Showing posts with label رئیس علوی. Show all posts
Showing posts with label رئیس علوی. Show all posts

Wednesday, 9 March 2022

گلا بیٹھا ہے کٹنے کی ہوس میں ہچکیاں بھر کر

گلا بیٹھا ہے کٹنے کی ہوس میں ہچکیاں بھر کر 

چلا ہے کوئی ترکش میں قفس کی تیلیاں بھر کر 

کھڑے ہو بارشوں کی آس میں کیا کشت دل والو 

کوئی بیٹھا ہوا ہے بادلوں میں بجلیاں بھر کر 

یہاں تو حرف کا ہونٹوں پہ آتے دم نکلتا ہے 

دل دیوانہ دامن میں چلا ہے عرضیاں بھر کر 

Wednesday, 2 March 2022

جب دل میں غرور آئے تو دانائی بھی کیا ہے

نمکینیات


 جب دل میں غرور آئے تو دانائی بھی کیا ہے

جب رات اندھیری ہو تو بینائی بھی کیا ہے

جب ڈوبنا ٹھہرا ہے تو طوفاں کا کسے خوف

جب اشک سمندر ہوں تو گہرائی بھی کیا ہے

جب زخم ہوں سینے میں تو پھر درد ہے کیا چیز

گلشن میں مِرے موج ہوا لائی بھی کیا ہے

Friday, 17 December 2021

ہم ہوئے تصویر اب پہلا سا وہ عالم کہاں

 ہم ہوئے تصویر، اب پہلا سا وہ عالم کہاں

رنگ ہیں سب پیرہن میں کھو گئے ہیں ہم کہاں

مضمحل ہے صبح کا شعلہ، دھواں ہے دشت پر

دیکھنا ہے اڑ کے جاتی ہے مگر شبنم کہاں

دستِ قاتل کے لیے ہونٹوں پہ اب بھی مرحبا

خونِ اہلِ دل کی خاطر سینۂ ماتم کہاں

Thursday, 16 December 2021

متاع آبرو لے کر عطا سے کچھ نہیں ہوتا

 متاعِ آبرو لے کر عطا سے کچھ نہیں ہوتا

بہا ہو خونِ دل تو خوں بہا سے کچھ نہیں ہوتا

مزاجِ دل بگڑ جائے تو پھر اے مہرباں! سنیۓ

جفا سے کچھ نہیں ہوتا، وفا سے کچھ نہیں ہوتا

سرِ مقتل تمہارے کارنامے سب نے دیکھے ہیں

سرِ منبر بہت آہ و بکا سے کچھ نہیں ہوتا

Wednesday, 15 December 2021

کہیں پہ قیس کہیں کوہ کن میاں لکھا

 کہیں پہ قیس، کہیں کوہ کن میاں لکھا

تمہارے شوق نے کیا کیا کہاں کہاں لکھا

لکھا تمہیں نے قفس کو مقامِ آگاہی

وصالِ دار کی شب صبح کی اذاں لکھا

لکھا تمہیں نے لہو سے کمالِ گویائی

تم ہی نے خنجرِ قاتل کو ہے زباں لکھا

Friday, 30 July 2021

قرار دل فسانہ ہو گیا ہے

 قرارِ دل فسانہ ہو گیا ہے

تمہیں دیکھے زمانہ ہو گیا ہے

تمہارے وعدۂ فردا کا حیلہ

قیامت کا بہانہ ہو گیا ہے

پرانے دوستوں کے گھر سنا ہے

تمہارا آنا جانا ہو گیا ہے