Showing posts with label شان معراج. Show all posts
Showing posts with label شان معراج. Show all posts

Saturday, 16 May 2026

کبھی کبھی تری چاہت پہ یہ گماں گزرا

 کبھی کبھی تِری چاہت پہ یہ گُماں گُزرا 

کہ جیسے سر سے ستاروں کا سائباں گزرا 

چراغ ایسے جلا کر بُجھا گیا کوئی 

تمام دِید کا عالم دُھواں دُھواں گزرا 

جنونِ شوق میں سجدوں کی آبرُو بھی گئی 

مجھے خبر نہ ہوئی کب وہ آستاں گزرا 

Tuesday, 26 August 2025

داستاں ختم ہے اظہار وفا رہنے دو

 داستاں ختم ہے اظہار وفا رہنے دو

اب مرے واسطے جینے کی دعا رہنے دو

قربتیں پیار کی تقدیس گھٹا دیتی ہیں

پیار کو لمس کی جنت سے جدا رہنے دو

پھر کسی زخم کے کھل جائیں نہ ٹانکے دیکھو

رہنے دو تذکرۂ رسم وفا رہنے دو

Tuesday, 8 July 2025

سودا ہے جس میں اپنا انا کا وہ سر بھی دیکھ

 کیا دیکھتا ہے حال کے منظر ادھر بھی دیکھ 

ماضی کے نقش یاد کی دیوار پر بھی دیکھ 

دیکھے ہیں میرے عیب تو میرا ہنر بھی دیکھ 

سودا ہے جس میں اپنا انا کا وہ سر بھی دیکھ 

لے کام مجھ سے سخت اڑانوں کا تو مگر 

پہلے مِری نگاہ، مِرے بال و پر بھی دیکھ 

Monday, 7 July 2025

ہجر میں تیرے تصور کا سہارا ہے بہت

 ہجر میں تیرے تصور کا سہارا ہے بہت 

رات اندھیری ہی سہی پھر بھی اجالا ہے بہت 

مانگ کر میری انا کو نہیں دریا بھی قبول 

اور بے مانگ میسر ہو تو قطرہ ہے بہت 

یہ تو سچ ہے کہ شب غم کو سنوارا تم نے 

چشمِ تر نے بھی مِرا ساتھ نبھایا ہے بہت