گر ہو ہمت تو راستہ نہیں کچھ
بیچ میں ہے جو فاصلہ نہیں کچھ
یعنی بس اس کو دیکھتا ہوں میں
یعنی اب اور دیکھتا نہیں کچھ
کیسے دریا تھے میرے اندر بھی
اب تو بس ریت کے سوا نہیں کچھ
گر ہو ہمت تو راستہ نہیں کچھ
بیچ میں ہے جو فاصلہ نہیں کچھ
یعنی بس اس کو دیکھتا ہوں میں
یعنی اب اور دیکھتا نہیں کچھ
کیسے دریا تھے میرے اندر بھی
اب تو بس ریت کے سوا نہیں کچھ
باندھ دستار رقص کرتے ہیں
لے کے تلوار رقص کرتے ہیں
توڑتے ہیں ہر ایک پابندی
آ مِرے یار رقص کرتے ہیں
رقص کرتے ہیں اس طرح جیسے
آخری بار رقص کرتے ہیں
تُو آسمان کا تنہا ستارہ تھوڑی ہے
بس ایک تجھ پہ ہمارا گزارہ تھوڑی ہے
تمہارے حسن سے آگے بھی منزلیں ہیں بہت
یہ بحر شوق ہے اس کا کنارہ تھوڑی ہے
کسی سے بڑھ کے تمہیں ہم بھی چاہ سکتے ہیں
محبتوں پہ کسی کا اجارہ تھوڑی ہے
یہ جو ہر سُو دھواں پھیلا ہوا ہے
زمیں پر آسماں پھیلا ہوا ہے
یہ فٹ پاتھوں سے ٹُوٹے جھونپڑوں تک
ہمارا خانداں پھیلا ہوا ہے
کنویں میں کس طرح معلوم ہوتا
کہاں تک خاکداں پھیلا ہوا ہے
مجھے جانا وہاں سے آگے ہے
اک دُھندلکا جہاں سے آگے ہے
یہ زمیں تو ہے میرے قدموں میں
راستہ آسماں سے آگے ہے
جسے پیچھے سمجھ رہا تھا میں
میرے وہم و گماں سے آگے ہے
جان کر اُس سے ہار جاتے ہیں
اور، پھر قہقہے لگاتے ہیں
پھر تِری سمت لوٹ آتے ہیں
خواہ ہم جس طرف بھی جاتے ہیں
ہم سے کیسے کرے کا یار گریز
ہم تِرے راستے میں آتے ہیں
چھوڑ دینے سے نہ انکار سے کم ہوتا ہے
رنج تو رنج کے اظہار سے ہوتا ہے
یہ اندھیرا جو مِرے چاروں طرف پھیلا ہے
صرف اس شعلۂ رُخسار سے کم ہوتا ہے
سُننی ہوتی ہے مجھے زمزمہ آثار آواز
بولنا بھی تو مجھے یار سے کم ہوتا ہے
قیس معزول ہوا، میری بحالی ہوئی ہے
مسندِ عشق مرے واسطے خالی ہوئی ہے
مزرعۂ چشم کو رکھتا ہوں ہمیشہ سیراب
میں نے دریا سے کوئی نہر نکالی ہوئی ہے
لے کے جا مجھ کو کسی اور ہی سیارے پر
یہ جو دنیا ہے بہت میں نے کھنگالی ہوئی ہے
ہوا میں تیر چلاتے ہیں، خواب دیکھتے ہیں
کہ ہم تو خواب دکھاتے ہیں خواب دیکھتے ہیں
چلو، کہ اب تو کوئی کام بھی نہیں کرنا
چلو چراغ بجھاتے ہیں خواب دیکھتے ہیں
اک ایسا شہر، جہاں ہر طرف محبت ہو
وہ شہر روز بناتے ہیں، خواب دیکھتے ہیں