Showing posts with label محمد حنیف. Show all posts
Showing posts with label محمد حنیف. Show all posts

Wednesday, 28 July 2021

گر ہو ہمت تو راستہ نہیں کچھ

 گر ہو ہمت تو راستہ نہیں کچھ

بیچ میں ہے جو فاصلہ نہیں کچھ

یعنی بس اس کو دیکھتا ہوں میں

یعنی اب اور دیکھتا نہیں کچھ

کیسے دریا تھے میرے اندر بھی

اب تو بس ریت کے سوا نہیں کچھ

Sunday, 27 June 2021

باندھ دستار رقص کرتے ہیں

 باندھ دستار رقص کرتے ہیں

لے کے تلوار رقص کرتے ہیں

توڑتے ہیں ہر ایک پابندی

آ مِرے یار رقص کرتے ہیں

رقص کرتے ہیں اس طرح جیسے

آخری بار رقص کرتے ہیں

Sunday, 30 May 2021

تو آسمان کا تنہا ستارہ تھوڑی ہے

 تُو آسمان کا تنہا ستارہ تھوڑی ہے

بس ایک تجھ پہ ہمارا گزارہ تھوڑی ہے

تمہارے حسن سے آگے بھی منزلیں ہیں بہت

یہ بحر شوق ہے اس کا کنارہ تھوڑی ہے

کسی سے بڑھ کے تمہیں ہم بھی چاہ سکتے ہیں

محبتوں پہ کسی کا اجارہ تھوڑی ہے

Thursday, 27 May 2021

یہ جو ہر سو دھواں پھیلا ہوا ہے

 یہ جو ہر سُو دھواں پھیلا ہوا ہے

زمیں پر آسماں پھیلا ہوا ہے

یہ فٹ پاتھوں سے ٹُوٹے جھونپڑوں تک

ہمارا خانداں پھیلا ہوا ہے

کنویں میں کس طرح معلوم ہوتا

کہاں تک خاکداں پھیلا ہوا ہے

Sunday, 9 May 2021

مجھے جانا وہاں سے آگے ہے

 مجھے جانا وہاں سے آگے ہے

اک دُھندلکا جہاں سے آگے ہے

یہ زمیں تو ہے میرے قدموں میں

راستہ آسماں سے آگے ہے

جسے پیچھے سمجھ رہا تھا میں

میرے وہم و گماں سے آگے ہے

Sunday, 2 May 2021

جان کر اس سے ہار جاتے ہیں

 جان کر اُس سے ہار جاتے ہیں

اور، پھر قہقہے لگاتے ہیں

پھر تِری سمت لوٹ آتے ہیں

خواہ ہم جس طرف بھی جاتے ہیں

ہم سے کیسے کرے کا یار گریز

ہم تِرے راستے میں آتے ہیں

Wednesday, 21 April 2021

چھوڑ دینے سے نہ انکار سے کم ہوتا ہے

 چھوڑ دینے سے نہ انکار سے کم ہوتا ہے

رنج تو رنج کے اظہار سے ہوتا ہے

یہ اندھیرا جو مِرے چاروں طرف پھیلا ہے

صرف اس شعلۂ رُخسار سے کم ہوتا ہے

سُننی ہوتی ہے مجھے زمزمہ آثار آواز

بولنا بھی تو مجھے یار سے کم ہوتا ہے

Sunday, 29 November 2020

قیس معزول ہوا میری بحالی ہوئی ہے

 قیس معزول ہوا، میری بحالی ہوئی ہے

مسندِ عشق مرے واسطے خالی ہوئی ہے

مزرعۂ چشم کو رکھتا ہوں ہمیشہ سیراب

میں نے دریا سے کوئی نہر نکالی ہوئی ہے

لے کے جا مجھ کو کسی اور ہی سیارے پر

یہ جو دنیا ہے بہت میں نے کھنگالی ہوئی ہے

Saturday, 28 November 2020

ہوا میں تیر چلاتے ہیں خواب دیکھتے ہیں

 ہوا میں تیر چلاتے ہیں، خواب دیکھتے ہیں

کہ ہم تو خواب دکھاتے ہیں خواب دیکھتے ہیں

چلو، کہ اب تو کوئی کام بھی نہیں کرنا

چلو چراغ بجھاتے ہیں خواب دیکھتے ہیں

اک ایسا شہر، جہاں ہر طرف محبت ہو

وہ شہر روز بناتے ہیں، خواب دیکھتے ہیں