Showing posts with label عمار زیدی. Show all posts
Showing posts with label عمار زیدی. Show all posts

Sunday, 18 January 2026

ہوا میں خوش بھی بہت تھا اسی مذاق سے میں

ہوا میں خوش بھی بہت تھا اسی مذاق سے میں

ہر اک پرندے سے ملتا رہا تپاک سے میں

ستارے مانگنے والو! ذرا سا حوصلہ بھی

فصیل پر ہی بنا دوں فلک کو چاک سے میں

مٹھاس جو ہے بہت ہے ہر ایک رشتے میں

یہ شہد اتار کے لاتا ہوں جیسے آک سے میں

Tuesday, 4 March 2025

توحید کا دیا ہے اجالا علی کا ہے

  عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


توحید کا دِیا ہے، اجالا علیؑ کا ہے

امکان کی حدوں پہ اجارہ علی کا ہے

روزِ الست جس نے کہا تھا علی علی

اس کی زباں پہ آج بھی نعرہ علی کا ہے

انگلی پکڑ کے جس کی چلے فخرِ انبیاء

منبع ہدایتوں کا وہ بابا علی کا ہے

Monday, 3 February 2025

حیدر نے در بنایا تھا جس کی جدار میں

 حیدرؑ نے در بنایا تھا جس کی جدار میں

بانہوں کو کھولے مہدیؑ کے ہے انتظار میں

ہے آپ کے ظہور کے لمحے سے متصل

جو آخری خوشی ہے دلِ سوگوار میں

مہدی سے بچ کے جانے لگیں گے اجل کے پاس

خود منکرینِ فاطمہؑ لگ کر قطار میں

Saturday, 29 June 2024

شاید گلشن پر صحرا کا سایہ ہے

 شاید گلشن پر صحرا کا سایہ ہے

ہر ٹہنی پر سراب نکل کر آیا ہے

آوازوں کا رقص ہے میرے چاروں سُو

خاموشی نے اتنا شور مچایا ہے

جھوٹ کی اس زرخیز زمیں سے ہم نے تو

کبھی نہ جو بویا تھا وہ بھی پایا ہے

Friday, 30 July 2021

باپ پڑھ لیتا ہے یوں غم مرا پیشانی پر

 کائی آ جاتی ہے جس طرح کھڑے پانی پر

باپ پڑھ لیتا ہے یوں غم مِرا پیشانی پر

یوں بھی روئے ہیں کبھی بے سر و سامانی پر

دل جو مائل نہ ہوا غم کی فراوانی پر

آنے والوں نے یہ عجلت کا سبب بتلایا

منحصر ہوتے نہیں راہ کی آسانی پر