عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مظلوم کی فریاد، ندا ابنِ علیؑ ہے
عظمت کے مناروں کی صدا ابنِ علیؑ ہے
سرکارِ دو عالمؐ کی کمر اس کی سواری
عظمت کے مناروں کی صدا ابنِ علیؑ ہے
ظالم کی کسی طور حمایت نہیں کرنا
اس قول کی تائید بنا ابنِ علیؑ ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مظلوم کی فریاد، ندا ابنِ علیؑ ہے
عظمت کے مناروں کی صدا ابنِ علیؑ ہے
سرکارِ دو عالمؐ کی کمر اس کی سواری
عظمت کے مناروں کی صدا ابنِ علیؑ ہے
ظالم کی کسی طور حمایت نہیں کرنا
اس قول کی تائید بنا ابنِ علیؑ ہے
کبھی چراغ کبھی سائباں بناتی ہے
ہماری شُعلگی بُجھ کر دُھواں بناتی ہے
پڑا ہو جیسے مسافر گھنیری چھاؤں میں
کسی کی یاد بھی ایسا سماں بناتی ہے
اُسے کہو کہ محبت سے دُور دُور رہے
یہ دل پہ رنج کے پختہ نشاں بناتی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بس ایک دل کہ جسے حِرص انؐ کی نعت کی تھی
وگرنہ، عمر غزل کے تصورات کی تھی
میں چُپ ہوا کہ مجھے مصلحت سمجھ آئے
وگرنہ، بات وہاں دل کی واردات کی تھی
کچھ اس لیے بھی زخم ہو گئے رفُو دل کے
جہانِ بد نظراں میں خبر ثبات کی تھی
نام تیرا میں جب جب پکارا کروں
درد دل کا میں دل سے اتارا کروں
ہے تِرے بعد تنہائی ساتھی مِری
چاہتے ہو اسے بھی تمہارا کروں
چاک سے اینٹ پر نام لکھ دوں تِرا
دیکھ کر وقت اس کو گزارا کروں