گلا بیٹھا ہے کٹنے کی ہوس میں ہچکیاں بھر کر
چلا ہے کوئی ترکش میں قفس کی تیلیاں بھر کر
کھڑے ہو بارشوں کی آس میں کیا کشت دل والو
کوئی بیٹھا ہوا ہے بادلوں میں بجلیاں بھر کر
یہاں تو حرف کا ہونٹوں پہ آتے دم نکلتا ہے
دل دیوانہ دامن میں چلا ہے عرضیاں بھر کر
گلا بیٹھا ہے کٹنے کی ہوس میں ہچکیاں بھر کر
چلا ہے کوئی ترکش میں قفس کی تیلیاں بھر کر
کھڑے ہو بارشوں کی آس میں کیا کشت دل والو
کوئی بیٹھا ہوا ہے بادلوں میں بجلیاں بھر کر
یہاں تو حرف کا ہونٹوں پہ آتے دم نکلتا ہے
دل دیوانہ دامن میں چلا ہے عرضیاں بھر کر
نمکینیات
جب دل میں غرور آئے تو دانائی بھی کیا ہے
جب رات اندھیری ہو تو بینائی بھی کیا ہے
جب ڈوبنا ٹھہرا ہے تو طوفاں کا کسے خوف
جب اشک سمندر ہوں تو گہرائی بھی کیا ہے
جب زخم ہوں سینے میں تو پھر درد ہے کیا چیز
گلشن میں مِرے موج ہوا لائی بھی کیا ہے
ہم ہوئے تصویر، اب پہلا سا وہ عالم کہاں
رنگ ہیں سب پیرہن میں کھو گئے ہیں ہم کہاں
مضمحل ہے صبح کا شعلہ، دھواں ہے دشت پر
دیکھنا ہے اڑ کے جاتی ہے مگر شبنم کہاں
دستِ قاتل کے لیے ہونٹوں پہ اب بھی مرحبا
خونِ اہلِ دل کی خاطر سینۂ ماتم کہاں
متاعِ آبرو لے کر عطا سے کچھ نہیں ہوتا
بہا ہو خونِ دل تو خوں بہا سے کچھ نہیں ہوتا
مزاجِ دل بگڑ جائے تو پھر اے مہرباں! سنیۓ
جفا سے کچھ نہیں ہوتا، وفا سے کچھ نہیں ہوتا
سرِ مقتل تمہارے کارنامے سب نے دیکھے ہیں
سرِ منبر بہت آہ و بکا سے کچھ نہیں ہوتا
کہیں پہ قیس، کہیں کوہ کن میاں لکھا
تمہارے شوق نے کیا کیا کہاں کہاں لکھا
لکھا تمہیں نے قفس کو مقامِ آگاہی
وصالِ دار کی شب صبح کی اذاں لکھا
لکھا تمہیں نے لہو سے کمالِ گویائی
تم ہی نے خنجرِ قاتل کو ہے زباں لکھا
قرارِ دل فسانہ ہو گیا ہے
تمہیں دیکھے زمانہ ہو گیا ہے
تمہارے وعدۂ فردا کا حیلہ
قیامت کا بہانہ ہو گیا ہے
پرانے دوستوں کے گھر سنا ہے
تمہارا آنا جانا ہو گیا ہے