہر چیز

اچانک

رک جاتی ہے

باتیں کرتے کرتے اک دم

جب کہتے ہو

اچها، اب میں چلتا ہوں

Tuesday, 22 December 2020

آئیے تو روایتاً ہی سہی

 آئیے تو روایتاً ہی سہی

بات کیجے شکایتاً ہی سہی

فطرتاً آپ خوش مزاج بجا

مسکرائیں کفایتاً ہی سہی

عادَتاً آپ مسکرائے، مگر

چلیے ہم سے عنایتاً ہی سہی