Showing posts with label انجم رومانی. Show all posts
Showing posts with label انجم رومانی. Show all posts

Saturday, 19 March 2022

اگر ان کو ہے بھروسہ کہ ہے ساتھ اک زمانہ

 اگر ان کو ہے بھروسہ کہ ہے ساتھ اک زمانہ

تو ہمیں بھی ہے خدا سے رہ و رسمِ غائبانہ

مِری سرگزشت سن کر، جو کہا تو صرف اتنا

وہی کوہ کن کا قصہ وہی قیس کا فسانہ

یہاں دعویٔ زباں کیا، سرِ نالہ و فغاں کیا 

ہی نفس کی آمد و شد مجھے آہ کا بہانہ

Saturday, 25 December 2021

دن ہو کہ رات کنج قفس ہو کہ صحن باغ

دن ہو کہ رات کنج قفس ہو کہ صحن باغ

آلام روزگار سے حاصل نہیں فراغ

رغبت کسے کہ لیجیے عیش و طرب کا نام

فرصت کہاں کہ کیجیے صہبا سے پر ایاغ

ویرانۂ حیات میں آسودہ خاطری

کس کو ملا اس آہوئے رم خوردہ کا سراغ

Thursday, 7 October 2021

فرش سے تا عرش سارے زمانے آپ کے

 فرش سے تا عرش سارے زمانے آپﷺ کے

ساری دنیاؤں کے ہیں مخفی خزانے آپ کے

اک طرف صدیقِ اکبر اک طرف روح الامینؑ

ہمسفر کیا کیا بنائے ہیں خدا نے آپ کے

ذرہ ذرہ آپ کی سچی رسالت کا گواہ

ذرے ذرے کی زباں پر ہیں ترانے آپ کے

Monday, 12 December 2016

موسم کا آہ و نالہ سے اندازہ کیجئے

موسم کا آہ و نالہ سے اندازہ کیجئے
تازہ ہوا پہ بند نہ دروازہ کیجئے 
یا چھیڑیئے نہ منظرِ نادیدنی کا ذکر
یا مثلِ آفتاب بہم غازہ کیجئے
یا لب پہ لائیے نہ پریشانیوں کی بات
یا جمع بیٹھ کر کبھی شیرازہ کیجئے

جائے خرد نہیں ہے کہ فرزانہ چاہئے

جائے خرد نہیں ہے کہ فرزانہ چاہیے
ہُو کا مقام ہے، کوئی دیوانہ چاہیے
ہے اس میں قید شہر نہ ویرانہ
بہرِ فراغ طبعِ فقیرانہ چاہیے
گنجائشِ تصور یک لفظ بھی نہیں
یاں ہر کسی کے واسطے افسانہ چاہیے

نہیں نام و نشاں سائے کا لیکن یار بیٹھے ہیں

نہیں نام و نشاں سائے کا لیکن یار بیٹھے ہیں
اگے شاید زمیں سے خود بخود دیوار بیٹھے ہیں
سوار کشتئ امواجِ دل ہیں،۔ اور غافل ہیں
سمجھتے ہیں کہ ہم دریائے غم کے پار بیٹھے ہیں
اجاڑ ایسی نہ تھی دنیا، ابھی کل تک یہ عالم تھا
یہاں دو چار بیٹھے ہیں وہاں دو چار بیٹھے ہیں

دکھی دلوں کے لیے تازیانہ رکھتا ہے

دکھی دلوں کے لیے تازیانہ رکھتا ہے
ہر ایک شخص یہاں اک فسانہ رکھتا ہے
کسی بھی حال میں راضی نہیں ہے دل اپنا
ہر اک طرح کا یہ کافر بہانہ رکھتا ہے
ازل سے ڈھنگ ہیں دل کے عجیب سے، شاید
کسی سے رسم و رہِ غائبانہ رکھتا ہے

جہاں تک گیا کاروان خیال

جہاں تک گیا کاروانِ خیال 
نہ تھا کچھ بجز حسرتِ پائمال
مجھے تیرا تجھ کو ہے میرا خیال 
مگر زندگی پھر بھی ہے خستہ حال
جہاں تک ہے دَیر وحرم کا سوال
رہیں چپ تو مشکل، کہیں تو محال

Friday, 15 April 2016

ہے جو تاثیر سی فغاں میں ابھی

ہے جو تاثیر سی فغاں میں ابھی
لوگ باقی ہیں اس جہاں میں ابھی
دل سے اٹھتا ہے صبح و شام دھواں
کوئی رہتا ہے اس مکاں میں ابھی
ساتھ ہے ایک عمر کا، لیکن
کشمکش سی ہے جسم و جاں میں ابھی

ہے واقعہ کچھ اور روایت کچھ اور ہے

ہے واقعہ کچھ اور روایت کچھ اور ہے
یاروں کو یعنی ہم سے شکایت کچھ اور ہے
سمجھی گئی جو بات ہماری غلط تو کیا
یاں ترجمہ کچھ ہے آیت کچھ اور ہے
کچھ کم نہیں بلا سے خلافت زمین کی بھی
یا رب! مِری سزا میں رعایت کچھ اور ہے

Tuesday, 22 March 2016

ہم سے بات میں پیچ نہ ڈال

ہم سے بات میں پیچ نہ ڈال
یوں مت دل کے چور نکال
مرنا ہے تو ڈرنا کیا
چلتا ہے کیوں چور کی چال
جوگی کو لوگوں سے کام
بین بجا اور سانپ نکال

یہاں تو پھر وہی دیوار و در نکل آئے

یہاں تو پھر وہی دیوار و در نکل آئے
کدھر سے یار چلے تھے کدھر نکل آئے
کہاں کا پائے وفا اور کہاں کا دشتِ طلب
کہ اب تو رستے کئی مختصر نکل آئے
ہوا رفیق نہ بے گار شوق میں کوئی
مقامِ زر پہ کئی معتبر نکل آئے

Friday, 28 August 2015

کچھ اجنبی سے لوگ تھے کچھ اجنبی سے ہم

کچھ اجنبی سے لوگ تھے کچھ اجنبی سے ہم
دنیا میں ہو نہ پائے شناسا کسی سے ہم
دیتے نہیں سُجھائی جو دنیا کے خط و خال
آئے ہیں تیرگی میں مگر روشنی سے ہم
یاں تو ہر اک قدم پہ خلل ہے حواس کا
اے خضرؑ! باز آئے تِری ہمرہی سے ہم