Monday, 14 September 2026

جو ترے در پہ دوانے سے آئے بیٹھے ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جو تِرے در پہ، دِوانے سے آئے بیٹھے ہیں

وہ اپنی لو بھی تجھی سے لگائے بیٹھے ہیں

فقط حضورﷺ کا اُسوہ ہے جن کے پیش نظر

جبینیں اپنی ادب سے جھکائے بیٹھے ہیں

طلب سے بڑھ کے ملی ان کو ہے پذیرائی

ردائیں اوڑھ کے جو منہ چھپائے بیٹھے ہیں

زمیں جو زیرِ قدم آئے آسماں ٹھہرے

وہ رازِ رب دو عالم چھپائے بیٹھے ہیں

جہاں بھی جایئے ان کے کرم کے چرچے ہیں

وہ کُل جہان کو اپنا بنائے بیٹھے ہیں

نصیر شافعِ محشر وہی تو ٹھہرے ہیں

جو عاصیوں کو بھی اپنا بنائے بیٹھے ہیں


نصیر احمر

No comments:

Post a Comment