Monday, 7 September 2026

کھوئے کھوئے حواس رہتے ہیں

 کھوئے کھوئے حواس رہتے ہیں

جانے ہم کیوں اداس رہتے ہیں

تجھ سے ہو کر جدا بھی اے ظالم

ہم تِرے آس پاس رہتے ہیں

تشنگی اپنی کم نہیں ہوتی

جام ہاتھوں کے پاس رہتے ہیں

نہ برس پائے، ابر اُڑ جائے

کچھ لگائے تو آس رہتے ہیں

شکر عالم ہے بس کے آنکھوں کی

وہ بُجھائے تو پیاس رہتے ہیں


عالم بریلوی

مقصود عالم خاں

No comments:

Post a Comment