Friday, 4 September 2026

درد کی جب انتہا ہو جائے گی

 درد کی جب انتہا ہو جائے گی

انتہا خود ہی دوا ہو جائے گی

رابطہ رکھیے غموں سے خود بخود

زندگی غم آشنا ہو جائے گی

کر نہ اے دل شکوۂ جور و جفا

ورنہ توہین وفا ہو جائے گی

چھوڑ دو گے ساتھ اگر تم بھی مِرا

زندگی بے آسرا ہو جائے گی

کیا خبر تھی سرخیٔ خونِ جگر

صورتِ رنگِ حِنا ہو جائے گی

حوصلہ رکھیے کبھی آسان بھی

منزل راہِ وفا ہو جائے گی

ناز ہستی پر نصیر اتنا نہ کر

اک نہ اک دن یہ فنا ہو جائے گی


نصیر انصاری

No comments:

Post a Comment