کچھ خیال آتے ہیں اور آ کے چلے جاتے ہیں
آئینہ سا مجھے دکھلا کے چلے جاتے ہیں
ساتھ مر کے بھی رہا میرے غم تنہائی
ورنہ احباب تو دفنا کے چلے جاتے ہیں
میری تنہائی کے ساتھی مِرے ساغر مینا
اب یہ بھی مجھ کو بہکا کے چلے جاتے ہیں
کچھ خیال آتے ہیں اور آ کے چلے جاتے ہیں
آئینہ سا مجھے دکھلا کے چلے جاتے ہیں
ساتھ مر کے بھی رہا میرے غم تنہائی
ورنہ احباب تو دفنا کے چلے جاتے ہیں
میری تنہائی کے ساتھی مِرے ساغر مینا
اب یہ بھی مجھ کو بہکا کے چلے جاتے ہیں
مجھ کو آئے گا کسی روز منانے والا
اتنا ظالم تو نہیں روٹھ کے جانے والا
آج کے دور میں امیدِ وفا کس سے رکھیں
دھوپ میں بیٹھا ہے خود پیڑ لگانے والا
اس پر بربادی کا الزام لگائیں کیسے
برف کے شہر میں رہتا ہے جلانے والا
اس کو آنا ہے اور بے نقاب آئے گا
جب تمنا سے میری شباب آئے گا
ظلمتوں کے پجاری کہاں جائیں گے
جب چمکتا ہوا آفتاب آئے گا
آج کل مجھ سے وہ بات کرتا نہیں
اور اب کیا زمانہ خراب آئے گا
جب نمازِ محبت ادا کیجئے
غیر کو بھی شریکِ دعا کیجئے
آنکھ والے نگاہیں چراتے نہیں
آئینہ کیوں نہ ہو، سامنا کیجئے
آنکھ میں اشکِ غم آ بھی جائیں تو کیا
چند قطرے تو ہیں، پی لیا کیجئے