درد کی جب انتہا ہو جائے گی
انتہا خود ہی دوا ہو جائے گی
رابطہ رکھیے غموں سے خود بخود
زندگی غم آشنا ہو جائے گی
کر نہ اے دل شکوۂ جور و جفا
ورنہ توہین وفا ہو جائے گی
چھوڑ دو گے ساتھ اگر تم بھی مِرا
زندگی بے آسرا ہو جائے گی
کیا خبر تھی سرخیٔ خونِ جگر
صورتِ رنگِ حِنا ہو جائے گی
حوصلہ رکھیے کبھی آسان بھی
منزل راہِ وفا ہو جائے گی
ناز ہستی پر نصیر اتنا نہ کر
اک نہ اک دن یہ فنا ہو جائے گی
نصیر انصاری
No comments:
Post a Comment