کبھی کبھی تِری چاہت پہ یہ گُماں گُزرا
کہ جیسے سر سے ستاروں کا سائباں گزرا
چراغ ایسے جلا کر بُجھا گیا کوئی
تمام دِید کا عالم دُھواں دُھواں گزرا
جنونِ شوق میں سجدوں کی آبرُو بھی گئی
مجھے خبر نہ ہوئی کب وہ آستاں گزرا
کبھی کبھی تِری چاہت پہ یہ گُماں گُزرا
کہ جیسے سر سے ستاروں کا سائباں گزرا
چراغ ایسے جلا کر بُجھا گیا کوئی
تمام دِید کا عالم دُھواں دُھواں گزرا
جنونِ شوق میں سجدوں کی آبرُو بھی گئی
مجھے خبر نہ ہوئی کب وہ آستاں گزرا
داستاں ختم ہے اظہار وفا رہنے دو
اب مرے واسطے جینے کی دعا رہنے دو
قربتیں پیار کی تقدیس گھٹا دیتی ہیں
پیار کو لمس کی جنت سے جدا رہنے دو
پھر کسی زخم کے کھل جائیں نہ ٹانکے دیکھو
رہنے دو تذکرۂ رسم وفا رہنے دو
کیا دیکھتا ہے حال کے منظر ادھر بھی دیکھ
ماضی کے نقش یاد کی دیوار پر بھی دیکھ
دیکھے ہیں میرے عیب تو میرا ہنر بھی دیکھ
سودا ہے جس میں اپنا انا کا وہ سر بھی دیکھ
لے کام مجھ سے سخت اڑانوں کا تو مگر
پہلے مِری نگاہ، مِرے بال و پر بھی دیکھ
ہجر میں تیرے تصور کا سہارا ہے بہت
رات اندھیری ہی سہی پھر بھی اجالا ہے بہت
مانگ کر میری انا کو نہیں دریا بھی قبول
اور بے مانگ میسر ہو تو قطرہ ہے بہت
یہ تو سچ ہے کہ شب غم کو سنوارا تم نے
چشمِ تر نے بھی مِرا ساتھ نبھایا ہے بہت