Showing posts with label بابر رحمٰن. Show all posts
Showing posts with label بابر رحمٰن. Show all posts

Monday, 11 December 2017

کچھ کٹی غم میں کچھ خوشی سے بھی

کچھ کٹی غم میں کچھ خوشی سے بھی
ہم نہ اکتائے زندگی سے بھی
جس کا منشا فروغِ خوشبو تھا
باغ مہکا نہ اس کلی سے بھی
اور کیا چاہیے خدا جانے
ملتفت ہیں نہ بندگی سے بھی

قلب پروانگی میں ڈھل ڈھل کر

قلبِ پروانگی میں ڈھل ڈھل کر
آگ میں راکھ ہو گیا جل کر
اشک کیچڑ بچھا چکے آگے
عاشقوں کی ڈگر نہ دلدل کر
کیا نکالا نچوڑ دیکھیں تو
چار دن خوب مسئلے حل کر

ہم ڈوب ڈوب خود میں تیراک ہو گئے ہیں

جب دیکھیے یہ رخنے نمناک ہو گئے ہیں
ہم ڈوب ڈوب خود میں تیراک ہو گئے ہیں
مر مر کے جی رہے ہیں جی جی کے مر رہے ہیں
بیمار جامِ جم کے بے باک ہو گئے ہیں
نہ تم مِرے تلک ہو نہ دل ہے دسترس میں
دو دو جہاں زمیں کے افلاک ہو گئے ہیں

Sunday, 26 November 2017

ہر طرف جور و جفا رقص کناں جانیں تو

ہر طرف جور و جفا رقص کناں جانیں تو
انقلاب آئے گا، یہ لوگ ذرا جاگیں تو
میں نہیں رہنے لگا یوں بھی کسی بندش میں
وہ مجھے ملک بدر کر دیں اگر چاہیں تو
بھیج دیں درد کے اولے بھی ہماری جانب
برقِ غم مسکنِ گلفام پہ بھی ڈھائیں تو

بڑے بڑوں نے ترے در کی خاک چھانی ہے

بڑے بڑوں نے تِرے در کی خاک چھانی ہے
اسی پہ ختم خدا جانے حکمرانی ہے
اب ایک خواب کی خاطر جگر کریدے کون
کچھ اک نئی تو نہیں شکل وہ پرانی ہے
بگڑ گئے شرکاء تو مِری ستائش پر
تِرے جلوس میں کیا ذم کی قدردانی ہے

تجھ پہ میں مشتمل نہ تھا پہلے

تجھ پہ میں مشتمل نہ تھا پہلے
مجھ میں تُو منتقل نہ تھا پہلے
امن مفقود بھی نہ تھا یکسر
جور بھی مستقل نہ تھا پہلے
اب غلط کر رہے ہیں رو رو کر
غم تِرا جاں گسل نہ تھا پہلے

سب تقاضے مرے سمجھ لو جی

سب تقاضے مِرے سمجھ لو جی
آدمی ہوں مجھے سمجھ لو جی
غیر سنجیدگی نہیں خصلت
ہم نہیں منچلے، سمجھ لو جی
کارِ دنیا قلیل مہلت میں
سب دھرے کے دھرے سمجھ لو جی

Tuesday, 14 November 2017

دل نے ہم سے عجب ہی کام لیا

دل نے ہم سے عجب ہی کام لیا 
ہم کو بیچا،۔ مگر نہ دام لیا 
دل سے آخر چراغِ وصل بجھا 
کیا تمنا نے انتقام لیا؟ 
پھر کبھی وہ نہ آئی ہم کو نظر 
جس پری رُو کا ہم نے نام لیا 

فن تو آتا مجھے قرینے کا

نعتِ رسولِ مقبولﷺ

فن تو آتا مجھے قرینے کا
کاش ہوتا گدا مدینے کا
کون خوشبو مقابلہ کرتی
آپؐ کے بوند بھر پسینے کا
تر پڑے گا حدیث پڑھ لے تو
ڈوبتا ناخدا سفینے کا

مسلکوں کو مٹا دیا میں نے

مسلکوں کو مٹا دیا میں نے
کر دیا سب کو ایک سا میں نے
موت سے کھیل کر یہ اپنی جان
آپ کے نام کی بجا میں نے
اب گورا کِیا ہے مدت بعد
نام لینا نہ آپ کا میں نے

صبح تلک مر مر کے جیا تھا

صبح تلک مر مر کے جیا تھا
جلنے والا ایک دِیا تھا
یاد رہے اس پہلی ہاں کا
ذرا نہ تم نے پاس کیا تھا
آنکھوں نے وہ روئے مبارک
تکتے سمے ہی چوم لیا تھا