فغاں کے ساتھ تِرے راحت قرار چلے
نوا گرانِ وفا ہمتوں کو ہار چلے
یہ کیا کہ پھول کِھلے اور زخم رسنے لگے
ملے سکوں بھی اگر بادِ نو بہار چلے
یہ ملتفت سی نگاہیں فروغ جام کے ساتھ
چلے یہ دور چلے اور بار بار چلے
فغاں کے ساتھ تِرے راحت قرار چلے
نوا گرانِ وفا ہمتوں کو ہار چلے
یہ کیا کہ پھول کِھلے اور زخم رسنے لگے
ملے سکوں بھی اگر بادِ نو بہار چلے
یہ ملتفت سی نگاہیں فروغ جام کے ساتھ
چلے یہ دور چلے اور بار بار چلے
کس توقع پہ شریک غم یاراں ہوں گے
یاد ہم کس کو بھلا اے دل ناداں ہوں گے
رونق بزم بہت اب بھی سخنداں ہوں گے
ان میں کیا ہم سے بھی کچھ سوختہ ساماں ہوں گے
ہم پہ جو بیت گئے بیت گئی بیت گئی
کیا کہیں آپ سنیں گے تو پشیماں ہوں گے
قرار جاں نہیں ہیں ہم سکون دل نہیں ہیں ہم
کہ شمعِ انجمن ہیں، صاحبِ محفل نہیں ہیں ہم
جہاں میں روشنی ہے آج کل جھوٹے نگینوں کی
کمالِ نقص یہ ہے ناقصِ کامل نہیں ہیں ہم
یہ قہر آلود نظریں کیوں؟ سوالِ چشمِ اُلفت پر
تمہارے شہر میں مہمان ہیں سائل نہیں ہیں ہم
دل محو تماشائے لب بام نہیں ہے
پیغام بہ اندازۂ پیغام نہیں ہے
اے جان گراں سیر ترا رہبر و رہزن
ہے کون اگر وقت سبک گام نہیں ہے
جو تیرے دیار رخ و کاکل میں نہ گزرے
وہ صبح نہیں ہے وہ مری شام نہیں ہے
ساقی تھے کچھ رند یہاں کیا دیوانے مستانے سے
دیکھ چلا وہ جام پٹک کر کون ترے میخانے سے
مست ہوئے سرشار ہوئے کیا کہیے کتنے خوار ہوئے
اب یاد ہے اتنا چھلکے تھے ان آنکھوں میں پیمانے سے
آنسو ہیں سو بہتے ہیں اور سہنے والے سہتے ہیں
کہنے والے کہتے ہیں یہ لوگ ہیں کچھ دیوانے سے