ہوا میں خوش بھی بہت تھا اسی مذاق سے میں
ہر اک پرندے سے ملتا رہا تپاک سے میں
ستارے مانگنے والو! ذرا سا حوصلہ بھی
فصیل پر ہی بنا دوں فلک کو چاک سے میں
مٹھاس جو ہے بہت ہے ہر ایک رشتے میں
یہ شہد اتار کے لاتا ہوں جیسے آک سے میں
ہوا میں خوش بھی بہت تھا اسی مذاق سے میں
ہر اک پرندے سے ملتا رہا تپاک سے میں
ستارے مانگنے والو! ذرا سا حوصلہ بھی
فصیل پر ہی بنا دوں فلک کو چاک سے میں
مٹھاس جو ہے بہت ہے ہر ایک رشتے میں
یہ شہد اتار کے لاتا ہوں جیسے آک سے میں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
توحید کا دِیا ہے، اجالا علیؑ کا ہے
امکان کی حدوں پہ اجارہ علی کا ہے
روزِ الست جس نے کہا تھا علی علی
اس کی زباں پہ آج بھی نعرہ علی کا ہے
انگلی پکڑ کے جس کی چلے فخرِ انبیاء
منبع ہدایتوں کا وہ بابا علی کا ہے
حیدرؑ نے در بنایا تھا جس کی جدار میں
بانہوں کو کھولے مہدیؑ کے ہے انتظار میں
ہے آپ کے ظہور کے لمحے سے متصل
جو آخری خوشی ہے دلِ سوگوار میں
مہدی سے بچ کے جانے لگیں گے اجل کے پاس
خود منکرینِ فاطمہؑ لگ کر قطار میں
شاید گلشن پر صحرا کا سایہ ہے
ہر ٹہنی پر سراب نکل کر آیا ہے
آوازوں کا رقص ہے میرے چاروں سُو
خاموشی نے اتنا شور مچایا ہے
جھوٹ کی اس زرخیز زمیں سے ہم نے تو
کبھی نہ جو بویا تھا وہ بھی پایا ہے
کائی آ جاتی ہے جس طرح کھڑے پانی پر
باپ پڑھ لیتا ہے یوں غم مِرا پیشانی پر
یوں بھی روئے ہیں کبھی بے سر و سامانی پر
دل جو مائل نہ ہوا غم کی فراوانی پر
آنے والوں نے یہ عجلت کا سبب بتلایا
منحصر ہوتے نہیں راہ کی آسانی پر