کھوئے کھوئے حواس رہتے ہیں
جانے ہم کیوں اداس رہتے ہیں
تجھ سے ہو کر جدا بھی اے ظالم
ہم تِرے آس پاس رہتے ہیں
تشنگی اپنی کم نہیں ہوتی
جام ہاتھوں کے پاس رہتے ہیں
نہ برس پائے، ابر اُڑ جائے
کچھ لگائے تو آس رہتے ہیں
شکر عالم ہے بس کے آنکھوں کی
وہ بُجھائے تو پیاس رہتے ہیں
عالم بریلوی
مقصود عالم خاں
No comments:
Post a Comment