Showing posts with label نظر حیدرآبادی. Show all posts
Showing posts with label نظر حیدرآبادی. Show all posts

Thursday, 10 September 2026

فغاں کے ساتھ ترے راحت قرار چلے

 فغاں کے ساتھ تِرے راحت قرار چلے

نوا گرانِ وفا ہمتوں کو ہار چلے

یہ کیا کہ پھول کِھلے اور زخم رسنے لگے

ملے سکوں بھی اگر بادِ نو بہار چلے

یہ ملتفت سی نگاہیں فروغ‌ جام کے ساتھ

چلے یہ دور چلے اور بار بار چلے

Wednesday, 10 December 2025

کس توقع پہ شریک غم یاراں ہوں گے

 کس توقع پہ شریک غم یاراں ہوں گے

یاد ہم کس کو بھلا اے دل ناداں ہوں گے

رونق بزم بہت اب بھی سخنداں ہوں گے

ان میں کیا ہم سے بھی کچھ سوختہ ساماں ہوں گے

ہم پہ جو بیت گئے بیت گئی بیت گئی

کیا کہیں آپ سنیں گے تو پشیماں ہوں گے

Wednesday, 26 November 2025

قرار جاں نہیں ہیں ہم سکون دل نہیں ہیں ہم

 قرار جاں نہیں ہیں ہم سکون دل نہیں ہیں ہم

کہ شمعِ انجمن ہیں، صاحبِ محفل نہیں ہیں ہم

جہاں میں روشنی ہے آج کل جھوٹے نگینوں کی

کمالِ نقص یہ ہے ناقصِ کامل نہیں ہیں ہم

یہ قہر آلود نظریں کیوں؟ سوالِ چشمِ اُلفت پر

تمہارے شہر میں مہمان ہیں سائل نہیں ہیں ہم

Thursday, 20 November 2025

دل محو تماشائے لب بام نہیں ہے

دل محو تماشائے لب بام نہیں ہے

پیغام بہ اندازۂ پیغام نہیں ہے

اے جان گراں سیر ترا رہبر و رہزن

ہے کون اگر وقت سبک گام نہیں ہے

جو تیرے دیار‌ رخ و کاکل میں نہ گزرے

وہ صبح نہیں ہے وہ مری شام نہیں ہے

Wednesday, 19 November 2025

ساقی تھے کچھ رند یہاں کیا دیوانے مستانے سے

 ساقی تھے کچھ رند یہاں کیا دیوانے مستانے سے

دیکھ چلا وہ جام پٹک کر کون ترے میخانے سے

مست ہوئے سرشار ہوئے کیا کہیے کتنے خوار ہوئے

اب یاد ہے اتنا چھلکے تھے ان آنکھوں میں پیمانے سے

آنسو ہیں سو بہتے ہیں اور سہنے والے سہتے ہیں

کہنے والے کہتے ہیں یہ لوگ ہیں کچھ دیوانے سے